جو چیزیں وضو میں مسنون ومستحب ہیں وہ غسل اور اس کے وضو میں بھی مسنون ومستحب ہیں اور غسل کے آداب بھی وہی ہیں جو وضو کے آداب ہیں سوائے ننگا نہانے کی صورت میں قبلہ رو ہونے اور اذکار ودعائیں پڑھنے اور غسل کا بچا ہوا پانی کھڑا ہو کر پینے کے ، کہ یہ امور غسل میں مستحب نہیں ھیں بلکہ مکروہ ہیں۔
غسل کے مستحبات کا بھی یہی حکم ھے کہ جو ان کا اھتمام کرے گا اسے ان شاء اللہ اللہ تعالی اس پر ثواب عطا فرمائیں گے اور جو مستحبات کا اھتمام نہیں کرے گا اس پر کوئی گناہ بھی نہیں ھے ۔ ثواب کے حصول کے لئے غسل میں مستحبات کا اھتمام ضرور کرنا چاھیے ۔ غسل کے مستحبات مندرجہ ذیل ھیں :۔
قبلہ رخ منہ نہ کرنا
برہنہ حالت میں غسل کرتے وقت آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ھوئے قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے.
پانی کا اسراف نہ کرنا
غسل کرتے وقت پانی نہ تو بہت زیادہ بہایا جائے اور نہ ہی اتنا کم پانی استعمال کیا جائے کہ اچھی طرح غسل بھی نہ ہو سکے.
پردہ کا اھتمام کرنا
ایسی جگہ غسل کیا جائے جہاں مکمل پردہ ھو تاکہ کوئی دوسرا نہ دیکھ سکے. بہتر تو یہی ہے کہ کوئی کپڑا وغیرہ باندھ کر غسل کیا جائے، لیکن برہنہ ہو کر غسل کرنا جبکہ پردے کا پورا انتظام ہو ، بھی بلا کراہت جائز ہے ۔ غسل میں جو وضو کیا جاتا ہے وہ بعد میں نماز پڑھنے کے لئے بھی کافی ہے، نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر تنہائی کی جگہ ہو جہاں کوئی نہ دیکھ سکے تو ننگے ہوکر نہانا بھی درست ہے، چاہے کھڑے ہوکر نہائے یا بیٹھ کر اور چاہے غسل خانہ کی چھت ہو یا نہ ہو لیکن بیٹھ کر نہانا بہتر ہے کیوں کہ اس میں پردہ زیادہ ہے۔ ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک دوسرے کے سامنے بدن کھولنا نا جائزاورگناہ ہے۔
خاموشی اختیار کرنا
غسل کے دوران بالکل خاموشی اختیار کی جائے اور بلا ضرورتِ شدیدہ بات چیت بالکل نہ کی جائے.
بدن خشک کرنا
غسل کے فوراََ بعد کسی پاک کپڑے یعنی تولیہ وغیرہ سے اپنا بدن پونچھ لیا جائے اور جتنی جلدی ممکن ھو سکے کپڑے پہن لیے جائیں.
بدن ڈھانپنا
غسل مکمل ھونے کے بعد جلدی کپڑے پہن لئے جائیں یعنی غسل کی تکمیل کے بعد بدن کو چھپانے میں جلدی کی جائے، یہاں تک کہ اگر وضو کرتے وقت پاؤں نہ دھوئے ہوں تو غسل کی جگہ سے ہٹ کر پہلے اپنا بدن ڈھکے پھر دونوں پاؤں دھوئے۔