حرم شریف میں حکومتی پابندی اور دھوکہ دہی کا گناہ:

 حرمین انتظامیہ کی جانب سے مطاف کے صحن  میں  صرف احرام پوش افراد (حجاج و معتمرین) کو داخلے کی اجازت  ھے ۔ انتظامیہ کی جانب سے اس کا مقصد رش کو کنٹرول کرنا اور زائرین کو زیادہ سے زیادہ  سہولتیں  فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ انتظامی پابندی توڑنے کے لیے محض دکھاوے کے لیے احرام کی چادریں پہن کر عملہ کو دھوکہ دے کر مطاف میں داخل ہونا، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ سنگین گناہ ہے۔ جہاں تک طواف کا تعلق ھے وہ ایسا کرنے  کے باوجود بھی ادا ھو جائے گا لیکن جھوٹ بولنے اور حرم میں حرم کے اھلکاروں کو دھوکہ دینے کا  جو گناہ سر پر آئے گا وہ کہیں زیادہ ھو گا ۔ سوچنے کی بات ھے کہ ایسا طواف کرنے کا کیا فائدہ ھو گا جس کے لئےجھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گھناونے جرائم کا سہارہ لیا گیا ھو ۔ برائی بہرحال برائی ھے کہیں بھی کی جائے لیکن  حرم میں برائی کی شدت اور گرفت بھی باھر سے بہت زیادہ ھوتی  ھے ۔ تمام تر فضائل کے باوجود طواف  بہرحال ایک نفلی عبادت ھے جس کے بارے میں قیامت والے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے یہ کیوں نہیں کیا  جبکہ  جھوٹ اور دھوکہ دہی کبائر گناہوں میں سے  ھیں ۔ ان گناھوں کے متعلق قیامت والے دن لازمی باز پرس ھو گی  پھر اس کا تعلق حقوق العباد سے بھی بنتا  ھے اس کی جواب دھی بھی ھو گی ۔ ایک نفلی عبادت کے لئے چاھے اس کے کتنے ھی فضائل کیوں نہ ھوں ، کبائر کا مرتکب ھونا کوئی دانشمندی نہیں 

Share: