زکوة ادا کرنے کی چند فضائل و فوائد

          زکوة مسلمان کے لئے  اللہ تعالی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرض  حکم ہے، جس کا پورا کرنا ہرصاحبِ نصاب مسلمان پر ضروری ہے، اس فریضہ کے سرانجام دینے پر انعامات کا ملنا سو فیصد اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے؛ کیونکہ اس فریضے کی ادائیگی تو ہم پر ھر صورت میں لازم تھی ، اس کے پورا کرنے پر شاباش ملنا اور پھر اس پر بھی مستزاد ، انعام کا ملنا (اور پھر انعام، دنیوی بھی اوراُخروی بھی) تو ایک زائد چیز ہے، دوسرے لفظوں میں یوں  سمجھیے کہ مسلمان ہونے کے ناطے اس حکم کا پورا کرنا ہر حال میں لازم تھا، چاہے کوئی حوصلہ افزائی کرے یا نہ کرے،کوئی انعام دے یا نہ دے؛ لیکن اس کے باوجود کوئی اس پر انعام بھی دے تو پھر کیا کہنے! اور انعام بھی ایسے کہ جن کے ہم بہر صورت محتاج ہیں، ہماری دنیوی و اُخروی بہت بڑی ضرورت ان انعامات سے وابستہ ہے۔  زکوة  ادا کرنے  کے بہت سے فضائل و فوائد قران پاک اور آحادیث مبارکہ میں وارد ھوئے ھیں ۔ بطورِ نمونہ چند فضائل و فوائد کا ذکر ذیل  میں کیا جا رھا ھے :- 


تکمیلِ ایمان کا ذریعہ

زکوة دینا تکمیل ِ ایمان کا ذریعہ ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوة ادا کرو۔


رحمتِ الہٰی کا سایہ 

زکوة دینے والے پر رحمتِ الہٰی کا سایہ ہوتا ہے۔ سورۃُ الاعراف میں ہے :

وَ رَحْمَتِیۡ وَسِعَتْ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکْتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ

اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوة  دیتے ہیں ۔

(پ۹،الاعراف۱۵۶)


تقویٰ کا حصول

زکوة دینے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔قرآنِ پاک میں مُتَّقِیْن کی علامات میں سے ایک علامت زکوة  کا ادا کرنا بھی بیان کی گئی ہے ۔ 


فلاح کا راستہ

قرآن پاک میں فلاح کو پہنچنے والوں کا ایک کام زکوة دینا بھی گنوایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہے :

وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ ۙ﴿۴

اور وہ کہ زکوة  دینے کا کام کرتے ہیں۔

(پ ۱۸،المؤمنون ۱تا۴)



 اللہ کی مدد  کا مستحق

اللہ تعالیٰ  زکوة ادا کرنے والے کی مدد فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے “اور بے شک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بے اس میں زکوة  دینے والیے کو بھی شامل کیا ھے ۔ 


 ھدایت یافتہ لوگوں  میں شمار

 ارشاد باری تعالی ہے اور جو نماز قائم کرتے ہیں اور  زکوة دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔

(پ۱۰،التوبۃ: ۱۸)


 مال کا پاک ہونا

زکوة دینے سے مال پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مال کی  زکوة نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے، تجھے پاک کردے گی ۔”


 بھائی چارے کا بہترین اظہار

نبی کریمُ ﷺ نے فرمایا ”بیشک مؤمن کیلئے مؤمن مثل عمارت کے ہے، بعض بعض کو تقویت پہنچاتا ہے۔”


فرمانِ رسول ﷺ کا مصداق

ذکوة  مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے اسلامی معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے اور امدادِ باہمی کی بنیاد پر مسلمان اپنے پیارے آقا مدینے والے مصطفی ﷺ کے اس فرمانِ عظیم کا مصداق بن جاتے ہیں: مسلمانوں کی آپس میں دوستی اوررحمت اور شفقت کی مثال جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی عضو بیمار ہو تا ہے تو بخار اور بے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہو تا ہے۔


 مال میں برکت ھونا 

اگرچہ ظاہری طور پر مال کم ہوتا نظر آتا ھے لیکن حقیقت میں بڑھ رہا ہوتا ہے جیسے درخت سے خراب ہونے والی شاخوں کو اُتارنے میں بظاہر درخت میں کمی نظر آرہی ہے لیکن یہ اُتارنا اس کی نشوونما کا سبب ہے۔

 زکوة  دینے والے کی زکوة  ہر سال بڑھتی ہی رَہتی ہے۔ یہ تجرِبہ ہے۔ جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہِر بوریاں خالی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے۔ گھر کی بوریاں چوہے، سُرسُری وغیرہ کی آفات سے ہلاک ہو جاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صَدَقہ نکلتا رہے اُس میں سے خرچ کرتے رہو، اِن شاءَ اللہ بڑھتا ہی رہے گا، کُنویں کا پانی بھرے جاؤ، تو بڑھے ہی جائے گا۔


 بُری صفات سے چھٹکارہ 

 زکوة دینے سے لالچ وبخل جیسی بُری صفات سے (اگر دل میں ہوں تو)چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے اور سخاوت وبخشش کا محبوب وصف مل جاتا ہے ۔


  اللہ کی طرف سے بہترین رزق 

 زکوة دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔” پس  زکوة دینے والے کو یہ یقین رکھتے ہوئے خوش دلی سے زکوة  دینی چاہیے کہ اللہ پاک اس کو بہتر بدلہ عطا فرمائے گا ۔ رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے: ”صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ۔”


شر سے حفاظت

 ذکوة دینے والا شر سے محفوظ ہوجاتا ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے:

”جس نے اپنے مال کی ذکوة ادا کردی بے شک اللہ پاک نے اس سے شر کو دور کردیا


حفاظتِ مال کا سبب

 ذکوة دینا حفاظتِ مال کا سبب ہے جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا:’

‘اپنے مالوں کو  ذکوة دے کر مضبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج خیرات سے کرو۔”


اللہ تعالی کی جانب سے حاجت روائی

اللہ پاک  ذکوة دینے والوں کی حاجت روائی فرمائے گا جیسا کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا :”جو کسی بندے کی حاجت روائی کرے اللہ پاک دین و دنیا میں اس کی حاجت روائی کرے گا۔”ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:”جو کسی مسلمان کودنیاوی تکلیف سے رہائی دے تو اللہ پاک اس سے قیامت کے دن کی مصیبت دور فرمائے گا ۔”


دُعاؤں کے حصول کا سبب 

غریبوں کی دعائیں ملتی ہیں جس سے رحمتِ خداوندی اور مدد الہٰی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ رسول پاک ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ھے کہ تمھیں اللہ پاک کی مدد اور رزق ضعیفوں کی برکت سے ملتا ھے

Share: