وضو كي سنتين

 

وضو کی سنتیں وہ اعمال ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وضو کے دوران خود کیے اور  امت کو  کرنے کی تاکید فرمائی۔ ان سنتوں پر عمل کرنے سے وضو سنت کے مطابق اور کامل ہو جاتا ہے تاھم  وضو میں اگر کوئی سنت کسی وجہ سے چھوٹ جائے تو وضو ھو جائے گا لیکن ترکِ سنت کی وجہ سے ثواب میں کمی ہو جائے گی  .

 وضو کی سنتوں کے حوالے سے بعض باتوں میں فقہاء کرام کی رائے مختلف ہے کہ یہ سنت ہیں یا مستحب، مثلاً: نیت کرنا، مسواک کرنا، ترتیب سے وضو کرنا، ان امور  کو بعض فقہاء نے مستحب قرار دیا ہے، اور بعض نےسنت .  راجح یہ ہے کہ یہ سنت ہیں۔ اسی وجہ سے تعداد میں فرق آجاتا ہے۔اس میں  کوئی اختلاف کی بات نہیں


وضو کی سنتیں 

نیت کرنا ۔

بسم اللّٰہ سے وضو شروع کرنا۔

دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھونا۔ پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دھونا۔

دانتوں میں مسواک کرنا۔ (کم سے کم تین بار دائیں بائیں اوپر نیچے کے دانتوں پر)

داہنے ہاتھ سے پانی لے کر تین بار کلی  کرنا۔ (روزہ دار نہ ہو تو  غرارہ بھی کریں)

داہنے ہاتھ سے تین بار ناک میں پانی چڑھانا۔

بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔

داڑھی کا خلال کرنا۔ یعنی انگلیوں کو گلے کی طرف سے داڑھی میں ڈال کر ایسے پھیرنا جیسے کنگھا کرتے ہیں۔

ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔

وضو میں دھلنے والے ہر حِصّے کو تین بار دھونا۔

پورے سر کا مسح کرنا۔

کانوں کا مسح کرنا۔

ترتیب سے وضو کرنا۔

داڑھی کے جو بال منہ  کے دائرے سے باہر ہیں ان کا مسح کرنا۔

وضو میں دھلنے والے حصوں کو پے در پے دھونا یعنی ایک حِصّے کے سوکھنے سے پہلے دوسرے کو دھونا۔

 توجہ: 

وضو کی سنتیں ادا کرنا باعثِ ثواب ہے اور بلاعذرِ شرعی انہیں چھوڑنا ناپسندیدہ عمل ھے اس لئے کوشش یہی کی جائے کہ وضو کرتے ھوئے وضو کی تمام سنتیں ادا ھوجائیں



Share: