صاحبِ نصاب وہ عاقل، بالغ اور مسلمان شخص ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضروریات (حوائج اصلیہ) اور قرض سے بچ جانے والا مال اتنی مقدار میں ہو جو شریعت میں مقرر کردہ حد (نصاب) تک پہنچ جائے۔
نصاب کی مقدار اور شرائط
- سونا:
- اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو اس کا نصاب ساڑھے سات (7.5) تولہ ہے۔
- چاندی:
- اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو تو اس کا نصاب ساڑھے باون (52.5) تولہ ہے۔
- نقدی اور مالِ تجارت:
- اگر کسی کے پاس نقدی، مالِ تجارت یا سونا و چاندی کی مکس شکل ہو، تو اگر ان سب کی مالیت مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ھو جائے تو اسے صاحب نصاب مانا جاتا ہے۔
بنیادی ضروریات سے فاضل:
مال رہائشی مکان، روزمرہ کے کپڑے اور عام استعمال کی چیزوں سے زائد ہونا چاہیے۔