زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کا آسان طریقہ


زکوٰۃ کی آدائیگی کے لئے حساب کرنے میں بھی بعض اوقات پریشانی ھوتی ھے ۔ اس کا  آسان سا طریقہ ملاحظہ فرمائیں اور خود ھی اپنی زکوة کا حساب بآسانی کر لیں  ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بنیادی طور پر آپ دو چیزیں آچھی طرح ذھن نشین کر  لیں:

۱- قابلِ زکوٰۃ اموال اور اثاثہ جات۔

 یعنی وہ اموال، پراپرٹی اور چیزیں جن کی آپ نے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 

۲مالیاتی ذمہ داریاں۔ 

یعنی وہ رقوم جو قابلِ زکوٰۃ اموال میں سے مائنس کرنی ہیں، اور پھر بقیہ اموال سے زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ 


قابلِ زکوٰۃ اشیاء اور اثاثہ جات

سونا اور چاندی، کسی بھی شکل میں ہوں، کسی بھی مقصد کے لیے ہوں۔ کھوٹ اور نگینے نکال کر اِن کی جو مالیت بنے وہ نوٹ کر لیں۔

گھر میں یا جیب میں موجود رقم۔

بینک اکاؤنٹ یا لاکر میں موجود رقم۔

غیر ملکی کرنسی کی موجودہ مالیت۔ 

پرائز بانڈ۔

مستقبل کے کسی منصوبے، حج، بچوں کی شادی وغیرہ کے لیے جمع شدہ رقم۔ 

تکافل یا انشورنس پالیسی میں جمع شدہ رقم۔

جو قرض دوسروں سے (واپس) لینا ہے۔ 

کمیٹی  کی جو رقم جمع کرا چکے ہیں اور ابھی کمیٹی نہیں نکلی۔ 

کسی بھی چیز کے لیے ایڈوانس میں دی گئی رقم جب کہ وہ چیز ابھی نہ ملی ہو، ابھی تک موصول نہیں ہوئی، لیکن ایڈوانس میں مثلاً‌ کار کے پیسے آپ نے دے دیے، لیکن کار ابھی تک آپ کو ملی نہیں ہے۔ 

سرمایہ کاری، مضاربت، شراکت میں لگی ہوئی رقم۔ 

شیئرز، سیونگ سرٹیفکیٹس، این آئی ٹی یونٹس، این ڈی ایف سیونگ سرٹیفکیٹس، پراویڈنٹ فنڈ کی وصول شدہ، یا کسی اور ادارے میں مالک کے اختیار سے منتقل شدہ رقم۔ 

مالِ تجارت، یعنی دوکان، گودام، یا فیکٹری میں جو سٹاک قابلِ فروخت موجود ہے اس کی موجودہ قیمت۔ 

خام مال جو فیکٹری، دوکان یا گودام میں موجود ہے، اس کی موجودہ قیمت۔ 

فروخت شدہ مال کے بدلے میں حاصل شدہ اشیاء کی مالیت، اور فروخت شدہ مال کی قابلِ وصول رقم۔

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ، گھر یا دوکان کی موجودہ قیمت۔ یعنی فروخت کی نیت سے پلاٹ خریدا ہو، یا گھر خریدا ہو، یا دوکان خریدی ہو، ان کی موجودہ مالیت۔ 

یہ جو تمام سولہ اشیاء جن کا ذکر اوہر کیا گیا ھے ۔  آپ ان سولہ اشیاء کی کل مالیت کا حساب کر کے ٹوٹل کر لیں۔ اور  اس کو “ اے “  کا نام دے دیں۔ 


مالیاتی ذمہ داریاں

یعنی جو رقم قابلِ زکوٰۃ اموال سے کم کرنی ہیں، وہ بھی آچھی طرح چیک کر لیں۔ 

قرض جو ادا کرنا ہے، یعنی ادھار لی ہوئی رقم۔ 

ادھار خریدی ہوئی چیزوں کی جو رقم ادا کرنی ہے۔

بیوی کا حق مہر جو ابھی تک ادا نہیں کیا، اور ادا کرنا ہے۔ 

پہلے سے نکلی ہوئی کمیٹی  کی جو بقیہ قسطیں ابھی ادا کرنی ہیں۔ 

آپ کے ملازمین کی تنخواہیں، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہیں۔

ٹیکس، دوکان، مکان وغیرہ کا کرایہ، یوٹیلٹی بلز وغیرہ، جو اِس تاریخ تک واجب الادا ہوں۔ اس تاریخ تک جو ادا کرنے ہوں، اس تاریخ کے بعد نہیں۔

گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ جو ابھی ادا نہیں کی گئی۔ 

 اب ان تمام اشیاء کی کل مالیت کا حساب لگا کر اس کا بھی ٹوٹل کریں اور اسے “بی”  کا نام دے دیں۔

اب  آپ کے سامنے “اے “ اور” بی “ کی شکل میں دو چیزیں آ گئیں۔

 “اے” میں وہ تمام اموال اور اثاثہ جات جو قابلِ زکوٰۃ ہیں۔ 

اور “ بی” میں وہ مالیاتی ذمہ داریاں جو آپ کے ذمے واجب الادا ہیں۔ 

اب “اے” کی مالیت میں سے “بی” کی کل مالیت کو تفریق کر دیں۔ جو جواب آئے، اس کو چالیس  پر تقسیم کریں۔ تقسیم کے بعد جو جواب آئے، وہ آپ کے ذمے واجب الادا زکوٰۃ کی کل رقم ہے۔  

 مثال  

بالفرض “اے” میں کل مقدار 20 لاکھ روپے ہے۔ یعنی جو اثاثے آپ کے پاس موجود ہیں، سونا ہے، چاندی ہے، کچھ اور تجارت کا چھوٹا موٹا سامان ہے، کچھ نقدی مال بھی ہے۔ 

“ بی” کی مقدار 2 لاکھ  روپے ہے۔ مثلاً‌ 25 ہزار بیوی کا حق مہر دینا ہے۔ آپ نے 5 ہزار ٹیکس دینا ہے اِس تاریخ تک۔ 10 ہزار مکان کا کرایہ دینا ہے وغیرہ ۔ اس کی مقدار 2 لاکھ روپے ہے۔ 

اب بیس لاکھ روپے میں  سے دو لاکھ روپے کو منفی کریں تو جواب آئے گا آٹھارہ لاکھ روہے  ، تو گویا یہ آپ کی قابلِ زکوة رقم ھے ۔ اس 18 لاکھ  کو 40 پر تقسیم کریں، تو جواب آئے گا 45 ہزار۔ تو یہ   45 ہزار روپے آپ کے ذمہ زکوٰۃ کی کل  واجب الادا رقم ہے۔ یہ پینتالیس ہزار اکٹھی بھی دے سکتے ہیں، اور تھوڑی تھوڑی کر کے بھی دے سکتے ہیں۔


Share: