وضو کے مستحبات


مستحب وہ پسندیدہ عمل ہے جسے نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام یا تابعین نے خود کیا ہو یا اسے اچھا سمجھا ہو، لیکن اس پر ہمیشہ یا اکثر پابندی نہ کی ہو بلکہ کبھی کیا ہو اور کبھی چھوڑ دیا ہو. اسے "مندوب" بھی کہا جاتا ہے۔  مستحب کام کرنے والے کو اللہ کی طرف سے ثواب ملتا ہے۔نہ کرنے پر کوئی  مواخذہ نہیں: اسے چھوڑنے یا نہ کرنے والے پر کوئی گناہ یا عذاب نہیں ہوتا۔

وضو کے کچھ مستحبات ذیل میں ذکر کیے جاتے ھیں 

 وضو کے مستحبات

(1) وضو کیلئے کسی اونچی جگہ بیٹھنا تاکہ مستعمل پانی کی چھینٹیں نہ پڑیں۔

(2) قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا۔

(3) وضو کے کام میں کسی سے مدد حاصل نہ کرنا۔

(4) لوگوں سے بات چیت کرنے سے پرہیز کرنا۔

(5) وضو کے دوران آنحضرت ﷺ سے منقول دعاؤں کا پڑھنا۔

(6) دل سے وضو کی نیت کرتے ہوئے زبان سے بھی کر لینا۔

(7) ہر عضو کے دھوتے وقت "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" پڑھنا۔

(8) کانوں کے مسح کے دوران تر انگلی کانوں کے سوراخ میں داخل کرنا۔

(9) انگوٹھی کو حرکت دینا، اگر انگوٹھی ایسی تنگ ہو کہ ہلائے بغیر پانی جلد تک نہ پہنچے تو وضو کے صحیح ہونے کیلئے انگوٹھی ہلانا واجب ہے۔

(10) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کیلئے دایاں ہاتھ استعمال کرنا، البتہ ناک صاف کرنے کیلئے بایاں ہاتھ استعمال کرنا۔

(11) اگر آدمی معذور نہ ہو تو ہر نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے وضو کر لینا۔

(12) وضو سے فارغ ہو کر قبلہ رخ کھڑے ہو کر یہ دعا پڑھنا: "أَشْهَدُ انْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ"-

اگر کوئی شخص وضو کے دوران وضو کے مستحبات اور آداب کو چھوڑ دے تو اس کا وضو بھی ہوجائے گا اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز بھی ادا ہوجائے گی، لیکن مستقل طور پر وضو کے مستحبات و آداب کو ترک کرنے کی عادت بنالینا اچھا نہیں ہے؛ کیوں کہ جو شخص وضو کے مستحبات و آداب کی رعایت کرے گا تو اس کا وضو زیادہ کامل ہوگا اسے زیادہ ثواب ملے گا، 

Share: