شریعت اسلامیہ نے ھر شخص پر زکوة فرض نہیں کی بلکہ زکوۃ واجب ہونے کی کچھ شرائط مقرر کی ہیں، جب یہ تمام شرائط بیک وقت کسی مسلمان میں پائی جائیں گی تو پھر اس پر زکوۃ واجب ہوگی ، اگر ان میں سے ایک شرط بھی کم ہوگی تو زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق اس شخص سے ہے جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےاورکچھ کا تعلق مال سے ھوتا ہے جبکہ ان کے علاوہ دو شرطیں ایسی ہیں جن کا تعلق زکوۃ کی ادائیگی سے ہے یعنی وہ شرطیں پائی جائیں گی تو زکوۃ ادا ہوگی ورنہ ادا نہیں ھو گی ۔
شرائطِ زکوة فرد سے متعلق
زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مکلف (فرد) میں چند بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ جب یہ شرائط پوری ہوں گی، تبھی کسی شخص پر زکوٰۃ فرض ھو گی ۔ فرد کے اعتبار سے زکوة کی فرضیت کی چار شرائط ھیں جو مندرجہ ذیل ھیں :
مسلمان ہونا
زکوٰۃ صرف مسلمان پر فرض ہے غیر مسلم پر نہیں ۔ چونکہ زکوة خالصتاً ایک عبادت ھے جو صرف مسلمان کے لئے خاص ھے اسی لئے كافر پر زکوة لاگو نہیں ھوتی
عاقل ہونا
صاحبِ مال کا عقل مند ہونا بھی فرضیت زکوة کی ایک شرط ہے۔ مجنون یعنی پاگل پر زکوة فرض نہیں ھوتی کیونکہ زکوة کی آدائیگی کے لئے صاحبِ نصاب کی رضامندی ضروری ھوتی ھے جو ایک پاگل شخص سے ممکن نہیں ھو سکتی
بالغ ہونا
صاحبِ مال کا بالغ ہونا بھی زکوة کی فرضیت کے لئے شرط ہے۔ نابالغ اگر مالدار بھی ھو تو بالغ ھونے تک اس پر زکوة فرض نہیں ھوتی
آزاد ہونا
غلام یا لونڈی پر زکوٰۃ فرض نہیں ھے ۔ زكوة کی فرضیت کے لئے آزاد ھونا بھی ایک شرط ھے ۔ پہلے زمانہ میں جب جہاد ھوتا تھا تو جہاد میں جو لونڈیاں غلام اتے تھے وہ اس حکم میں داخل ھوتے تھے اب چونکہ بین الاقوامی معاعدوں کی وجہ سے کسی کو لونڈی یا غلام نہیں بنایا جا سکتا اس لئے یہ شرط فی الوقت مفقود ھے کیونکہ اب ھر شخص آزاد ھے