غسل کے فرائض


اسلام میں غسل کے تین فرائض ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، اور پورے جسم پر پانی بہانا۔ ان تینوں میں سے اگر ایک فرض بھی کسی بھی وجہ سے رہ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔

غسل کے تین فرائض 

کلی کرنا: 

منہ کے ہر حصے اور حلق کی جڑ تک پانی کا پہنچنا 


ناک میں پانی چڑھانا:

 ناک کے نرم حصے (نرم ہڈی) تک پانی کا اچھی طرح پہنچنا۔


تمام جسم پر پانی بہانا:

 سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلوؤں تک پورے بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔

بدن کا اگر ایک بال یا بال برابر جسم کا کوئی حصہ بھی خشک رہ جائے تو غسل نہیں ہوگا اور انسان بدستور ناپاک رہے گا۔ ناک، کان کے سوراخوں میں پانی پہنچانا بھی فرض ہے، انگوٹھی چھلّہ اگر تنگ ہوں تو اس کو ہلا کر اس کے نیچے پانی پہنچانا بھی لازم ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

بعض خواتین ناخن پالش وغیرہ جیسی چیزیں استعمال کرتی ہیں جو بدن تک پانی پہنچنے نہیں دیتیں، غسل میں ان چیزوں کو اُتار کر پانی پہنچانا ضروری ہے۔ بعض اوقات بے خیالی میں ناخنوں کے اندر آٹا لگا رہ جاتا ہے اس کی وجہ سے پانی ناخنوں تک نہیں پہنچتا ایسی صورت میں اس کو نکالنا بھی ضروری ہے۔ الغرض! پورے جسم پر پانی بہانا اور جو چیزیں پانی کے بدن تک پہنچنے میں رُکاوٹ ہیں ان کو ہٹانا ضروری ہے، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔

عورتوں کے سر کے بال اگر گندھے ہوئے ہوں تو بالوں کو کھول کر ان کو تر کرنا ضروری نہیں، بلکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا لینا کافی ہے، لیکن اگر بال گندھے ہوئے نہ ہوں (جیسا کہ آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو سارے بالوں کو اچھی طرح تر کرنا بھی ضروری ہے۔

Share: