غسل کرنے کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے:
غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پہلے گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے۔ پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو اسے پاک کرے۔ پھر وضو کرے۔ اگر کسی چوکی(اسٹول) یا پتھر پر بیٹھ کر غسل کررہا ہے تو وضو کرتے وقت پیر بھی دھولے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے۔
وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے(سیدھے) کندھے پر اور پھر تین بار بائیں(الٹے) کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے جسم پر پانی بہہ جائے۔ ایک مرتبہ پانی بہانے کے بعد پہلے سارے جسم پر اچھی طرح ہاتھ پھیر لے پھر دوسری بار پانی بہائے تاکہ سب جگہ اچھی طرح پانی پہنچ جائے، کہیں سوکھا نہ رہے۔ پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آجائے اور پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھو لیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔ اس طرح غسل مکمل ہوجائے گا۔
اگر غسل کے بعد یاد آئے کہ فلانی جگہ سوکھی رہ گئی تھی تو پھر سے نہانا واجب نہیں، بلکہ جہاں سوکھا رہ گیا تھا اسی کو دھولے، لیکن فقط ہاتھ پھیر لینا کافی نہیں ہے بلکہ تھوڑا پانی لے کر اس جگہ بہا لینا چاہیے، اور اگر کلی کرنا بھول گیا ہو تو اب کلی کرلے، اگر ناک میں پانی نہ ڈالا ہو تو اب ڈال لے، غرض کہ جو چیز رہ گئی ہو اب اس کو کرلے، نئے سرے سے غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔