غسل میں پانچ اعمال ایسے ھیں جنہیں سنت کا مقام حاصل ھے اگر تھوڑا سا بھی دھیان دیں گے تو بآسانی پانچ سنتوں کا ثواب حاصل ھو جائے گا گو سنت کے چھوٹنے سے غسل تو ھو جائے گا لیکن سنت کے ثواب سے محرومی بہرحال ھو گی اس لئے غسل کرتے وقت غسل کی سنتوں کا ضرور اھتمام کرنا چاھیے
غسل کی پانچ سنتیں
ہاتھ دھونا:
دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک اچھی طرح تین مرتبہ دھونا۔
استنجا کرنا:
شرمگاہ یا بدن پر لگی ھوئی نجاست کو اھتمام سے اچھی طرح دھونا۔
نیت کرنا:
دل میں ناپاکی دور کرنے کی نیت کرنا۔ دل ھی سے پاکی حاصل کرنے کی نیت کرنا کافی ھے
وضو کرنا:
غسل سے پہلے نماز کی طرح وضو کرنا بھی غسل کی ایک سنت ھے ۔ اگر ایسی جگہ غسل کر رھا ھو جہاں نیچے پانی جمع ھو رھا ھے تو پاؤں کو بعد میں دھو لے
پورے جسم پر پانی بہانا:
پورے جسم پر تین بار اس طرح پانی بہانا کہ جسم کا کوئی بھی حصہ خشک نہ رھے۔ غسل کے فرائض میں یہ بات گزر چکی ھے کہ بال برابر بھی جسم کا حصہ اگر خشک رہ گیا تو غسل نہیں ھو گا سو اس کا خوب اھتمام کرنا چاھیے ۔
غسل کی سنتوں پر عمل کرنے کا بنیادی ثواب یہ ہے کہ غسل محض جسم دھونے یا عام صفائی کا کام نہیں رہتا بلکہ ایک باقاعدہ عبادت بن جاتا ہے اور انسان کو سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے کا عظیم اجر حاصل ہوتا ہے۔“غسل کے فرائض ادا کرنے سے غسل توصحیح ہوجاتا ھے کیونکہ پاکی کے حصول کے لیے غسلِ مسنون شرط نہیں ہے، لیکن سنتوں پر عمل کرنے کے ثواب سے محرومی رہےگی۔” سنتوں پر عمل کرنے کی ھر ممکن کوشش کرنی چاھیے کیونکہ سنتوں کو چھوڑنے کا معمول بنانا ثواب سے محرومی کی شکل میں بہت نقصان دہ ہے۔ اس لئے سنتوں کو سیکھ کر مستقلاً اپنے معمول میں لانا چاھیے