*مسائل زکوۃ، تیسرا سبق*
۔ مالک نصاب ہونا : شریعت کے مقرر کردہ نصاب سے کم مال کے مالک پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔
6۔ مال کا صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہونا : مال صاحبِ نصاب کے تصرف میں ہو تو تب ہی اس پر زکوٰۃ فرض ہے مثلاً کسی نے اپنا مال زمین میں دفن کر دیا اور جگہ بھول گیا اور پھر برسوں بعد وہ جگہ یاد آئی اور مال مل گیا، تو جب تک مال نہ ملا تھا اس زمانہ کی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ اس عرصہ میں نصاب کا مالک تو تھا مگر قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے طور پر مالک نہ تھا۔
7۔ صاحبِ نصاب کا قرض سے فارغ ہونا : مثلاً کسی کے پاس مقررہ نصاب کے برابر مال تو ہے مگر وہ اتنے مال کا مقروض بھی ہے تو اس کا مال قرض سے فارغ نہیں ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
8۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا : حاجتِ اصلیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو زندگی بسر کرنے میں بعض بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے جیسے رہنے کیلئے مکان، پہننے کیلئے بلحاظ موسم کپڑے اور دیگر گھریلو اشیائے ضرورت جیسے برتن، وغیرہ۔ اگرچہ یہ سب سامان زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے زائد مالیت کا ہی ہو مگر اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی کیونکہ یہ سب مال و سامان حاجتِ اصلیہ میں آتا ہے۔
9۔ مالِ نامی ہونا : یعنی مال بڑھنے والا ہو خواہ حقیقتاً بڑھنے والا مال ہو جیسے مال تجارت اور چرائی پر چھوڑے ہوئے جانور یا حکماً بڑھنے والا مال ہو جیسے سونا چاندی۔ یہ ایسا مال ہے جس کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس کے بدلے دیگر اشیاء خریدی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا سونا چاندی جس حال میں بھی ہو خواہ زیورات اور برتنوں کی شکل میں ہو یا زمین میں دفن ہو ہر حال میں یہ مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال ہے اور ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔
10۔ مالِ نصاب کی مدت : نصاب کا مال پورا ہوتے ہی زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی بلکہ ایک سال تک وہ نصاب مِلک میں باقی رہے تو سال پورا ہونے کے بعد اس پرزکوٰۃ نکالی جائے گی۔
*شرائط زکوۃ*
زکوۃ واجب ہونے کی دس شرائط ہیں، جب یہ تمام شرائط بیک وقت پائی جائیں تو زکوۃ واجب ہوگی ،ان میں سے ایک بھی کم ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق اس شخص سے ہےجس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےاورکچھ کا تعلق مال سے ہے جبکہ ان کے علاوہ دو شرطیں ایسی ہیں جن کا تعلق کا زکوۃ کی ادائیگی سےہے یعنی وہ شرطیں پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ نہیں۔
*شخص سے متعلق شرائط*
1۔ وہ مسلمان ہو۔کافر پرزکوۃ واجب نہیں۔
2۔ وہ آزاد ہو۔غلام پر زکوۃ واجب نہیں۔(آج کل غلام باندی کا وجود نہیں ہے)
3۔ وہ بالغ ہو، نابالغ پر زکوۃ واجب نہیں۔
4۔ وہ عاقل ہو، پاگل اور سفیہ پر زکوۃ واجب نہیں۔
*مال سے متعلق شرائط*
1۔ مال نصاب کے برابر ہو۔نصاب سے کم مال پر زکوۃ واجب نہیں۔نصاب کامطلب اگلے سبق میں آئے گا.
2۔ ملکیت تام حاصل ہو۔ملکیت تام نہ ہو تو تو زکوۃ واجب نہیں۔ملکیت تام کا مطلب آئندہ اسباق میں آئے گا.
3۔ مملوکہ مال انسانی ضروریات سے زائد ہو،لہذا ضرورت اور استعمال کے سامان پر زکوۃ واجب نہیں۔
4۔ مال نامی ہو۔مال نامی چھ ہیں جن کا ذکر سبق 4 میں آئے گا۔ان کے علاوہ اموال پر زکوۃ واجب نہیں۔
5۔ نصاب کے برابر مملوکہ مال قرضوں کو الگ کرنے کے بعد ہو!
6۔ چاند کاسال گزرچکاہو۔سال گزرنے سے پہلے زکوۃ واجب نہیں ہوتی ،گو کوئی ادا کردے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
*ادائے زکوۃ کی شرائط*
1۔ نیت۔نیت کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ نیت دل میں ہوناکافی ہے، زبان سے زکوۃ کہہ کردینا ضروری نہیں۔نیت یا تو غریب کو دیتے وقت کرے یا جب زکوۃ کا حساب کرکے رقم الگ کرے تب کرلے۔فقیر کو رقم دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہیں تھی، بعد میں خیال آیا کہ زکوۃ کی نیت کرلینی چاہیے تھی تو اگر فقیر کی ملکیت میں رقم موجود ہو تو ابھی بھی زکوۃ کی نیت کرسکتے ہیں،لیکن اگر فقیر کی ملکیت سے وہ رقم نکل چکی ہے تو اب زکوۃ کی نیت نہیں کی جاسکتی،بس وہ صدقہ ہوگیا۔ زکوۃ دوبارہ ادا کرے۔
2۔ ضرورت مندانسان کودے۔یعنی مال دار کو نہ دے ، زکوۃ کے مصارف میں سے کسی کو دے۔اور اداروں کو نہ دے ، بلکہ اداروں کے غرباکو دے۔
3۔ تملیک۔ غریب کو مالک بنانا ضروری ہے،مالک نہیں بنایا، اباحت کردیا تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔اسی طرح براہ راست مدرسہ ،مسجد ،ہسپتال میں زکوۃ لگانا جائز نہیں؛کیونکہ وہ کوئی غریب انسان نہیں،بلکہ ادارے ہیں اور ادارے مالک نہیں بن سکتے۔انسان مالک بنتے ہیں۔