قرآن کریم کی سورہ التوبہ (آیت نمبر 60) کے مطابق اور متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب کے بیانات و تشریحات کی روشنی میں زکوٰۃ کے کل آٹھ مصارف (مستحقین) ہیں۔ ان آٹھ مصارف کی تفصیل درج ذیل ہے: [1, 2]

1۔ فقراء (الْفُقَرَاء)
  • وہ افراد جن کے پاس کچھ نہ کچھ مال یا آمدنی تو ہو، لیکن وہ ان کی بنیادی اور ضروریاتِ زندگی کے لیے ناافی ہو۔
  • ایسا شخص جو صاحبِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مالک) نہ ہو۔ [1, 2, 3]
2۔ مساکین (الْمَسَاكِين)
  • وہ انتہائی مجبور اور خستہ حال لوگ جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
  • جو ایک ایک وقت کے کھانے یا بنیادی ضرورت کے لیے دوسروں کے محتاج ہوں۔ [1, 2]
3۔ عاملین (الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا)
  • وہ سرکاری ملازمین یا افراد جنہیں اسلامی حکومت نے زکوٰۃ و عشر جمع کرنے، اس کا حساب رکھنے اور اسے تقسیم کرنے پر مامور کیا ہو۔
  • ان کی خدمات کے معاوضے کے طور پر زکوٰۃ کے مال سے انہیں اجرت دی جا سکتی ہے، چاہے وہ خود مالدار ہی کیوں نہ ہوں۔ [1]
4۔ مؤلّفۃ القلوب (الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ)
  • جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو۔
  • احناف (اور مولانا الیاس گھمن صاحب کے مسلک) کے مطابق، عہدِ فاروقی میں اسلام کو غلبہ اور عزت ملنے کے بعد یہ مصرف اب ساقط ہو چکا ہے، کیونکہ اب غیر مسلموں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے زکوٰۃ کا مال دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ [1, 2]
5۔ فی الرقاب (وَفِي الرِّقَابِ)
  • غلاموں کو آزادی دلانے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دینا۔
  • چونکہ موجودہ دور میں غلامی کا وجود ختم ہو چکا ہے، اس لیے یہ مصرف فی الحال عملی طور پر موجود نہیں ہے۔ [1]
6۔ غارمین (الْغَارِمِينَ)
  • وہ قرض دار جو شدید معاشی دباؤ میں ہوں اور ان کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے وسائل نہ ہوں۔
  • بشرطیکہ وہ خود صاحبِ نصاب نہ ہوں اور ان کا قرض کسی گناہ کے کام کے لیے نہ لیا گیا ہو۔ [1]
7۔ فی سبیل اللہ (وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ)
  • اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدینِ اسلام کی مدد کرنا۔
  • فقہ حنفی کی روشنی میں اس سے مراد وہ مسافر غازی (مجاہدین) یا علمِ دین حاصل کرنے والے وہ غریب طلبہ (طالبِ علم) بھی ہیں جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر پا رہے ہوں۔ (نوٹ: کسی مسجد، مدرسے کی تعمیر، یا رفاہی کاموں میں براہِ راست زکوٰۃ کا مال لگانا جائز نہیں جب تک کہ مستحق کو اس کا مالک نہ بنایا جائے)۔ []
8۔ ابنِ سبیل (وَابْنِ السَّبِيلِ)
  • وہ مسافر جو اپنے گھر یا وطن میں تو مالدار ہو، لیکن دورانِ سفر بالکل تہی دست اور محتاج ہو جائے۔
  • ایسے مسافر کو سفر کی ضرورت پوری کرنے اور گھر واپس پہنچنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے۔ [1]
Share: