چهٹا نمبر : دعوت وتبليغ

دعوت إلى الله اور تبليغى جماعت

(قسط نمبر - 8 )

چهٹا نمبر : دعوت وتبليغ


گذشته اقساط ميں كلمه طيبه - نماز - علم وذكر - إكرامِ مسلم اور إخلاصِ نيت كے متعلق عرض كيا جا چكا هے إن شاء الله تعالى إس قسط ميں " دعوت وتبليغ " كے متعلق بات هوگي 

دعوت وتبليغ كے معني و مفهوم:
دعوة کے لغوی معنی کسی کو آواز دینا یا پکارنا ۔ یہ باب نصر ینصر سے بطور مصدر آتا ہے إس کے لفظی معنی کسی اہم ، قابل غور اور بڑے کام کی طرف بلانا ہے اور دعوت إلى الله كا مطلب الله تعالى  (دين إسلام ) كي طرف بلانا هے
كلمه ( الدعوة ) خالص إسلامي اصطلاح هے، يه فعل " دَ عَ وَ " على وزن " فَعَلَ " هے اگر ديكھا جائے, تو اس كا ايك هي مفهوم پايا جاتا هے۔ اور وه هے: كسي كو آواز يا كلام كے ذريعه اپني طرف مائل راغب يا متوجه كيا جائے, اگر وه متاثر هو جائے, تو اسے آپ ميں سے شمار كيا جائے

قرآن كريم ميں ( الدعوة ) كےمعاني:
قرآن كريم ميں يه لفظ كئي معنوں كے لئے استعمال كيا گيا هے:
1 ـ طلب:
جيسا كه الله تعالى كا فرمان هے 
وَاِذَآ اُلْـقُوْا مِنْـهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا (13)
لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْـرًا (14)
اور جب وہ اس کے کسی تنگ مکان میں جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے۔آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو (الفرقان).

2 ـ ندا :
جيسا كه الله تعالى كا فرمان هے
وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَوْبِقًا0 (الكهف). 
اور جس دن فرمائے گا کہ میرے شریکوں کو پکارو جنہیں تم مانتے تھے پھر وہ انہیں پکاریں گے سو وہ انہیں جواب نہیں دیں گے، اور ہم نے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ بنا دی ہے۔عني اسے پكاريں گے۔

3 ـ سوال: 
جيسےبني إسرائيل كے كلام كو الله نے يوں نقل فرمايا:
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ  (البقرة).
يعني اپنے رب سے سوال كرو كه اسے كس رنگ كي گائے چاهئے؟

4 ـ كسي چيز پر ابھارنا اور جوش دلانا: 
جيسے آل فرعون كے مؤمن كا قول نقل كرتے هوئے الله كا فرمان:
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ  (غافر).
يعني كيا يه عدل هے كه ميں تمهيں نجات كے لئے ابھاروں, اور تم مجھے جهنم كي طرف ابھارو؟

5 ـ استغاثه: 

جيسے الله كا فرمان هے:
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ0 (الأنعام).
يعني جب تم پر مصيبت آئےگي, تو تم الله كے سوا كسي اور سے استغاثه كروگے؟

6 ـ حكم: 
 
جيسا كه الله تعالى كا فرمان هے
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ (الحديد).
يعني رسول تمهيں حكم دے رها هے كه اپنے رب پر ايمان لاؤ۔

7 ـ دعا: 

جيسے الله كا فرمان هے :
ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ  (الأعراف)
يعني اپنے رب سے دعا كرو۔
قرآن كريم ميں إس كا استعمال ان تمام معاني پر هوا هے۔ ليكن اگر غور كيا جائے,
توان سب كا مفهوم "طلب" كے ارد گرد گھومتا نظر آتا هے. ندا منادي كے حضور كا مطالبه هے۔ سوال نا معلوم چيز كي وضاحت كا۔ ابھارنا مخاطب كي نظر ميں غير مرغوب عمل كا۔ استغاثه دفع ضرر كا۔ حكم مطلقا كسي كام كا مطالبه هے۔ دعا بھي الله سے طلب هي هے۔ صرف مقاصد كي وضاحت كے لئے الفاظ مختلف هيں۔ مگر معنى ومفهوم ايك هي هے۔
مذكوره لغوي معنوں كے لحاظ سے اگر (الدعوة)كي تعريف كي جائے تو يوں هوگي:
 "الطلب من الناس الدخول في طاعة الله تبارك وتعالى، وطاعة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، والالتزام بشرائعه أي التدين بالدين الإسلامي الحنيف الذي اختاره الله تبارك وتعالى لخلقه والعمل بتعاليمه"
يعني لوگوں ميں اللہ تعالی کي أطاعت اور اللہ کے رسول کی أطاعت كي طلب پيدا كرنا اور الله تعالى كے آحكام كے مطابق اسلام کے مذہبی آصولوں كي تعمیل کے ساتھ کام کرتے رهنا
اس ضمن ميں اس آيت مباركه كو بھي پيش كر سكتے هيں:

( يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (البقرة) .
اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔
اور مذكوره بيان سے يه بھي واضح هو گيا كه (الدعوة) كے لغوي معنى اور قرآن كے اصطلاحي معنوں ميں گھرا ربط هے۔ جيسے الله كا فرمان:
"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ  " اور ودعوتهم إلى سبيل الله رب العالمين وغيره

دعوت وتبليغ كے اصطلاحي معني و مفهوم:
يهاں پر جليل القدر صحابي حضرت ربعي ابن عامر رضي الله تعالى عنه كے كلام كو سب سے پهلے كلمه ( الدعوة ) كي اصطلاحي تعريف كے طور پر پيش كرنا مناسب هے جو انھوں نے جنگ قادسيه كے موقعه پر فارسيوں كے سپه سالار رستم كے سوال كے جواب ميں فرمايا تھا:
" جئنا لنخرج العباد من عبادة العباد إلى عبادة رب العباد ، ومن ضيق الدنيا إلى سعة الدنيا والآخرة ، ومن جور الأديان إلى عدل الإسلام "
شيخ الاسلام امام ابن تيميه رحمه الله نے كلمه ( الدعوة ) كي تعريف إس طرح فرمائي هے:
(الدعوة إلى الله : هي الدعوة إلى الإيمان به، وبما جاءت به رسله، بتصديقهم فيما أخبروا به ، وطاعتهم فيما أمروا) .(الفتاوى 15: 157).
· نيز فرمايا: (مندوب و مستحبات يا واجبات ميں سےهر وه چيز جو الله اور اس كے رسول كو پسند هو, ، ظاهر هو يا باطن هو، تو اس كا حكم دينا الدعوة إلى الله ميں سے هے۔اور هر وه چيز جسے ظاهر ميں يا باطن ميں الله اور اس كے رسول نے ناپسند كيا هو تو اس سے روكنا الدعوة إلى الله ميں سے هے۔ اور دعوت الى الله كي تكميل اس وقت تك نهيں هو سكتي , جب تك ان چيزوں كو كيا نه جائے, جسے الله پسند كرتا هے۔ اور ان چيزوں كو ترك نه كر ديا جائے, جنھيں الله نا پسند كرتا هے۔ خواه وه اقوال ميں سے هوں افعال ميں سے, ظاهري هوں يا باطني۔
اصطلاحي تعريف كي اس وضاحت سےيهاں يه بات بالكل واضح هو جاتي هے كه دعوت الى الله ميں هر وه طلب شامل هے, جسے الله پسند كرتا هے۔خواه اوامر كے طريق سے هوں, يا نواهي كے قبيل سے۔
 كچھ لوگوں نے دريا كو كوزے ميں بند كرتے هوئے فرمايا: 
الدعوة إلى الله تعالى هي معرفة الدين ودعوة الناس إليه تحقيقا لقوله تعالى :
بسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
وَالْعَصْرِ (1)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِىْ خُسْرٍ (2)اِلَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3)
زمانہ کی قسم ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔
 وقوله سبحانه : {قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي }
يعني لغوي ،قرآني، اصطلاحي، عرفي اور ديگرجمله معاني سے دعوت كا عام اور شامل هونا اظهر من الشمس هے۔ يه اور بات هے كه لوگوں كو اپنے اپنے اعتبار سے عرف كا اختيار هے۔ پھر وه لفظ اس قدر غالب آجاتا هے, كه اس لفظ كو سنتے هي ذهن اسي طرف مبذول هوتا هے۔ مثلا "كلمه" كهنے سے كوئي بھي كلام شامل هو سكتا هے۔ مگر ايك مسلمان كا ذهن فوري طور پر كلمه طيبه يا كلمه شهاده كي طرف منتقل هو جاتا هے۔ يه كلمه كي تعريف نهيں, بلكه لوگوں كا عرف هے۔ ليكن دعوت كے لئے عرف بھي عام نهيں, بلكه محدود هوگا, جو صرف دين كي دعوت پر اطلاق كرتے هيں۔ ورنه مساجد ومنابر كے خطبے اور دروس ومحاضرات جن ميں خالص مسلمان هي شريك هوتے هيں, اور موضوعات بھي مواعظ وتذكير توعيه وتثقيف اور اسلامي تربيه پر محيط هوتے هيں, انھيں بھي دعوت الى الله هي كها جاتا هے۔ اور يه كام كرنے والے كو داعي يا داعيه هي كها جاتا هے۔ جب كه اسے كسي غير مسلم كو دين پيش كرنے كا شايد هي كبھي موقعه ملا هو۔
جي هاں! اگر كوئي اپنے كسي خاص ماحول يا كسي باريك نظم ونسق اور افهام وتفهيم كے لئے اس طرح كي تخصيص كرنا چاهيں۔ كه دعوت غير مسلم كو دين كي دعوت دينا, اور مواعظ وتذكير تثقيف وتوعيه برائے مسلم كهه ليا كريں۔ تو اس ميں كوئي اسلامي ركاوٹ نهيں هے۔ مكاتب جاليات ميں عموما اس طرح كا نظريه هے۔ دعوت جو غير مسلموں كو دين كي طرف بلايا جائے۔ اور توعيه جو مسلمانوں كي تربيت وتعليم كا كام كرے۔ تو مسلمانوں ميں ديني بيداري لانے والا بھي داعي الى الله هے۔ اور غير مسلموں ميں دين كي اشاعت كرنے والا بھي داعي الى الله هے۔
لهذا ! اگر كوئي جمعه كا خطبه پڑھتا هے, يا مسند درس پر بيٹھے بچوں كو تعليم دے رها هوتا هے, يا كسي جلسۂ عام كو خطاب كر رها هوتا هے۔ بهر صورت وه داعي الى الله هے۔
اصل مدلول كے عموم ميں كوئي اشكال نهيں۔ البته عرفا تخصيص كي گنجائش هے۔ يعني اگر كوئي اپنے عرف ميں كسي مقصد سے دعوت كو مخصوص معنى يا غير مسلموں ميں دين كي نشر واشاعت كے لئے استعمال كرے, تو ايسا كرنے كي ممانعت نهيں هے۔ جهاں تك عموم دعوت هے, تذكير ومواعظ پندو نصائح وغيره تو وه تو اس ميں بغير كسي كي رائے لئے از خود شامل هيں۔
بالفاظ ديگر دعوت الى الله كهتے هيں الله كي جانب راغب كرنے كو۔ خواه كسي قول وفعل كے ذريعه هو۔ يا زبان وآواز كے ذريعه. خواه وه قول يا آواز نماز كي تلقين وعظ ونصيحت پر مبني هو يا دين كي دعوت پر۔ دعوت دعوت هے۔

مخاطب كے لحاظ سے اٌمت كي  قسميں:
مخاطب كے لحاظ سے اُمت كي دو قسميں هيں :
۱- اُمت مستجابه
۲- اُمت غير مستجابه
دعوت تو دعوت هے, خواه دين كي دعوت هو يا وعظ ونصيحت۔ پر ايسي جگه ميں مخاطب كے لحاظ سے اگر وه اُمت مستجابه ميں سے هے تو توعيه تذكير مواعظ وغيره كهه ديتے هيں۔ تاكه باريك سا فرق سمجھ ميں آجائے۔ اور اگر مخاطب اُمت غير مستجابه ميں سے هے تو (فليكن أول ما تدعوهم إليه شهادة أن لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) كے تحت دين كي دعوت ديں گے۔ تو إس طرح اُمت مستجابه سے خطاب كو دعوت كهه سكتے هيں۔ اور زياده واضح كرنے كے لئے يه كهه سكتے هيں كه هر وه بات جو دين كے نام پركسي سے كي جائے۔ وه دعوت هے۔
اور تبليغ كے لغوي معني پهنچانا يا رپورٹ كرنا وغيره كے هيں جيسا كه حديث مباركه " بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً " سے إسكے معني ظاهر هو رهے هيں يعني ميري طرف سے پهنچاؤ چاهے إيك هي آيت كيوں نه هو
مختصر الفاظ ميں دعوت وتبليغ كا مفهوم يه هے كه الله كے بندوں كو الله كے دين كي طرف بلايا جائے اور أن تك دين كي باتوں كو آسان كركے پهنچايا جائے

دعوت و تبلیغ کا مقصد:
دعوت و تبلیغ کا مقصد اپنی اور اُمت کی اصلاح ہے يعني يه دين ميري زندگي ميں آ جائے اور تمام دنيا كے إنسانوں كي زندگيوں ميں آجائے اور هر هر شخص دوزخ سے بچ كر جنت ميں جانے والا بنے جائے
دعوت و تبلیغ دین کی محنت کا ایک وسیع میدان ہے اور إس ميں مختلف إدارے - جماعتيں اور أشخاص اپني اپني إستطاعت كے مطابق كام كر رهے هيں دعوت وتبليغ كے إس مقصد ميں الله تعالى نے تبليغي جماعت كو إيك خاص مقبوليت عنايت فرمائي هے اور اس میدان میں إس جماعت کا کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ جماعت کی محنت کے اثرات کا مشاہدہ ہر ذی شعور انسان کھلی آنکھوں سے کر سکتا ہے
ان دعوت دین کے خادموں کا مقصد اور بنیادی دعوت یہ ہے کہ تمام اُمت ِ دعوت اسلام قبول کر کے اللہ جلّ شانہ کے سایہ رحمت میں آ جائے اور تمام اُمت اجابت یعنی امت مسلمہ میں وہ ایمان اور ایمان والی زندگی عام ہو جائے جس کی دعوت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم تشریف لائے تھے۔ اور قرآن مجید میں جس کا مطالبہ اس آیت میں کیا گیا ہے
یٰٓاَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُوا ادخُلُوا فِی السِّلمِ کَآفَّةً (البقرہ)
”اے لوگو جوایمان لائے ہو داخل ہو جا ؤ اسلا م میں پورے کے پو رے “
اس سلسلے میں يه حضرت مولانا الیاس رحمة اللہ عليه کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ ان کی دعوت کا مقصد و محور دو باتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ تمام مسلمان چوبیس گھنٹے کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے حکموں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے طریقوں کے مطابق پورا کرنے والے بن جائیں۔اور دوسری یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی ختم نبوت کے صدقے نبیوں والا کام اب ساری امت کے ذمہ ہے۔پھر اس کے ذیل میں وہ دین کی چھ مخصوص صفات کی دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ چھ چیزیں اگرچہ پورا دین ہرگز نہیں لیکن اگر ان کو سیکھ کر ان پر عمل کیا جائے گا تو إن شاء الله پورے دین پر چلنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی۔
ان چھ صفات میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور اس کے مفہوم و یقین کی دعوت ہے۔ یعنی اللہ کی وحدانیت اور بڑائی کی اتنی دعوت دی جائے کہ دل اللہ کی ذات سے متاثر ہو جائے اور غیر کے تاثر سے پاک ہو جائے ، اس سے شرک کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کلمے کا دوسرا جز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں میں کامیابی کی اتنی دعوت دی جائے کہ سنتیں زندہ ہو جائیں اور بدعات کا خاتمہ ہو جائے۔ اس بنیادی محنت کے بعد بالترتیب نماز، علم و ذکر، اکرامِ مسلم، اخلاص اور دعوت و تبلیغ کی دعوت دی جاتی ہے۔ جماعت کے ساتھی ان صفات کے علاوہ کوئی اور بات مثلاً کسی ”شیخ“ سے بیعت ہونے یا کسی حلقہ سے وابستہ ہونے یا کسی جماعت اور انجمن کا ممبر بننے کی نہ دعوت دیتے ہیں اور نہ منع کرتے ہیں، بلکہ کہا یہ جاتا ہے کہ جس سلسلے سے چاہیں اصلاحی تعلق قائم کریں۔ خود تبلیغی جماعت کے بانی اور اکابر کی جوعلمائے دیوبند کی طرف نسبت ہے ، اس نسبت کی بھی دعوت نہیں دی جاتی کیوں کہ مولانا الیاس دہلوی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ”جہاں تک ہو سکے یہ کوشش کرو کہ دین کی اس دعوت میں میری ذات اور میرے نام کا ذکر نہ آئے۔“
غرض جماعت کسی نئے نظریہ یا کسی نئے مقصد کی داعی نہیں ، وہ تو صرف اپنی اور امت کی اصلاح کے لیے محنت اور قربانی کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری تنظیموں اور انجمنوں کی طرح اس تحریک کا کوئی دستور یا منشورنہیں، کوئی دفتر یا رجسٹر نہیں اور نہ ہی کوئی ممبر یا عہدیدار ہے، یہاں تک کہ اس کا کوئی جداگانہ نام تک نہ رکھا گیا۔ حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ یہ نام ”تبلیغی جماعت“ ہم نے نہیں رکھا۔ ہم تو بس کام کرنا چاہتے تھے، اس کا کوئی خاص نام رکھنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی تھی۔ لوگ کام کرنے والوں کو تبلیغی جماعت کہنے لگے، پھر یہ اتنا مشہور ہوا کہ ہم خود بھی کہنے لگے۔“
اسی طرح جماعت والے اپنی کارگزاریوں کی بھی بالکل شہرت نہیں چاہتے بلکہ اپنے کام کے لیے اخبار یا رسالہ نکالنے یا اشتہار و پمفلٹ کے ذریعہ اپنی بات پہنچانے کے وہ بالکل قائل نہیں!....مگر اس کے باوجود کام کا ثمر جو نکلا وہ سب کے سامنے ہے۔
یورپ اور افریقہ کے وہ علاقے جہاں پورے ملک میں چند مسجدیں ہوا کرتی تھیں، وہاں جماعت کی محنت کو اللہ نے قبول فرمایا اور آج سینکڑوں مساجد ہیں اور راقم ذاتی طور پر ان ساتھیوں سے واقف ہے جن کے ہاتھ پر آسٹریلیا اور افریقہ میں ہزاروں ایسے لوگ دوبارہ دائرہ اسلا م میں داخل ہوئے، جو عیسائی اور قادیانی جماعتوں کے دجل و فریب کا شکار ہو کر گمراہ ہو گئے تھے، لیکن آپ نے کبھی ان کارناموں کے اشتہار نہیں دیکھے ہوں گے، کیوں کہ حضرت مولانا الیاس دہلوی رحمہ اللہ نے اپنے کام کا ڈھانچا اخلاص کی بنیاد پر اٹھایا تھا اور یہاں تک دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! اس کام کو کرامات کی بنیاد پر نہ چلائیے گا۔
اس جماعت میں ہر شخص اپنا خرچہ خود اٹھاتا ہے، ان میں وہ بھی ہوتے ہیں جو لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں اور آخرت کے اجرو ثواب کی امید پر خرچ بھی کرتے ہیں اور ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ سامان سر پر رکھ کر مہینوں کے لیے پیدل نکل پڑتے ہیں۔
اگر غائر نظر سے دیکھا جائے تو جماعت کی روز افزوں کامیابی اور ساری دنیا میں پھیلاؤ اسی حکمت عملی کی وجہ سے ہے کہ یہ کام انبیا کرام علیہم السلام کے طریقہ دعوت کے بے حد مشابہ ہونے کی وجہ سے بے حد سادہ ، آسان اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔اس کے علاوہ انبیا کرام علیہم السلام کی سنت میں تبلیغی کام کسی خاص طبقہ کی ہی اصلاح کا ذریعہ نہیں بلکہ تمام دین کے احیاء، تمام مسلمانوں کی اصلاح اور دائرہ اسلام میں بیش از بیش وسعت کا ذریعہ ہے۔جماعت نے اپنے کام کو کسی ایک مخصوص طبقے تک محدود نہیں کیا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں بے دھڑک دین کی دعوت کے لیے محنت کی ۔ انتہائی معمولی شعبہ زندگی کے افراد سے لے کر اخص الخواص تک یکساں ایمان و اعمال کی آواز لگائی۔
جماعت والے ان لوگوں کے پاس بھی گئے جنہیں کبھی کسی نے اس نظر سے نہیں دیکھا کہ وہ بھی اللہ کے بندے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہیں۔ یہاں تک کہ خواجہ سرا اور ناچنے گانے والوں کو بھی دعوت دی گئی !اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان گنت سعید روحوں نے اس دعوت پر لبیک کہا اور یوں تبلیغی جماعت کو ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے داعی مل گئے جو مختلف صلاحیتوں اور استعداد کے مالک تھے۔یہ جماعتیں گویا چلتی پھرتی تربیت گاہیں و خانقاہیں ہیں۔ اس کے ذریعے کچھ بھی نہ ہو تو کم ازکم دین کے لیے تکلیفیں اٹھانے اور اپنا مال دین کے لیے خرچ کرنے کی عادت پڑتی ہے اور دوسروں کی اصلاح ہو یا نہ ہو اپنی اصلاح کی فکر ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔غرض تبلیغی جماعت کا مقصد دین کی طلب کو عام کرنا ہے، جس سے مدارس کو طلبہ کثرت سے ملتے رہیں اور خانقاہوں کو ذاکرین ملیں اور ہر عام مسلمان کے دل میں دین کی اہمیت پیدا ہوتی چلی جائے۔
اس ضمن میں ایک بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ چوںکہ دعوت وتبليغ كا یہ کام اپنی اصل میں بہت عمومی حیثیت رکھتا ہے اور ہر قسم کے آدمی اس میں آتے اور کام کرتے ہیں اور ہر ایک کی اصلاح، اس کی استعداد ، إخلاص اور حوصلہ کے موافق ہوتی ہے۔اس لیے کسی فرد یا جماعت سے کوتاہی اور غلو ظاہر ہو جانا بالکل قرین قیاس ہے، جسے جماعت کا اصول یا اس کے اکابر کی طرف منسوب کردینا مناسب نہیں۔ دراصل ہدایات کو غور سے نہ سننے،اصول کی پابندی نہ کرنے اور چھ نمبر سے بڑھ کر بیان کرنے سے بعض أوقات خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔
جماعت پر غیروں کی طرف سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں وہ تو اکثر نرے الزامات ہی ہوتے ہیں لیکن اپنے حلقوں میں جو خیر خواہی سے تبلیغی جماعت پر اعتراض کیے جاتے ہیں وہ یا تو ناواقفیت کا نتیجہ ہوتے ہیں یا پھر عام تبلیغی افراد کے کسی انفرادی عمل کو دیکھ کر اس کو پوری جماعت کی طرف منطبق کر دیا جاتا ہے جو ظاہری بات ہے کہ اصولاً قطعاً غلط ہے۔ اگرچہ فی نفسہ فکروعمل کی کمی کوتاہی یا غلطی کا امکان بھی رہتا ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ اکابر اورجید علماء کی طرف سے جب کوئی اصلاح کی کوشش کی گئی تو اسے سنجیدگی سے لیا گیا اوراپنی اصلاح کی گئی۔
اس لیے علم والوں اور بے علموں کو، نئے اور پرانوں کو، متقی اور غیر متقی کو، ذاکرین اور غافلين سب کو تنقید کرتے وقت ایک معیار پر جانچنا اور ایک وزن سے تولنا صحیح نہیں۔ کسی فرد سے اگر کوتاہی ہو جائے تو اس کو جماعت کا اصول نہیں قرار دینا چاہیے بلکہ نرمی سے اصلاح کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔
ایک عام اعتراض تبلیغی جماعت پر یہ کیا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت کو مسلمانوں کو درپیش کسی بھی انفرادی یا اجتماعی مسئلہ سے خواہ وہ سیاسی ہو یا سماجی کوئی دلچسپی اور سروکار نہیں ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ یہ لکھتے ہیں کہ: ”اس کام کی بنیاد قرآن و حدیث سے حاصل ہونے والے اس یقین پر ہے کہ اس زمانہ میں امت مسلمہ کو سارے عالم میں جو اجتماعی یا انفرادی مشکلات و مسائل درپیش ہیں، ان کا سببِ اصلی اور علة العلل یہ ہے کہ امت کی غالب اکثریت اس حقیقی ایمان بالغیب اور اس ایمانی زندگی سے دور ہو گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت کے لیے شرط ہے اور اس میں وہ خدا فراموشی اور آخرت سے بے فکری آ گئی ہے جو پچھلے انبیا کرام علیہم السلام کی امتوں کے لیے سراسر تباہی کا باعث بنی۔اور امت کی یہی حالت دوسری قوموں کے اسلام کی طرف آنے میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ نیز یہ یقین بھی اس تبلیغی کام کی بنیاد ہے کہ آخرت کا مسئلہ اس دنیوی زندگی کے سارے مسائل سے لاکھوں درجہ زیادہ قابل فکر ہے مگر حالت یہ ہے کہ (امت مسلمہ کے) دنیوی مسائل کی فکر کرنے والوں کی تو کمی نہیں ہے لیکن آخرت کی فکر میں دوڑ دھوپ کرنے والوں کو دیکھنے کے لیے آسمان کی آنکھیں ترستی ہیں۔“
اس لیے تبلیغی جماعت سے یہ توقع رکھنا ہرگز مناسب نہیں کہ جماعت دعوت الیٰ اللہ کے میدان میں بھی کام کرے اور اس کے ساتھ ساتھ دین کے دوسرے شعبوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرے۔ ہاں دوسرے شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے دعائے خیر کی جاتی ہے اور کیوں نہ ہو کہ دراصل یہ تبلیغی کام اپنی اصل میں، دین کے تمام شعبوں کا خادم ہے۔ دین کے تمام شعبوں کے لیے رجال کار مہیا کرنا تبلیغی جماعت کا کام ہے۔ بے طلبوں اور دنیاداری کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر اور ان کے دل میں دین کی طلب پیدا کر کے، دین کے مختلف شعبوں سے وابستہ کرنے کی محنت کرنا اپنی نوعیت کا بڑا زبردست کام ہے۔
بہرحال افراط و تفریط سے بچنے کے لیے حضرات کی یہ خواہش ہے کہ علماء کرام کی سرپرستی میں کام ہو، کیوں کہ جتنا علماء کرام اس مبارک کام کی سرپرستی اور نگرانی کریں گے اتنا ہی کمی بیشی دور ہو کر اعتدال قائم ہو گا اور شکایات کم ہو ں گی ۔ یوں تو الحمدللہ کام اس مخصوص ڈھنگ میں شروع بھی ایک جیّد عالم مولانا الیاس دہلوی رحمہ اللہ سے ہوا اور شروع ہی سے اکابر علماءکرام کی تائید و نصرت بھی اس تبلیغی کام کے ساتھ رہی۔ اور پھر ان اکابر کے خلفاءکرام غرض سب کی پشت پناہی اس جماعت کے ساتھ رہی۔
اس لیے علماء کرام سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اپنے درس و تدریس اور دوسری علمی مشغولیت کے ساتھ اپنے محلوں کی جماعتوں میں جڑتے رہیں۔ اور سال میں تھوڑا بہت وقت فارغ کرکے جماعت کے ساتھ چلے جائیں تو ان شاء اللہ جماعتوں میں جو ہر قسم کے عامی مسلمان ہوتے ہیں، ان کی نگرانی، اصلاح اور تربیت ہوتی چلی جائے گی۔ اب جماعتیں تو بے شمار ہیں مگرکام کی نگرانی کرنے والے یعنی علماء کرام کم ہیں۔ الحمد لله هر وقت صرف اندرون ملک میں کم و بیش پندرہ بیس ہزار جماعتیں ایمان و اعمال سیکھنے سکھانے میں مشغول ہوتي هيں اور محتاط معلومات کے مطابق چھ سات ہزار علماء کرام هر وقت اندرون ملک سال لگا رہے هوتے ہیں۔ یوں اگر ایک عالم ایک جماعت میں ہو تو باقی تین چوتھائی جماعتیں علماء کرام کی صحبت سے محروم ہیں۔
دین کے تمام شعبوں میں کام کرنے والے محترم ساتھیوں كا يه بهي أخلاقي فرض بنتا هے کہ وه بے شک اپنے متعین شعبے میں خوب جم کر کام کریں، مگراپنا محاسبہ کرتے رہیں اور دوسرے شعبوں کی کمی ہرگز دل میں نہ لائیں۔ کیوں کہ شیطان ذہن میں یہ بات ڈالتا رهتا ہے کہ بس ہمارا کام ہی اصل ہے دین کے دوسرے کام معاذ اللہ کم تر ہیں۔ ایسا سمجھنا بہت خطرے کی بات اور فتنہ کی چیز ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اللہ ربّ العزت کی منشا ہے کہ جس سے اپنے دین کا جو چاہے کام لے۔اس لیے تقابل کی بجائے تعاون کی راہ اپنائیں اور اپنے دائرہ عمل میں رہتے ہوئے دوسرے شعبوں کے ساتھیوں کے ممنون ہوں کہ دین کے دوسرے کام جو ہم اپنے شعبہ کی مشغولیت کی وجہ سے نہیں کر پا رہے ، ہمارے بھائی اس کام کو سنبھالے ہوئے ہیں ۔اس نقطہ نظر سے دوسرے شعبوں کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرنا، بقدرِ استطاعت ان کے ساتھ تعاون کرنا اور دعاؤں میں ان کو یاد رکھنا ان شاء اللہ آپ کو دین کے سارے شعبوں میں کام کرنے کا اجر دلوائے گا اور اس کے ساتھ امت میں جوڑ کی شکل پیدا ہو کر اجتماعیت پیدا ہو گی جو امت مسلمہ کی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت اور إس مبارك كام كے مقاصد ميں سے إيك إهم مقصد ہے الله تعالى عمل كي توفيق عطا فرمائے - آمين

دعوت و تبلیغ كي إهميت:
دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ یہ امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ علماء اور امت کے باشعور طبقہ پر بالخصوص فرض ہے کہ وہ دعوتِ دین کا کام انجام دیں۔ تبلیغِ دین کا مشن ہر زمانے میں جاری رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی اس کی اتنی ہی ضرورت ہے۔نبی کریم صلى الله عليه وآله وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے امتی کے مشن کو بیان کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ أَدْعُوْآ اِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ مَآ أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (یوسف)
(اے نبی صلى الله عليه وآله وسلم ) آپ کہہ دیجیے یہ میرا راستہ ہے ،میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ ،میں اور میرے ساتھی بھی۔ اللہ پاک ہے اور ميں شرک کرنے والوں ميں سے نہیں هوں
یہی امت کا اصل مشن ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امت مسلمہ میں ہر دور میں کم از کم ایک ایسی جماعت کا وجود ضروری ہے جو عام لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُوْلٰءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ (آل عمران)
تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہیے جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔
معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے اندر ضرور بالضرورایک ایسی جماعت ہونی ہی چاہیے جو لوگوں کو خیروبھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے ۔ عربی قواعد کی رو سے اس حکم میں تاکید درتاکید ہے ۔ نیز اس آیت کے سیاق میں علماء نے صراحت کی ہے کہ اہل کتاب کا ذکرکرنے کے بعد پہلے تو امت کو ہدایت دی گئی تقویٰ ، ایمان باللہ اورایک ساتھ متحد ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی اور اختلاف وتفرقہ سے دور رہنے کی ۔آگے اس آیت میں امت کو خارج کا پروگرام دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کواسلام کی دعوت دیں اور اللہ کی بندگی واطاعت کی طرف انہیں بلائیں۔
ٍ قرآن مجید کی متعدد آیات میں نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم کو صریح الفاظ میں دعوتِ دین کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسے :-
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْـهُـمْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ()
اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا، اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر، بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے، اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے۔النحل،
بَلٰى اِنْ تَصْبِـرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِـمْ هٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ الَافٍ مِّنَ الْمَلَآئِكَـةِ مُسَوِّمِيْنَ ()
بلکہ اگر تم صبر کرو اور پرہیزگاری کرو اور وہ تم پر ایک دم سے آ پہنچیں تو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے نشان دار گھوڑوں پر مدد کے لیے بھیجے گا۔آل عمران
 يَآ اَيُّـهَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٝ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ ()
اے رسول! جو تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اترا ہے اسے پہنچا دے، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا، اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا، بے شک اللہ کافروں کی قوم کو راستہ نہیں دکھاتا۔المائدہ
لِّكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُـمْ نَاسِكُـوْهُ ۖ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِى الْاَمْرِ ۚ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ۖ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِيْـمٍ ()
ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کر دیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں، پھر انہیں تمہارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑنا نہ چاہیے، اور اپنے رب کی طرف بلا، بے شک تو البتہ سیدھے راستہ پر ہے۔۔ الحج
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ ۖ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ۖ وَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ()
اور وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے روک نہ دیں بعد اس کے کہ تم پر نازل ہو چکی ہیں، اور اپنے رب کی طرف بلاؤ، اور مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہو۔القصص
مندرجه بالا آيات میں یہ حکم موجود ہے ۔ ان آیات کے مخاطبِ اصلی تو خود نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم ہیں لیکن یہ احکام سارے ہی مسلمانوں سے متعلق ہیں۔ نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم کے واسطے سے یہ پیغام پوری امت کو دیا جارہا ہے۔ فرداً فرداً سارے ہی مسلمان ان احکامِ قرآن کے مخاطب ہیں اور ان کا فرض بنتا ہے کہ اللہ کی طرف بلانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اس دعوت کو لے کر پوری دنیا پر چھا جائیں۔عام مسلمان ان احکام کی ادائی میں غفلت کے شکار ہوجائیں توبات کسی حد تک سمجھ میں آسکتی ہے اور ان کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا ہے ۔لیکن وارثین انبیاء بھی اس مشن کو بھلا دیں اور دعوت دین کا کام سرے سے ترک کردیں،کسی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔
دعوت دین یعنی غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینا شہادتِ حق بھی ہے، اللہ کا واضح فرمان موجود ہے:
وَکَذَٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃَ وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا۔(البقرۃ:)
اوراسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’امت وسط‘‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو ۔
’’لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ‘‘اس امت کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے لوگوں پر حق کی گواہ ہو۔ یعنی جس طرح رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنے قول و فعل سے پوری زندگی حق کی گواہی دی اور اس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اب امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے لیے حق کی زندہ شہادت ہواور اس دین حق کا عملی ثبوت فراہم کرے۔امت مسلمہ کو دیکھ کر دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور انسانیت کے لیے حقیقی راہِ نجات کیا ہے؟ اس گواہی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس طرح نبی مکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے تبلیغ دین کا حق ادا کیا ، پوری زندگی اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچاتے رہے اسی طرح اس کا حق ادا کیا جائے اور پوری زندگی اس مشن کوزندہ اور قائم رکھاجائے۔
اس آیت کی شرح وتفسیر میں مفسرین کی یہ صراحت ملتی ہے کہ ہم مسلمانوں کو روز محشر اللہ کی عدالت میں اس بات کی شہادت دینی ہوگی کہ اے اللہ تیرے رسول صلى الله عليه وآله وسلم کے ذریعہ ہم کوجو ہدایت ملی تھی، ہم مسلمانوں نے اسے تیرے عام بندوں تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اے اللہ! ترے آخری نبی اور رسول صلى الله عليه وآله وسلم کے واسطہ سے ہم کوجو دینِ حق ملا تھا، ہم نے اسے من وعن پوری دنیا تک پہنچادیا اور اسے قبول کرنے کی عام دعوت دی۔ظاہر ہے اس دنیا میں اگر ہم نے دعوت دین کا کام نہیں کیا اور اللہ کے بندوں تک دین حق کا پیغام لے کرنہیں پہنچے اور ان کو قبول اسلام کی دعوت نہیں دی تو آخرت میں اللہ کے دربار میں یہ گواہی ہم کیسے دے سکیں گے ؟جس کا اس آیت مبارکہ میں مطالبہ ہے اور جس گواہی کے لیے بہر حال پیش ہونا ہے۔
آخری خطبہ میں رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے پورے مجمعِ عام سے گواہی بھی لی کہ تم سب اس بات کے گواہ رہنا کہ مجھ پر تبلیغ دین کی جو ذمہ داری تھی، میں نے اسے ادا کردیا ہے۔ اسی طرح آج دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی یہ ذمہ داری ہم مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔غور کیجیے! کیا امت مسلمہ پوری دنیا کو مخاطب کرکے کہہ سکتی ہے کہ اے دنیا والو!تم سب گواہ رہنا کہ اللہ تعالی نے بحیثیت امت مسلمہ ہم پرتبلیغ دین کی جو ذمہ داری ڈالی تھی، وہ ذمہ داری ہم نے ادا کردی ہے۔ پوری دنیا تو کیا ہم اپنی بستی یا قرب وجوار کے غیر مسلم باشندوں کو مخاطب کرکے بھی ایسا نہیں کہہ سکتے ،کیوں کہ ہم نے مطلوبہ انداز میں ان تک دین کی بات پہنچائی ہی نہیں ہے۔
دوسری آیت جس میں امت مسلمہ کا مقصد وجود بتایا گیا ہے۔ وہ قرآن مجید کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر110 ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے:
کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُوؤمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔
(اب دنیا میں )وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں( کی ہدایت واصلاح )کے لیے میدان میں لایا گیا ہے ۔تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اس آیت سے امت وسط کی مزید تشریح ہوتی ہے ۔امت وسط کا صاف مطلب ہے خیر امت یعنی سب سے اچھی وبہتر اور اشرف واعلیٰ جماعت۔ آج امت مسلمہ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو پہلے بنی اسرائیل کو حاصل تھی۔ جس کا بیان مختلف اسالیب میں متعدد بار قرآن مجید میں آیا ہے۔ اس خیر امت کو اللہ نے دنیا کے جملہ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے برپا کیا ہے۔ا س کا دائرہ عمل پوری دنیا ہے اور اس کی مخاطب پوری انسانیت یعنی دنیا میں بسنے والے سارے انسان ہیں۔ آخر ’’ اُخْرِجَتْ لِلنَّاس‘‘کیوں کہا گیا ہے؟ خیر امت کو برپا کیا گیا ہے معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کے لیے ۔ یہ معروف کیا ہے؟ اورمنکر کسے کہتے ہیں؟ اس کی وضاحت اور لغوی وشرعی مفہوم بھی اس سے قبل کی آیت جس کا حوالہ دیا گیا ہے، اسی سے ہوتی ہے۔ یعنی امت مسلمہ کے ذمہ ٹھیک وہی فرائض ہیں، جو نبی پاک صلى الله عليه وآله وسلم اور دیگر انبیاء کا فرض منصبی تھا۔ یعنی جس کارعظیم کے لیے نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم کی بعثت ہوئی تھی بعینہ وہی مقاصد ہیں، جن کی انجام دہی کے لیے امت مسلمہ کو برپا کیا گیا ہے۔ بتلانا مقصود یہ ہے کہ امر بالمعروف ،نہی عن المنکر اور ایمان باللہ کارنبوت کی ایک قرآنی تعبیر وتوضیح ہے۔
دعوت دین دنیا کا سب سے عمدہ کام: اس دنیا کی سب سے بڑی سچائی اسلام ہے اور یہی نجات کا واحد راستہ ہے ۔ اس کی طرف لوگوں کو بلانا ،سب سے بڑی نیکی ہے۔ اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اللہ کا وجود ہے۔توحید کا پیغام عام کرنے اور انسانیت کو بندگی رب کی دعوت دینا ہی سب سے بہتر کام ہے۔ ظاہر ہے جو لوگ اسلام کی دعوت دیں گے ان کی پہلی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس پر عمل کریں۔ نیک بنیں اور اپنے اعمال وکردار سے اس سچائی کو ثابت کریں ۔ قرآن مجید میں ایک جگہ اسی بات کو بڑے خوب صورت انداز میں کہا گیا ہے:
وَمَنْ اأحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(حم السجدۃ)
اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا میں مسلمان ہوں۔
دعوت دین اوراشاعت اسلام ایک اہم فریضہ ہے، انبیاء ورسل کا طریقہ ہے، صحابہ كرام رضوان الله عليهم وتابعین كرام کی زندگی کا نشان امتیاز ہے، دعوت دین فلاح وکامیابی کی شاہ کلید ہے، اوراس سے پہلوتہی خسران وناکامی کا باعث ہے،اسی فریضہ کو ادا کرنے کی وجہ سے امت محمدیہ(صلى الله عليه وآله وسلم) کو خیرامت ہونے کا اعزاز ملا اوراسی فریضہ کو تر ک کردینے کی وجہ سے پچھلی قوموں پر عذاب الہی نازل ہوا، اوران کی صورتوں کو بندراورخنزیر کی شکل میں تبدیل کردیا گیا،جب تک امت محمدیہ صلى الله عليه وآله وسلم نے اس فریضہ کو ادا کیا ان کا آفتاب اقبال افق عالم پر چمکتا رہا، سرفرازی وکامرانی ان کے پابہ رکاب رہی،اورجب بھی اس نے اس فریضہ میں سستی وسہل انگاری سے کام لیا تووہ ذلت کی عمیق گھائیوں میں جاگری اور شکستہ پائی و زبوں حالی اس کا مقدر ٹھہری۔
فتح خیبر کے موقع سے جب آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے آخری دن جھنڈا حضرت علی رضي الله تعالى عنه کو دیا تو ان سے فرمایا: پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اور اے علی (رضي الله تعالى عنه ) تمہارے ذریعہ اگرایک بھی شخص اسلام قبول کرلے تویہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں کے حصول سے بھی بہتر ہے۔
انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے اللہ تعالی نے انبیاء كرام کو مبعوث فرمایا ۔ اللہ تعالى کے ان برگزیدہ بندوں نے انسانوں کی رہنمائی کی، ان کو مقصدِ زندگی سے آگاہ کیا ، خدا کی بندگی کا صحیح طریقہ بتایا ، زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا اور اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ معاملات ومعاشرت کے آداب سکھائے اور ان کی وحدت واجتماعیت قائم کی، دنیا اور اس کی نعمتوں کو برتنے کے اصول سکھائے، اللہ کے آخری رسول جناب محمد صلى الله عليه وآله وسلم پر نبوت وہدایت کا یہ زریں سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لیے کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ اللہ کا ارشاد ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ(الاحزاب)
(لوگو!)محمد صلى الله عليه وآله وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ،مگر وہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
متعدد احادیث میں نبی صلى الله عليه وآله وسلم نے بھی اس کی وضاحت کردی ہے کہ میں آخری نبی ہوں، اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کسی نے نبوت کا دعوی کیا تو جان لینا کہ وہ شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔
جن مقاصد کے پیشِ نظر انبیاء ورسل بھیجے جاتے تھے اور تبلیغ دین، احقاق حق و ابطال باطل، شہادت حق ،اقامت دین، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جو ذمہ داریاں ان پر ڈالی جاتی تھیں ، اب وہ جملہ ذمہ داریاں امت مسلمہ کو انجام دینی ہیں۔ یعنی انسانوں کی ہدایت ورہنمائی اور تبلیغ دین کا فریضہ اب امت مسلمہ کو انجام دینا ہوگا۔آخری نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی امت ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔البتہ علمائے امت جن کو نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے باقاعدہ وارث بتایا ہے۔یہ علماء نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم کے علم وحکمت اور فہم دین وشریعت کے وارث ہیں اورامت مسلمہ کے اندر ان کا خاص مقام ہے۔(ابوداود)
ظاہر ہے اعزازواکرام اور مقام ومرتبہ کے ساتھ جو ذمہ داریاں نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی تھیں، وہی ذمہ داریاں ان وارثین پربھی عائد ہوں گی اورا ن کی اصل ذمہ داری ہوگی کہ نبی كريم صلى الله عليه وآله وسلم کے مشن کو آگے بڑھائیں، اللہ تعالى کے دین سے غافل بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیں۔
جب اللہ سبحانہ و تعالی نے اس عالمِ رنگ و بو اور جہانِ نور و نکہت کی تزئین کے لیے سیّدنا حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے میں روح پھونک کر فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو فرشتوں نے فورًا اس حکم کی تعمیل کی؛ جب کہ ابلیس مردود نے اپنی برتری اور فوقیت ثابت کرنے کے لیے، حضرت آدم علیہ السلامـ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا؛ بلکہ فرمانِ خداوندی کو ٹھکرادیا اور ذات واجب الوجود سے بغاوت کرنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ اللہ تعالى نے اس حکم سے سرتابی پر ابلیس ملعون کو ہمیشہ کے لیے اپنے دربار سے دھتکار دیا۔ اس پر ابلیس نے بارگاہ ایزدی میں چیلنج کیا کہ وہ تا قیامت آنے والے بندگانِ خدا کو صراط مستقیم سے ہٹا کر، ضلالت و گمراہی کی راہ پر لانے کے لیے اپنے تمام حربے استعمال کرے گا اور ہر طرف سے تاک میں لگا رہے گا، جہاں کہیں بھی موقع پائے گا ، انھیں مقصد تخلیق سے دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالی نے ابلیس کے اس دعویٰ کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
‘‘قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ۔ ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ۔’’ (سورۃ اعراف)
ترجمہ: ‘‘بولا تو جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے،میں بھی ضروری بیٹھوں گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور دائیں سے اور بائیں سے اور نہ پائے گا تو اکثروں کو ان میں سے شکر گزار۔’’
اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر احسان عظیم کرتے ہوئے، ابلیس ملعون کے مکر و فریب سے بچانے کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہر قوم اور ہر خطہ میں موقع بہ موقع ، انبیاء و رسل علیہم السلام کی آمد و رفت ایک طویل زمانے تک جاری رہی اور سب سے آخر میں پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم کو انسان کو شرک و بت پرستی کے بھنور سے وحدانیت و توحید کے دعوت و تبلیغ کے لیے خاتم النبیین و المرسلین بنا کر مبعوث فرمایا۔ چنانچہ انبیاء و رسل ـ علیہم السلام ـ نے اپنی اپنی قوم میں، اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی، اللہ کے احکام كو ان تک پہنچایا، ان کو برائیوں سے روکا اور اچھے کاموں کے کرنے کا حکم دیا ۔رسول كريم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے بعد نبوت ورسالت كا یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور اس دعوت و تبلیغ کی ذمے داری اس ‘‘امّت محمدیہ ’’کے کندھے پر ڈال دی گئی؛ یہی وجہہ ہے کہ اس امّت کو ‘‘خیر ِامّت ’’ کے لقب سے نوازا گیا۔
اللہ تعالی نے سب سے اخیر میں جناب حضرت محمّد عربی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کو آخری نبی و رسول بنا کر بھیجا اور ان کی ہی ذاتِ اقدس پر نبوت و رسالت کا یہ مبارک سلسلہ ختم ہو گیا۔ انؐ کے بعد اب تک نہ کوئی نبی و رسول آیا ہے اور نہ آئے گا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
‘‘مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔’’ (سورۃ احزاب)
ترجمہ: ‘‘محمد تم میں سے کسی کے باپ نہیں؛ لیکن وہ اللہ کے بندے اور خاتم النبیین ہیں۔’’
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کو اللہ تعالی نے کسی ایک قوم یا ملک کا نبی و رسول بنا کر نہیں بھیجا؛ بلکہ ساری دنیا میں اللہ کے دین کی دعوت و تبلیغ اور اسلام کی پیغام رسانی کے لیے بھیجا۔ قرآن کریم نے صاف لفظوں میں اس حقیقت کا یوں اعلان کیا ہے:
‘‘قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ’’(سورۃ اعراف)
‘‘کہہ دیجئے! اے انسانو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔’’
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے اپنے منصب نبوت اور عہدہ رسالت کو بخوبی نبھایا، اللہ کے بندوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی اور ایک بہت بڑی تعداد کے قلوب کو شمع ایمان سے منور کرکے، گوشہ اسلام میں داخل کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ عليهم نے دعوت و تبلیغ کے ذریعے اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا۔

ُُُاُمتِ محمدیہ اور دعوتی مشن:
یہ اُمتِ محمدیہ (صلى الله عليه وآله وسلم ) اس دنيا پر یونہی بيكار پیدا نهيں کی گئی ہے؛ بلکہ اللہ سبحانہ و تعالی کو، اس دین کو قیامت تک باقی رکھنا تھا اور انبیاء و رسل علیہم السلام کا سلسلہ بھی آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی مبارک ذات پر ختم کردیا؛ اس لیے اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا کی قیادت و سیادت، قوم و ملت کی رہنمائی و نگرانی اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے فريضہ کو انجام دینے کے لیے اس امت کو پیدا فرمایا۔ اسی کام و عمل اور فريضہ کی وجہ سے اللہ نے قرآن کریم میں اس کو خیر الامم کے معزز لقب سے خطاب فرمایا، ارشاد خداوندی ہے:
‘‘کُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ۔’’ ( آل عمران)
ترجمہ: ‘‘تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں، حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو بُرے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر۔’’
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة الله عليه رقم طراز ہیں:
‘‘اے مسلمانو! خدا تعالی نے تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے۔ اس کے علم ازلی میں پہلے سے یہ بات مقدر ہو چکا تھا، جس کی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دیدی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و آله وسلم سب نبیوں سے افضل ہوں گے، آپ کی امت بھی جملہ امت و اقوام پر سبقت لے جائے گی؛ کیوںکہ اس کو سب سے اشرف و اکرم پیغمبر نصیب ہوگا۔ ادوم و اکمل شریعت ملےگی۔ علوم و معارف کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں گے۔ ایمان و عمل اور تقوی کی تمام شاخیں اس کی محنت اور قربانیوں سے سر سبز شاداب ہوںگی۔ وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی، بلکہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا۔ گویا اس کا وجود ہی اس لیے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لا كھڑا کرے۔ منکر (برے کاموں) میں کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور اور ہر قسم کی بد اخلاقی اور نا معقول باتیں شامل ہیں۔ ان سے روکنا بھی کئی طرح سے ہوگا۔ کبھی زبان سے، کبھی ہاتھ سے، کبھی قلم سے، کبھی تلوار سے، غرض ہر قسم کا جہاد اس میں داخل ہوگیا۔ یہ صفت جس قدر عموم و اہتمام سے امت محمدیہ صلى الله عليه وآله وسلم میں پائی جاتی ہے، پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔’’ (تفسیر عثمانی)
آج جب سوسائٹی اور معاشرہ کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ اولاد آدم ہر طرح کی برائیوں میں ملوث ہے، شرک و کفرکی دلدل میں پھنسی هوئي ہے، بدعات و خرافات ، ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے، رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اور رشوت خوری، فریب دہی، جعل سازی اور خیانت جیسے جرائم کے ارتکاب پر آمادہ ہے اور سب سے افسوس کی بات یہ کہ کار نبوت کی حامل خیر الامم جسے گم گشتہ راہ لوگوں کو صراط مستقیم پر لانے کے لیے ذمے داری تفویض کی گئی تھی اور مسیحا کی حیثیت سے بھیجا گیا تھا، وہ خود ہی بیمار ہو چکی ہے؛ اس لیے اس بیمار حال امت کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مرض سے شفایاب ہو کر، فرمان خداوندی کی اہمیت ، خصوصیت اور فضیلت کو سمجھے اور صحابہ کرام (رضوان الله عليهم )، تابعین عظام، ائمہ مجتہدین، اور سلف و صالحین کی طرح خلق ِخدا کو بندوں کی بندگی کےبجائےاللہ تعالى کی غلامی و پیروی کا درس دے، مختلف باطل مذاہب و ادیان میں بھٹکنے کے بجائے دین اسلام (جو عین دین فطرت ہے) کا سبق سکھائے اور دنیا کی تنگ کوٹھری کے حرص و لالچ کے بجائے جنت کے محلات اور حور و قصور کی ترغیب دے؛ تب یہ خیر امت اپنے مشن کو رو بہ عمل لانے والی ہوگی اور یہی اس سے مطلوب و مقصود ہے۔

دعوت و تبلیغ علمائے کرام کی دوہری ذمے داری:
إس ميں كوئي شك نهيں كه دعوت وتبليغ هر هر مسلمان كے لئے ضروري ولازمي هے ليكن علماء كرام چونكه آنبياء كرام كے وارث هيں إس لئے إن پر بطور خاص يه ذمه داري عائد هوتي هے كه وه نبي كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے وارث هونے كي وجه سے إس فريضه كو پوري تندهي سے أنجام ديں حضور آكرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے أرشاد فرمایا:
‘‘إِنَّ العُلماءَ وَرَثۃُ الأنبیاءِ، و إِنَّ الأنبیاءَ لم یُوَرِّثُوا دِینارًا و لا دِرھمًا؛ و إنَّما ورّثوا العلمَ؛ فمن أَخَذَ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافرٍ۔’’ (مشکوۃ)
ترجمہ: ‘‘یقینا علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے؛ بلکہ وہ علم ہی کا وارث بناتے ہیں؛ لہذا جس شخص نے اسے حاصل کرلیا، اس نے ایک بڑا حصہ حاصل کرلیا۔’’
اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ علماء انبیاء علیہم السلام کے علمی وارث ہیں؛ لہذا دینِ اسلام کی نشرو اشاعت، افرادِ امت کو اچھے کاموں کی رہنمائی اور برے کاموں سے روکنا اور اللہ سبحانہ و تعالى کے احکام کی اطاعت اور اس پر عمل پیرا ہونے کی تبلیغ کرنا: یہ تمام چیزیں علماء کرام کی ذمّےداریوں میں شامل ہیں۔ اس حقیقت کو واضح کردینا ضروری ہے کہ علماء کرام کی یہ دوہری ذمّے داری ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں تا قیام قیامت‘‘امت محمدیہ’’ کو اسلام و ایمان سے روشناس کرائیں اور جو لوگ پیغام اسلام کے حوالے تشنہ لب ہیں ، ان کی تشنگی بجھائیں۔ اگر کوئی دولت ایمان سے مالا مال ہے اور فرائض و واجبات ، اعمال صالحہ، تقوی و پرہیزگاری میں کوتاہی کرتا ہے تو اسے اس طرف بھی توجہ دلائی جائے۔
کار ِ دعوتِ دین جس قدر اہم اور ضروری ہی اسی طرح حکمت و دانائی، دستور العمل اور طور و طریقے کا متقاضی بھی ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ و السلام کو مختلف مواقع سے اس کے اصول و ضو ابط سکھلائے، جسے آج امت کے علماء و مبلغین کے لیے بھی اپنانا ضروری ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم کو دعوت و تبلیغ کا طریقہ سکھلاتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورہ نحل)
ترجمہ: ‘‘بلاؤ اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی طرح اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو۔’’
حضرت مفتی شفیع صاحبؒ آیت کریمہ مذکورہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ‘‘آیت مذکورہ میں دعوت کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہے:
اول: حکمت،
دوئم: موعظت
سوئم: مجادلہ بالتی ھی احسن۔
بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بناء پر ہیں۔
دعوت بالحکمہ، اہل علم و فہم کے لیے،
دعوت بالموعظہ، عوام کے لیے،
مجادلہ ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں شکوک و شبہات ہوں، یا جو عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں۔’’ مفتی صاحبؒ مزید رقم طراز ہیں: ‘‘دعوت الی اللہ در اصل انبیاء علیہم السلام کا منصب ہے، امت کے علماء اس منصب کو ان کے نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے کرتے ہیں۔ تو لازم ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہیں سے سیکھیں، جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہے، وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ و جدال کا موجب بن جاتی ہے۔(معارف القرآن)
اللہ تعالی نے اپنے محبوب ترین بندے اور جلیل القدر نبی حضرت موسی علیہ السلام کو جب فرعون کو دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ان کو یہ حکم فرمایا:
‘‘فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى’’ (سورہ طٰہ)
ترجمہ:‘‘سو کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے۔’’
اس آیت کریمہ میں فرعون جیسے ظالم و جابر اور جفا کار کے پاس بھی دعوت کے وقت نرم گفتاری، رقت انگیزی، سلیقہ مندی اور خوش آہنگی کا درس دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت مخاطب کے اعتبار سے دی جائے گی اور انبیاء علیہم السلام کے طریقے کو پیش نظر رکھ کر دعوت دی جائے گی، اگر اس راستے سے ذرہ برابر بھی بے توجہی کی گئی، تو داعی ناکام و نا مراد اور بے نیل و مرام رہے گا اور اس کی دعوت بے کار اور رائیگاں ہوگی۔

ترکِ دعوت سراسر تباہی کا پیش خیمہ:
آج یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اکثر مسلمان نان شبینہ کے محتاج ہیں، قتل و غارت گری کے شکار ہیں، ان پر ظالم و جابر حکمراں مسلط ہیں، ان کے ملکوں پر غاصبانہ قبضہ ہو رہا ہے، اپنے وطن میں رہتے ہوئےغیروں سے خائف ہیں، عزیز کو ذلیل کیا جا رہا ہے، مقدس مقامات: مساجد و خانقاہ کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے اور مدارس و مکاتب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب تباہی و بربادی کا سلسلہ لگا ہوا ہے اور مسلمان دفاعی قوت سے بھی محروم ہے، چہ جائيکہ اپنے دشمن کو مغلوب کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہ اور مرکزی سبب یہ ہے کہ مسلمانان عالم نے دعوت و تبلغ جیسی اہم ذمے داری کو ترک کردیا ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ ترک دعوت کے حوالے سےتحریر فرماتے ہیں:‘‘امت محمدیہ جب اس کام کو چھوڑ دے گی تو سخت مصائب و آلام اور ذلت و خواری میں مبتلا کردی جائے گی اور ہر قسم کی غیبی نصرت و مدد سے محروم ہوجائے گی، اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا کہ اس نے اپنے فرض منصبی کو نہیں پہچانا اور اس کی قدر نہ کی اور جس کام کے انجام دہی کی ذمہ داری تھی اس سے غافل رہی اور اس کو بھلائے رکھنے سے سستی و کاہلی عام ہوجائےگی، گمراہی و ضلالت کی شاہراہیں کھل جائےگی، آپس میں پھوٹ پڑ جائےگی، آبادیاں ویران ہوجائیں گی۔ مخلوق تباہ و برباد ہوجائے گی۔ اور یہ سب کچھ ہورہا ہے لیکن اس تباہی و بربادی کی خبر اس وقت ہوگی، جب میدان حشر میں خدا کے سامنے باز پرس کے لیے بلايا جائےگا۔ (قرآنی افادات)
المختصر يه كه تمام تفصيل سے یہ بات واضح اور عیاں ہوجاتی ہے کہ اس امت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی مدد و نصرت اور اعانت طلب کرتے ہوئے دعوت ِ دین کے کام کو مضبوطی سے پکڑ لے، اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی حفاظت کا فرض ادا کرے اور اس سے چشم پوشی سی اجتناب کرے، نہیں تو یہ کوئی دشوار کام نہیں کہ اللہ تعالی اپنے دین حنیف کی نشر و اشاعت اور حفاظت و صیانت کے لیے کسی دوسري قوم  کو منتخب کرکے ہمیں اپنے دربار سے گذشتہ امم و اقوام کی طرح مردود و مطرود کردے اور پھر ہم کہیں کے نہیں رہیں؛ کیوں کہ ہم اس ذات کے محتاج ہیں، وہ ہمارا محتاج نہیں؛ بلکہ وہ غنی اور بے نیاز ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔ إِن يَّشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَلِكَ 

عَلَى اللهِ بِعَزِيزٍ’’ (سورہ فاطر)
ترجمہ: ‘‘اے لوگو تم ہو محتاج اللہ کی طرف اور اللہ وہی ہے بے پرواه سب تعریفوں سے، اگر چاہے تم کو لے جائے اور لے آئے ایک نئی خلقت اور یہ بات اللہ پر مشکل نہیں۔’’
الله تعالى سے هر وقت يه دعا كرني چاهيے كه وه ذات هميں إس كام كے لئے قبول فرمالے اور ۔زندگي كے آخري سانس تك هميں يه كام كرنے كي توفيق عنايت فرما دے - آمين يا رب العلمين


دعوت و تبلیغ كي فضيلت:
دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے، رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كو چونكه قيامت تك كے لئے نبي اور رسول بنا كر بيجها گيا هے اس لئے  آپ صلى الله عليه وآله وسلم كے بعد اب كوئي نبي نهيں آئے گا ليكن كارِ نبوت يعني دعوت و تبليغ كا كام قيامت تك جاري رهے گا اس كے لئے يه ذمه داري اس امت پر ركهي گئي هے كه وه يه كام كرے  امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے- دین کی اصلاح اور بقا بھی اسی میں ہے کہ دعوت واصلاح اور تبلیغ دین کے شعبہ کو فعال رکھا جائے،دعوت و تبلیغ کا شعبہ جتنا مؤثر ہوگا عامۃ المسلمین کی دین سے وابستگی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ پھر کتاب وسنت میں دعوت و تبلیغ کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہےاور داعیوں اور واعظوں کے بہت اوصاف بیان ہوئے ہیں،موجودہ دور میں شعبہ تبلیغ کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہےاور علما و فضلا اور مبلغین کو اصلاح امت کے حوالہ سے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے ۔ 

دعوت و تبلیغ كي فضيلت:
(قرآن مجيد كي روشني ميں)

(1) وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (آل عمران)
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔

(2) کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِط وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُُهُمُ الْفٰسِقُوْنَo(آل عمران)
تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقینا ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

(3) يٰٓاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ط وَاﷲُ يَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اﷲَ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِيْنَo (المائدة)
اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اﷲ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بے شک اﷲ کافروں کو راهِ ہدایت نہیں دکھاتا۔

(4) قُلْ هٰذِهِ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اﷲِقف عَلٰی بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ط وَسُبْحٰنَ اﷲِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَo (يوسف)
(اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجیے: یہی میری راہ ہے۔ میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

(5) وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْکِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْکِرُ بَعْضَهُ ط قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اﷲَ وَلَآ اُشْرِکَ بِهِ ط اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰبِo (الرعد)
اور جن لوگوں کو ہم کتاب (تورات) دے چکے ہیں (اگر وہ صحیح مومن ہیں تو) وہ اس (قرآن) سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور ان (ہی کے) فرقوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اس کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں، فرما دیجیے کہ بس مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اﷲ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراؤں، اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹ کر جانا ہے۔

(6) اُدْعُ اِلٰی سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَo (النحل)
(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجیے جو نہایت حسین ہو، بے شک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔

(7) لِکُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا هُمْ نَاسِکُوْهُ فَـلَا يُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ط اِنَّکَ لَعَلٰی هُدًی مُّسْتَقِيْمٍo وَ اِنْ جَادَلُوْکَ فَقُلِ اﷲُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَo (الحج)
ہم نے ہر ایک امت کے لیے (احکامِ شریعت یا عبادت و قربانی کی) ایک راہ مقرر کر دی ہے، انہیں اسی پر چلنا ہے، سو یہ لوگ آپ سے ہرگز (اﷲ کے) حکم میں جھگڑا نہ کریں، اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں۔ بے شک آپ ہی سیدھی (راہِ) ہدایت پر ہیں۔ اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجیے: اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

(8) قُلْ اَطِيْعُوااﷲَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا ط وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُo (النور)
فرما دیجیے: تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو، پھر اگر تم نے (اطاعت) سے رُوگردانی کی تو (جان لو) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ وہی کچھ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جائو گے، اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے۔

(9) يٰـٓاَيُهَا النَّبِيُ اِنَّآ اَرْسَلْنٰـکَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًاo وَّ دَاعِيًا اِلَی اﷲِ بِاِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًاo (الأحزاب)
اے نبِیّ (مکرّم!) بے شک ہم نے آپ کو (حق اور خَلق کا) مشاہدہ کرنے والا اور (حُسنِ آخرت کی) خوشخبری دینے والا اور (عذابِ آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)۔

(10) وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اﷲِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَo (حم السجده)
اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے بے شک میں (اﷲل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

(11) فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ هُمْ ج وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ مِنْ کِتٰبٍ ج وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَکُمْ ط اَﷲُ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ ط لَـنَـآ اَعْمَالُـنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُـکُمْ ط لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَکُمْ ط اَﷲُ يَجْمَعُ بَيْنَنَاج وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُo (الشوری)
پس آپ اسی (دین) کے لیے دعوت دیتے رہیں اور جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے (اسی پر) قائم رہئے اور اُن کی خواہشات پر کان نہ دھریئے، اور (یہ) فرما دیجیے: جو کتاب بھی اللہ نے اتاری ہے میں اُس پر ایمان رکھتا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں۔ اللہ ہمارا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث و تکرار نہیں، اللہ ہم سب کو جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف (سب کا) پلٹنا ہے۔

(11) يُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِی الْخَيْرٰتِ ط وَاُولٰٓئِکَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَo (آل عمران)
وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور نیک کاموں میں تیزی سے بڑھتے ہیں، اور یہی لوگ نیکوکاروں میں سے ہیں۔

(12) اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَ الْاُمِّيَ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهُ مَکْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِيْلِ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ کَانَتْ عَلَيْهِمْ ط فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهِ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهُ لا اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (الأعراف)
(یہ وہ لوگ ہیں) جو اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتے ہیں جو امی (لقب) نبی ہیں (یعنی دنیا میں کسی شخص سے پڑھے بغیر منجانب اللہ لوگوں کو اخبارِ غیب اورمعاش و معاد کے علوم و معارف بتاتے ہیں) جن (کے اوصاف و کمالات) کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ان پر پلید چیزوں کو حرام کرتے ہیں اور اُن سے اُن کے بارِگراں اور طوقِ (قیود) - جو اُن پر (نافرمانیوں کے باعث مسلّط) تھے - ساق ط فرماتے (اور انہیں نعمتِ آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں۔ پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے، وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔

(13) وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍم يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ ط اُولٰٓئِکَ سَيَرْحَمُهُمُ اﷲُ ط اِنَّ اﷲَ عَزِيْزٌ حَکِيْمٌo (التوبة)
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بے شک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔

(14) وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا کَآفَّةً ط فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَo (التوبة)
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقُّہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں۔

(15) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْابِهِٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍم بَئِيْسٍم بِمَاکَانُوْا يَفْسُقُوْنَo (الاعراف)
پھر جب وہ ان (سب) باتوں کو فراموش کر بیٹھے جن کی انہیں نصیحت کی گئی تھی (تو) ہم نے ان لوگوں کو نجات دے دی جو برائی سے منع کرتے تھے (یعنی نہی عن المنکرکا فریضہ ادا کرتے تھے) اور ہم نے (بقیہ سب) لوگوں کو جو (عملاً یا سکوتاً) ظلم کرتے تھے نہایت برے عذاب میں پکڑلیا۔ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔

(16) خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَo (الأعراف)
(اے حبیبِ مکرّم!) آپ درگزر فرمانا اختیار کریں، اور بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔

(17) اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ ﷲِ ط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَo (التوبة)
(یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوںسے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قرب الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجیے۔

(18) وَاِلٰی مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ط قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اﷲَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهُ ط وَلَا تَنْقُصُوا الْمِکْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّيْٓ اَرَاکُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّيْٓ اَخَافُ عَلَيْکُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍo (هود)
اور (ہم نے اہلِ) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام کو بھیجا) انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور ناپ اور تول میں کمی مت کیا کرو بے شک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایسے دن کے عذاب کا خوف (محسوس) کرتا ہوں جو (تمہیں) گھیر لینے والا ہے۔

(19) وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِيْo اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰ یٰـتِيْ وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِکْرِيْ o اِذْهَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهُ طَغٰیo فَقُوْلَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَکَّرُ اَوْ يَخْشٰیo (طه)
اور (اب) میں نے تمہیں اپنے (امرِ رسالت اور خصوصی انعام کے) لیے چن لیا ہے۔ تم اور تمہارا بھائی (ہارون) میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکشی میں حد سے گزر چکا ہے۔ سو تم دونوں اس سے نرم (انداز میں) گفتگو کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا (میرے غضب سے) ڈرنے لگے۔

(20) وَجَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً يَهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَآءَ الزَّکٰوةِ ج وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَo (الأنبياء)
اور ہم نے انہیں (یعنی انبیاء کو انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے۔

(21) اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَ ِﷲِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِo (الحج)
(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے۔

(22) يٰـبُنَيَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ ط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (لقمان)
اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بے شک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔

(23) وَالْعَصْرِo اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍo اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo (العصر)
زمانہ کی قَسم (جس کی گردش انسانی حالات پر گواہ ہے)۔ بے شک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور (معاشرے میں) ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے اور (تبلیغِ حق کے نتیجے میں پیش آمدہ مصائب و آلام میں) باہم صبر کی تاکید کرتے رہے۔

(24) يٰٓااَيُهَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَاَنْذِرْo وَرَبَّکَ فَکَبِّرْo وَ ثِيَابَکَ فَطَهِرْo (المدثر)
اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)۔ اُٹھیں اور (لوگوں کو اللہ کا) ڈر سنائیں۔ اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں۔ اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں۔

(25) وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُهَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَيَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْکُمْ شَهِيْدًا ط وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ کُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَيْهِ ط وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِيْرَةً اِلَّا عَلَی الَّذِيْنَ هَدَی ﷲُ ط وَمَا کَانَ اﷲُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَکُمْ ط اِنَّ ﷲَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِيْمٌo (البقرة)
اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو، اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بے شک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے، بے شک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔

(26) هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِی الْاُمِّيّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰـتِهِ وَيُزَکِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَةَ ق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰـلٍ مُّبِيْنٍo وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ط وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo ذٰلِکَ فَضْلُ اﷲِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَآءُ ط وَاﷲُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْمِo(الجمعة)
وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بے شک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لیے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے (جو اس وقت موجود ہیں یعنی اِن کے بعد کے زمانہ میں آئیں گے)، اور وہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے۔ یہ (یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور ان کا فیض و ہدایت) اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے اس سے نوازتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

(27) وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ط اِنَّ اﷲَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَo(البقرة)
اور اﷲ کی راہ میں ان سے (دفاعاً) جنگ کرو جو تم پر جنگ مسل ط کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بے شک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

(28) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ اُولٰٓئِکَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اﷲِ ط وَاﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo (البقرة)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اﷲ کے لیے وطن چھوڑا اور اﷲ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ اﷲ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

(29) يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِيْ سَبِيْلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo (المائدة)
اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔

(30) يٰٓاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِيْنِهِ فَسَوْفَ يَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُٓ لا اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْکٰفِرِيْنَ ز يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اﷲِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَآءُ ط وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo (المائدة)
اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے اﷲ کی راہ میں (خوب) جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ یہ (تعمیری کردار) اللہ کافضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اﷲ وسعت والا (ہے) خوب جاننے والا ہے۔

(31) وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَکُوْنَ الدِّيْنُ کُلُّهُ ِﷲِج فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اﷲَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌo (الأنفال)
اور (اے اہلِ حق!) تم ان (ظلم و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ (قیامِ اَمن کے لیے) جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے۔ اور سب دین (یعنی نظام بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے۔

(32) اِنَّ اﷲَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ط يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَهْدِهِ مِنَ اﷲِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَيْعِکُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهِ ط وَذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُo (التوبه)
بے شک اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لیے (وعدۂ) جنت کے عوض خرید لیے ہیں، (اب) وہ اللہ کی راہ میں (قیامِ اَمن کے اعلیٰ تر مقصد کے لیے) جنگ کرتے ہیں، سو وہ (دورانِ جنگ) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کیے جاتے ہیں۔ (اﷲ نے) اپنے ذمۂ کرم پر پختہ وعدہ (لیا) ہے، تَورات میں (بھی) انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی)، اور کون اپنے وعدہ کو اﷲ سے زیادہ پورا کرنے والا ہے، سو (ایمان والو!) تم اپنے سودے پر خوشیاں منائو جس کے عوض تم نے (جان و مال کو) بیچا ہے، اور یہی تو زبردست کامیابی ہے۔

(33) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ ط اُولٰٓـئِکَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَo (الحجرات)
ایمان والے تو صرف وہ لوگ ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اﷲ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے، یہی وہ لوگ ہیں جو (دعوائے ایمان میں) سچیّ ہیں۔

(34) يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَةٍ تُنْجِيْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍo تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَرَسُوْلِهِ وَتُجَهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo يَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَيُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَ نْهٰرُ وَمَسٰکِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُo وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَهَا ط نَصْرٌ مِّنَ اﷲِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ ط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَo (الصف)
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتادوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچا لے؟۔ (وہ یہ ہے کہ) تم اللہ پر اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (کامل) ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جِن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور نہایت عمدہ رہائش گاہوں میں (ٹھہرائے گا) جو جناتِ عدن (یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتوں) میں ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے۔ اور (اس اُخروی نعمت کے علاوہ) ایک دوسری (دنیوی نعمت بھی عطا فرمائے گا)۔ جسے تم بہت چاہتے ہو، (وہ) اللہ کی جانب سے مدد اور جلد ملنے والی فتح ہے، اور (اے نبیِ مکرّم!) آپ مومنوں کو خوشخبری سنادیں (یہ فتحِ مکّہ اور فَارس و روم کی فتوحات کی شکل میں ظاہر ہوئی)۔

(35) وَ اِذَا جَآءَ هُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهِ ط وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ ط وَلَوْلَا فَضْلُ اﷲِ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَتُهُ لَا تَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلاًo (النساء)
اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ (بجائے شہرت دینے کے) اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی طرف لوٹا دیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی) بات کانتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس (خبر کی حقیقت) کو جان لیتے، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی تو یقینا چند ایک کے سوا تم (سب) شیطان کی پیروی کرنے لگتے۔

(36) وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا کَآفَّةً ط فَلَوْلَا نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَo (التوبة)
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقُّہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں۔

(37) وَجَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً يَهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ وَاِقَامَ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَآءَ الزَّکٰوةِ ج وَکَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَo (الأنبياء)
اور ہم نے انہیں (انسانیت کا) پیشوا بنایا وہ (لوگوں کو) ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف اعمالِ خیر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے (کے احکام) کی وحی بھیجی اور وہ سب ہمارے عبادت گزار تھے۔

(38) اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَ ِﷲِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِo (الحج)
(یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے۔

(39) وَجَاهِدُوْا فِی اﷲِ حَقَّ جِهَادِهِ ط هُوَ اجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْکُمْ فِی الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ط مِلَّةَ اَبِيْکُمْ اِبْرٰهِيْمَ ط هُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ هٰذَا لِيَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاﷲِ ط هُوَ مَوْلٰـکُمْ ج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِيْرُo (الحج)
اور (قیامِ اَمن اور تکریمِ اِنسانیت کے لیے ) اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم ( علیہ السلام ) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لیے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مدد گار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مدد گار ہے۔

(40) وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ط وَاِنَّ اﷲَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَo (العنکبوت)
اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (اور مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی (طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں، اور بے شک ﷲ تعالى صاحبانِ احسان کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے۔
يه نمونه كے طور پر آيات مباركه تحرير كردي هيں ورنه قرآن پاك ميں تو بيشمار مقامات پر دعوت وتبليغ كے مضمون كو مختلف انداز سے بيان كيا گيا هے الله تعالى هميں عمل كرنے كي توفيق عنايت فرمائے - آمين يا رب العلمين

دعوت و تبلیغ كي فضيلت:
(آحاديث مباركه كي روشني ميں)...

1. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: بَلِّغُوْا عَنِّي وَلَوْ آيَةً. وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ وَلَا حَرَجَ. وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.( رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ والترمذي)
حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف سے (ہر بات لوگوں تک) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي قِرْصَافَةَ رضی الله عنه ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : حَدِّثُوْا عَنِّي بِمَا تَسْمَعُوْنَ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَکْذِبَ عَلَيَّ. فَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ، وَقَالَ عَلَيَّ غَيْرَ مَا قُلْتُ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي جَهَنَّمَ يَرْتَعُ فِيْهِ. ( رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.)
ایک روایت میں حضرت ابو ِقرْصَافهَ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ بھی تم مجھ سے سنتے ہو اسے بیان کیا کرو اور کسی شخص کے لیے بھی مجھ پر جھوٹ باندھنا جائز نہیں ہے۔ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا اور میرے فرمان کے علاوہ میری طرف کچھ منسوب کیا اُس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا جس میں آتشِ جہنم اُس کی غذا ہوگی۔

2. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ دَعَا إِلٰی هُدًی، کَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُوْرِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَالِکَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنْ دَعَا إِلٰی ضَلَالَةٍ، کَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لَا يَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا.
( رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔

3. عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيئٌ. وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، کَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيئٌ. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.)
حضرت جَریر بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اسلام میں کسی نیک کام کی بنیاد ڈالی تو اس کے لیے اپنے عمل کا ثواب بھی ہے اور اُس کے بعد جو اس پر عمل کریں گے ان کا ثواب بھی ہے جبکہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ (اسی طرح) جس نے اسلام میں کسی بری بات کی ابتداء کی تو اُس پر اُس کے اپنے عمل کا گناہ بھی ہے اور جو اس کے بعد اُس پر عمل کریں گے اُن کا بھی گناہ ہے جبکہ اُن کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔

4. عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: نَضَّرَ اﷲُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا فَبَلَّغَهُ کَمَا سَمِعَ. فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ.
( رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه،)
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے (دوسروں) تک ایسے ہی پہنچایا جیسے سنا تھا کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں علم پہنچایا جائے (براہِ راست) سننے والے سے زیادہ اس کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں۔
وَفِي رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: نَضَّرَ اﷲُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيْثًا فَحَفِظَهُ حَتّٰی يُبَلِّغَهُ. فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلٰی مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيْهٍ.( رَوَاهُ أَبُوْ حَنِيْفَةَ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ).
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سن کر اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے آگے پہنچا دیا۔ بہت سے سمجھ بوجھ رکھنے والے اپنے سے زیادہ فہم و بصیرت رکھنے والے شخص کو (حدیث) پہنچاتے ہیں اور بہت سے فقہ کے حامل لوگ درحقیقت خود فقیہ نہیں ہوتے۔

5. عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رضی الله عنه قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًی فَقَالَ: نَضَّرَ اﷲُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا ثُمَّ أَدَّاهَا إِلٰی مَنْ لَمْ يَسْمَعْهَا. فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلٰی مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ منٰی میں مسجد خیف میں کھڑے ہو کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے جس نے میری بات کو سن کر اسے یاد رکھا پھر اسے اس شخص تک پہنچا دیا جس نے اسے نہیں سنا تھا۔ پس بہت سے سمجھ بوجھ والے دراصل فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے فقیہ (میری بات کو) اس شخص تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فہم و بصیرت رکھتا ہے۔

6. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : يَحْمِلُ ہٰذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلْفٍ عُدُوْلُهُ. يَنْفُوْنَ عَنْهُ تَحْرِيْفَ الْغَالِيْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِيْنَ وَتَأْوِيْلَ الْجَاهِلِيْنَ.
(رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي الرَّدِ عَلَی الزِّنَادِقَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ ).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بعد میں آنے والے لوگوں میں سے عادل لوگ اس علم کے حامل ہوں گے۔ وہ اس علم سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پسند لوگوں کے جھوٹے دعووں اور جاہلوں کی تاویل کو ختم کریں گے۔

7. عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِنَّ الدِّيْنَ لَيَأْرِزُ إِلَی الْحِجَازِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَيَةُ إِلٰی جُحْرِهَا، وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّيْنُ مَعْقِلَ الْأُرْوِيَةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ. إِنَّ الدِّيْنَ بَدَأَ غَرِيْبًا. وَيَرْجِعُ غَرِيْبًا. فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ الَّذِيْنَ يُصْلِحُوْنَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي.( رَوَاهُ التِّّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرَانِيٌُّ).
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آخری زمانے میں) دین حجاز کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ جاتا ہے۔ اور دین حجاز میں اس طرح پناہ لے گا جس طرح بکری پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لیتی ہے۔ بے شک دین کی ابتداء اجنبیت (اور تنہائی) سے ہوئی (یعنی دین کی اتباع اور پیروی کرنے والے سوسائٹی میں اجنبی لگتے تھے) اور ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین (معاشرے میں) پھر اجنبی لگے گا اور (دین کی تبلیغ کی خاطر) الگ تھلگ ہونے والوں کے لیے خوشخبری ہے جو میرے بعد میری اس سنت کی اصلاح کریں گے جسے لوگوں نے بگاڑ دیا ہو گا۔
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ: إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ. فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَاءِ. قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اﷲِ.( رَوَاهُ الْقُضَاعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.)
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین (یا فرمایا: اسلام) کی ابتداء اجنبیت سے ہوئی اور یہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا۔ غرباء (دین کی تبلیغ کی خاطر الگ تھلگ ہونے والوں) کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم ! غرباء (اجنبی لوگ) کون ہیں؟ فرمایا: وہ لوگ جو میری سنت کو زندہ کرتے اور اللہ کے بندوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں۔

11. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: إِيَاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ. فَقَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيْهَا. فَقَالَ: إِذْ أَبَيْتُمْ إِلاَّ الْمَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيْقَ حَقَّهُ. قَالُوْا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيْقِ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ، وَکَفُّ الْأَذٰی، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْکَرِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچتے رہنا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہمیں ایسی جگہوں پر بیٹھنے کے سوا چارہ کار نہیں کیونکہ ہم بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں۔ فرمایا: اگر تمہارا راستوں میں بیٹھنا ضروری ہے تو راستے کا حق ادا کر دیا کرو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! راستے کا حق کیا ہے؟ فرمایا: نظریں نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیز کا (راستہ سے) ہٹا دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے منع کرنا ۔

12. عَنْ حُذَيْفَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي هْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ، تُکَفِّرُهَا الصَّـلَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بَالْمَعْرُوْفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْکَرِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان کی آزمائش اس کے اہل و عیال، اس کے مال اور اس کے پڑوس (کے معاملات) میں ہے جس کا ازالہ نماز، خیرات و صدقات، (دوسروں کو) اچھی بات کا حکم دینے اور بری بات سے روکنے میں مضمر ہے۔

13. عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ، فَيَطْحَنُ فِيْهَا کَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ. فَيُطِيْفُ بِهِ هْلُ النَّارِ فَيَقُوْلُوْنَ: أَي فُـلَانُ، أَلَسْتَ کُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهٰی عَنِ الْمُنْکَرِ؟ فَيَقُوْلُ: إِنِّي کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ وَأَنْهٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَأَفْعَلُهُ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.)
حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (بروزِ قیامت) ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ وہ اس کے اندر اس طرح گھومے گا جیسے چکّی چلانے والا گدھا گھومتا ہے۔ جہنمی اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے: اے فلاں! کیا تو وہی نہیں ہے جو دوسروں کو اچھی باتوں کا حکم دیتا تھا اور بری باتوں سے منع کیا کرتا تھا؟ وہ جواب دے گا: ہاں میں اچھی باتوں کا حکم تو دیتا تھا لیکن خود اس پر (کما حقہ) عمل نہیں کرتا تھا اوربرے کاموں سے منع کرتا تھا لیکن خود اس سے باز نہیں رہتا تھا۔

14. عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رضی الله عنهما قاَلَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُوْدِ اﷲِ وَالْوَاقِعِ فِيْهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوْا سَفِيْنَةً فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْـلَاهَا. فَکَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّوْنَ بِالْمَاءِ عَلَی الَّذِيْنَ فِي أَعْـلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ. فَأَخَذَ فَأْسًا فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِيْنَةِ. فَأَتَوْهُ فَقَالُوْا: مَا لَکَ؟ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِي وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ. فَإِنْ أَخَذُوْا عَلٰی يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَکُوْهُ هْلَکُوْهُ وَهْلَکُوْا أَنْفُسَهُمْ.(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْبَزَّارُ.)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ کی حدود کے بارے میں نرمی برتنے والے اور ان میں مبتلا ہونے والے کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے کشتی میں (سفر کرنے کے سلسلے میں) قرعہ اندازی کی تو بعض کے حصے میں نیچے والی منزل آئی اور بعض کے حصے میں اوپر والی۔ پس نیچے والوں کو پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا تو اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ (چنانچہ اس خیال سے کہ اوپر کے لوگوں کو ان کے آنے جانے سے تکلیف ہوتی ہے) نیچے والوں میں سے ایک شخص نے کلہاڑا لیا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگا۔ اُوپر والے اس کے پاس آئے اور کہا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اُس نے کہا: تمہیں میری وجہ سے تکلیف ہوتی تھی اور پانی کے بغیر میرا گزارہ نہیں۔ پس اگر انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تو اسے بھی بچا لیا اور وہ خود بھی بچ گئے، لیکن اگر انہوں نے اسے (سوراخ کرنے کیلئے اس کی مرضی پر) چھوڑ دیا تو اسے بھی ہلاک کر دیا اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کرڈالا۔

15. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ. فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ. فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ. وَذَالِکَ أَضْعَفُ الْإِيْمَانِ.
(رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو) اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

16. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اﷲُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلاَّ کَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُوْنَ وَأَصْحَابٌ. يَأْخُذُوْنَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُوْنَ بِأَمْرِهِ. ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوْفٌ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ وَيَفْعَلُوْنَ مَا لاَ يُؤْمَرُوْنَ. فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ. وَلَيْسَ وَرَائَ ذَالِکَ مِنَ الإِْيْمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.)
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جس اُمت میں جو بھی نبی بھیجا اس نبی کے لیے اس کی اُمت میں سے کچھ مددگار اور رفقاء ہوتے تھے جو اپنے نبی کے طریقہ پر کار بند ہوتے اور ان کے حکم کی پیروی کرتے۔ پھر ان صحابہ کے بعد کچھ ناخلف (نالائق) لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے فعل کے خلاف قول اور قول کے خلاف فعل کیا۔ لہٰذا جس شخص نے اپنے ہاتھ سے (اُن کی اصلاح کیلئے) ان سے جہاد کیا وہ مومن ہے، جس نے اپنی زبان سے ان کے لیے جہاد کیا وہ بھی مومن ہے اور جس نے اپنے دل سے ان کیلئے جہاد کیا وہ بھی مومن ہے۔ اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے۔

17. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالُوْا لِلنَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، ذَهَبَ هْلُ الدُّثُوْرِ بِالْأُجُوْرِ. يُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّي، وَيَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ، وَيَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ أَمْوَالِهِمْ. قَالَ: أَوْ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اﷲُ لَکُمْ مَا تَصَّدَّقُوْنَ؟ إِنَّ بِکُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً، وَکُلِّ تَکْبِيْرَةٍ صَدَقَةً، وَکُلِّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةً، وَکُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْکَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِکُمْ صَدَقَةٌ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَکُوْنُ لَهُ فِيْهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَکَانَ عَلَيْهِ فِيْهَا وِزْرٌ؟ فَکَذَالِکَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ کَانَ لَهُ أَجْرًا.
(رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الْأَدَبِ.)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض صحابہ کرامlنے آپ سے عرض کیا: یارسول اﷲ! مال والے تو ثواب لُوٹ کر لے گئے۔ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، اور اپنے زائد مال سے صدقہ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے صدقہ کا سبب نہیں بنایا؟ ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر بار الْحَمْدُ ِﷲِ کہنا صدقہ ہے، ہر بار لَا إِلٰهَ إلّا اﷲ کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، تمہارا عملِ تزویج کرنا صدقہ ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرنے کی غرض سے عملِ تزویج کرتا ہے تو اس کے لئے اس عمل میں اجر بھی ہوتا ہے۔ (یہ کیسے ہے)؟ فرمایا: بھلا بتلاؤ اگر کوئی حرام طریقہ سے اپنی شہوت کو پوری کرے تو کیا اسے گناہ ہوگا؟ (یقینا ہوگا) تو! اِسی طرح جب وہ حلال طریقہ سے اپنی شہوت پوری کرے گا تو اُس کو اَجر بھی ملے گا۔۔
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : تَبَسُّمُکَ فِي وَجْهِ أَخِيْکَ لَکَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُکَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْيُکَ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَکَ صَدَقَةٌ، وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيئِ الْبَصَرِ لََکَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُکَ الْحَجَرَ وَالشَّوْکَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيْقِ لَکَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِي دَلْوِ أَخِيْکَ لَکَ صَدَقَةٌ.(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَزَّارُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْبُخَارِيُّ فِي الأَدَبِ.)
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر پیش آنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا تمہارے لئے صدقہ ہے، بھٹکے ہوئے کو سیدھا راستہ بتانا تمہارے لئے صدقہ ہے۔کسی اندھے کو راستہ دکھانا صدقہ ہے۔ راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ) ہٹانا تمہارے لئے صدقہ ہے۔ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا (بھی) تمہارے لئے صدقہ ہے۔

18. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّهُ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلٰی سِتِّيْنَ وَثَـلَاثِ مِائَةِ مَفْصِلٍ. فَمَنْ کَبَّرَ اﷲَ، وَحَمِدَ اﷲَ، وَهَلَّلَ اﷲَ، وَسَبَّحَ اﷲَ، وَاسْتَغْفَرَ اﷲَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْکَةً أَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ، وَأَمَرَ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ نَهٰی عَنْ مُنْکَرٍ، عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّيْنَ وَالثَّـلَاثِمِائَةِ السُّلَامَی. فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ.
(رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ).
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کی تخلیق تین سو ساٹھ جوڑوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ تو جو شخص ایک دن میں اپنے جسم کے ان تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر اَﷲُ أَکْبَر، اَلْحَمْدُ ِﷲِ، لَا إلٰهَ إِلَّا اﷲُ، سُبْحَانَ اﷲِ اور أَسْتَغْفِرُ اﷲَ کہتا ہے، لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو ہٹا دیتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے یا برائی سے روکتا ہے، تو اُس دن وہ اس طرح چل رہا ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو آتشِ جہنم سے بچالیا۔

19. عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: لَيْسَ مِنْ نَفْسِ ابْنِ آدََمَ إِلاَّ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي کُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيْهِ الشَّمْسُ. قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبْوَابَ الْخَيْرِ لَکَثِيْرَةٌ: التَّسْبِيْحُ وَالتَّحْمِيْدُ وَالتَّکْبِيْرُ وَالتَّهْلِيْلُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَتُمِيْطُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ، وَتَهْدِي الْأَعْمٰی، وَتَدُلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلٰی حَاجَتِهِ، وَتَسْعٰی بِشِدَّةِ سَاقَيْکَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيْثِ، وَتَحْمِلُ بِشِدِّةِ ذِرَاعَيْکَ مَعَ الضَّعِيْفِ. فَهٰذَا کُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْکَ عَلٰی نَفْسِکَ.
(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ )ُ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز، جس میں سورج طلوع ہے، ہر انسان پر صدقہ لازم ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اﷲ! ہم میں ہر ایک کے پاس صدقہ کے لیے سامان کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی کے دروازے بہت ہیں۔ سُبْحَانَ اﷲِ، الْحَمْدُ ِﷲِ، اﷲُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ کہنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا، بہرے کو بات سنوانا، نابینا کو راستہ بتانا، راہنمائی چاہنے والے کی راہنمائی دینا، اپنی ٹانگوں کی ساری توانائی استعمال کرتے ہوئے مظلوم فریادی کی مدد کو جانا اور اپنی پوری قوتِ بازو سے ضعیف کی امداد کرنا۔ یہ سب تمہاری طرف سے تمہاری جان کے لیے صدقہ ہیں۔

20. عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَفَزَهُ شَيْئٌ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَلَمْ يُکَلِّمْ أَحَدًا. فَدَنَوْتُ مِنَ الْحُجُرَاتِ فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: يَا أَيُهَا النَّاسُ، إِنَّ اﷲَ ل يَقُوْلُ: مُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُوْنِي فَـلَا أُجِيْبُکُمْ، وَتَسْأَلُوْنِي فَـلَا أُعْطِيْکُمْ، وَتَسْتَنْصِرُوْنِي فَـلَا أَنْصُرُکُمْ. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.)
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها بیان کرتی ہیں: (ایک مرتبہ) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ کے چہرۂِ اقدس سے جان لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ فرمانا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا پھر کسی سے کلام کیے بغیر باہر تشریف لے گئے۔ میں حجروں (کی طرف سے مسجد) کے قریب ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! بے شک اللہ ل فرماتا ہے: نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ (وہ وقت آ جائے جب) تم مجھ سے دعا مانگو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو اور میں تم کو عطا نہ کروں اور تم مجھ سے میری مدد طلب کرو اور میں تمہاری مدد نہ کروں۔
وَفِي رِوَايَةِ عَنْهَا رضی الله عنها قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، قَبْلَ أَنْ تَدْعُوْا فَـلَا يُسْتَجَابُ لَکُمْ.(رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالطَّبَرَانِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.)
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو قبل اس کے کہ (ایسا وقت آجائے جب) تم اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگو (مگر) تمہاری دعا کو قبول نہ کیا جائے۔

21. عَنْ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی الله عنه أَنَّهُ قَالَ: أَيُهَا النَّاسُ، إِنَّکُمْ تَقْرَئُوْنَ هٰذِهِ الآيَةَ: {يٰٓـاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج لَا يَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ} ]المائدة، 5/ 105[. وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوْا عَلٰی يَدَيْهِ، أَوْشَکَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اﷲُ بِعِقَابٍ مِنْهُ.  (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّهُ وَابْنُ مَاجَه ).
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: ’اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر کرو۔ تمہیں کوئی گمراہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر تم ہدایت یافتہ ہو چکے ہو۔‘ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ اُن سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔

22. عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ أَوْ لَيُوْشِکَنَّ اﷲُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْکُمْ عِقَابًا مِنْهُ. ثُمَّ تَدْعُوْنَهُ فَـلَا يُسْتَجَابُ لَکُمْ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.).
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! تمہیں بہر صورت نیکی کا حکم دینا چاہیے اور برائی سے منع کرنا چاہیے ورنہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیجے گا۔ پھر تم اسے (مدد کے لیے) پکارو گے تو تمہاری پکار مستجاب نہیں ہوگی۔

23. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَتَأْمُرُْنَّ بِالْمَعْرُوْفَ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ أَوْ لَيُسَلِّطَنَّ اﷲُ عَلَيْکُمْ شِرَارَکُمَ. ثُمَّ يَدْعُوْ خِيَارُکُمْ فَـلَا يُسْتَجَابُ لَکُمْ.( رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں ضرور نیکی کا حکم دینا چاہیے اور برائی سے منع کرنا چاہیے ورنہ اﷲ تعالیٰ تم میں سے برے لوگوں کو تم پر مسل ط کر دے گا۔ پھر تم میں سے جو اچھے لوگ ہیں وہ اﷲ تعالیٰ سے (مدد کی) دعا کریں گے لیکن ان کی دعا تمہارے حق میں قبول نہیں ہوگی۔

24. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَمَّا وَقَعَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ فيِ الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوْا. فَجَالَسُوْهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ وَوَاکَلُوْهُمْ وَشَارَبُوْهُمْ فَضَرَبَ اﷲُ قُلُوْبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ {عَلٰی لِسَانِ دَاؤدَ وَعِيْسَی ابْنِ مَرْيَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا يَعْتَدُوْنَo} [المائدة، 5/ 78]. قَالَ: فَجَلَسَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ: لَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتّٰی تَأْطُرُوْهُمْ عَلَی الْحَقِّ أَطْرًا.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِيُّ ).
حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے انہیں روکا لیکن وہ باز نہ آئے۔ پھر ان کے علماء ان کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو باہم دگر الجھا دیا {اُنہیں حضرت داؤد اور حضرت عیسٰی ابن مریم ( علیہما السلام ) کی زبان پر (سے) لعنت کی جاچکی (ہے)۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے تجاوز کرتے تھے}۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (یہ فرماتے ہوئے) حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جب تک تم اُن کو اچھی طرح حق کی طرف پھیر نہ دو (تم اپنے فرض سے سبک دوش نہیں ہو سکتے)۔

25. عَنْ جَرِيْرٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَکُوْنُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيْهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُوْنَ عَلٰی أَنْ يُغَيِّرُوْا عَلَيْهِ فَـلَا يَغَيِّرُوْا إِلاَّ أَصَابَهُمُ اﷲُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوْتُوا.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاؤدَ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ).
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص بھی ایسی قوم میں رہتا ہو جس میں برے کام کئے جاتے ہوں اور لوگ ان کو روکنے کی قدرت رکھنے کے باوجود نہ روکتے ہوں تو اﷲ تعالیٰ انہیں ان کی موت سے قبل عذاب میں مبتلا کر دے گا۔

26. عَنْ عَدِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: إِنَّ اﷲَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّی يَرَوُا الْمُنْکَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ وَهُمْ قَادِرُوْنَ عَلَی أَنْ يُنْکِرُوْهُ فَـلَا يُنْکِرُوْهُ. فَإِذَا فَعَلُوْا ذَالِکَ عَذَّبَ اﷲُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَمَالِکٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ.)
حضرت عدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک اﷲ تعالیٰ عوام کو خاص لوگوں کے برے اعمال کے سبب سے عذاب نہیں دیتا جب تک کہ وہ (عوام) اپنے درمیان برائی کو کھلے عام پائیں اور اُس کو روکنے پر قادر ہونے کے باوجود نہ روکیں۔ لہٰذا جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اﷲ تعالیٰ خاص و عام سب لوگوں کو (بلا امتیاز) عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔

27. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : لَا يَحْقِرْ أَحَدُکُمْ نَفْسَهُ. قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، کَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ؟ قَالَ: يَرَی أَمْرًا ِﷲِ عَلَيْهِ فِيْهِ مَقَالٌ ثُمَّ لَا يَقُوْلُ فِيْهِ. فَيَقُوْلُ اﷲُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَقُوْلَ فِي کَذَا وَکَذَا؟ فَيَقُوْلُ: خَشْيَةُ النَّاسِ. فَيَقُوْلُ: فَإِيَايَ کُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَی.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهُ).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم میں سے کوئی کیسے اپنے آپ کو حقیر جان سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہ تم میں سے کوئی شخص کوئی معاملہ دیکھے اور اسے اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی معلوم ہو مگر وہ پھر بھی بیان نہ کرے تو اﷲ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن فرمائے گا : تجھے فلاں فلاں معاملہ میں (حق بات) کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے۔ اس پر اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں تو (ان سب سے بڑھ کر) مجھ سے ہی ڈرنا چاہیے تھا۔

28. عَنْ هُشَيْمٍ رضی الله عنه : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيْهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُوْنَ عَلٰی أَنْ يُغَيِّرُوْا ثُمَّ لاَ يُغَيِّرُوا إِلاَّ يُوْشِکُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اﷲُ مِنْهُ بِعِقَابٍ.
(رَوَاهُ أَبُوْ دَاؤدَ وَابْنُ حَبَّانَ وَالْبَيْهَقِيُّ.)
حضرت ھُشَیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس قوم میں برے کاموں کا اِرتکاب کیا جائے (اور اس کے ذمہ دار لوگ) اِن برے کاموں کو روکنے پر قدرت رکھنے کے باوجود بھی نہ روکیں تو قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان سب کو اپنے کسی عذاب میں مبتلا کر دے۔

29. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَيَأْتِيَنَّ عَلٰی أَحَدِکُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ هْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ).
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! تم لوگوں پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے لیکن میرا دیدار کرنا (اس وقت) ہر مومن کے نزدیک اس کے اہل و عیال اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا۔

30. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَکُوْنُوْنَ بَعْدِي. يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِهْلِهِ وَمَالِهِ. (رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں سے میرے ساتھ شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر ایک کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ اپنے سب اہل و عیال اور مال و اسباب کے بدلے میں میری زیارت کر لیں۔

31- عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُوْرِ أَوَّلِهِمْ فَيُنْکِرُوْنَ الْمُنْکَرَ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ.)
حضرت عبدا لرحمن حضرمی بیان کرتے ہیں: مجھے اس نے خبر دی جس نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک میری اُمت میں ایک قوم ایسی ہے جس کو پہلے لوگوں کے اجر و ثواب کی طرح کا اجر دیا جائے گا۔ وہ برائی سے منع کرنے والے ہوں گے۔

32- عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: إِنَّهُ سَيَکُوْنُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ. يَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَيُقَاتِلُوْنَ هْلَ الْفِتَنِ.(رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَذَکَرَهُ السَّيُوْطِيُّ.)
حضرت عبد الرحمن بن علاء حضرمی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں: مجھے اُس شخص نے بتایا جس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک اس اُمت کے آخر میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے لیے اجر اس اُمت کے اولین کے برابر ہو گا۔ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور فتنہ پرور لوگوںسے جہاد کریں گے۔

33- عن أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: طُوْبٰی لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوْبٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلٰی وَابْنُ حِبَّانَ.)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، اور سات بار خوشخبری اور مبارک باد ہو اُس کے لیے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔

34- عن جُمُعَةَ رضی الله عنه قَالَ: تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَمَعَنَا أَبُوْ عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. قَالَ: قَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، هَلْ أَحْدٌ خَيْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ وَجَاهَدْنَا مَعَکَ. قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ. يُؤْمِنُوْنَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي. (رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.)
حضرت ابو جمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دن کا کھانا کھایا۔ ہمارے ساتھ ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے بھی کوئی بہتر ہو گا؟ ہم آپ کی معیت میں ایمان لائے، اور آپ ہی کی معیت میں ہم نے جہاد کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ اُنہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہو گا (وہ اِس جہت سے تم سے بھی بہتر ہوں گے)۔

35- عن أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُوْنَ بَعْدِي. يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوِ اشْتَرَی رُؤْيَتِي بِهْلِهِ وَمَالِهِ. (رَوَاهُ الْحَاکِمُ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میری اُمت میں میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے میری زیارت خرید لے (یعنی اپنے اہل و مال کی قربانی دے کر ایک مرتبہ مجھے دیکھ لے)۔

36- عَمَرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْکُمْ إِيْمَاناً؟ قَالُوْا: الْمَلاَئِکَةُ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ! قَالُوْا: فَالنَّبِيُوْنَ. قَالَ: وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ! قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: وَمَا لَکُمْ لاَ تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِکُمْ! فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ: إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَاناً لَقَوْمٌ يَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِي. يَجِدُوْنَ صُحُفاً فِيْهَا کِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيْهَ.
(رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ ).
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے طریق سے اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے) فرمایا: تمہارے نزدیک ایمان کے لحاظ سے کون سی مخلوق سب سے محبوب ترین ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا: فرشتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ ہر وقت اپنے رب کی حضوری میں رہتے ہیں! اُنہوں نے عرض کیا: پھر انبیاء کرام f۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور انبیاء کرام کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ اُن پر وحی نازل ہوتی ہے! اُنہوں نے عرض کیا: تو پھر ہم (ہی ہوں گے)۔ فرمایا: تم ایمان کیوں نہیں لائو گے جب کہ خود میری ذات تم میں جلوہ افروز ہے! رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مخلوق میں میرے نزدیک پسندیدہ ترین ایمان ان لوگوں کا ہے جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ کئی کتابوں کو پائیں گے مگر (صرف میری) کتاب میں جو کچھ لکھا ہو گا (بِن دیکھے) اُس پر ایمان لائیں گے۔

37. عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ: اِعْلَمْ. قَالَ: مَا أَعْلَمُ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: اِعْلَمْ، يَا بِلَالُ. قَالَ: مَا أَعْلَمُ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيْتَتْ بَعْدِي؛ فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِهَا، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْئًا. وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةَ ضَلَالَةٍ لَا تُرْضِي اﷲَ وَرَسُوْلَهُ؛ کَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ أَوْزَارِ النَّاسِ شَيْئًا. (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه، ) .
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن الحارث سے فرمایا: جان لے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میں کیا جان لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! جان لے۔ اس نے پھر عرض کیا: یا رسول اﷲ! میں کیا جان لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد جس نے میری کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو مٹ چکی تھی تو اُس کو بعد ازاں اُس پر عمل کرنے والے ہر شخص کی مثل اجر ملے گا، جبکہ اُن (عمل پیرا ہونے والوں) کے اجر میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ (اسی طرح) جس کسی نے بدعت ضلالہ (یعنی گمراہی کی طرف لے جانے والی نئی چیز) نکالی جس سے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رضا حاصل نہیں ہوتی تو اُس کو اُس پر اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا اُس برائی کا ارتکاب کرنے والوں کو ہو گا، جبکہ ان لوگوں کے (گناہوں کے) بوجھ میںبھی کچھ کمی نہیں کی جائے گی۔

38. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائَنَا. قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، وَمَا خُلَفَاؤُکُمْ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ يَأْتُوْنَ مِنْ بَعْدِي يَرْوُوْنَ أَحَادِيْثِي وَسُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.(رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.)
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (یہ دعا کرتے ہوئے) سنا: اے اﷲ! ہمارے خلفاء پر رحم فرما۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے، میری احادیث اور سنت بیان کریں گے اور لوگوں کو سکھلائیں گے۔

39- عن حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رضی الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : رَحْمَةُ اﷲِ عَلَی خُلَفَائِي، ثلَاَثَ مَرَّاتٍ. قَالُوْا: وَمَنْ خُلَفَاؤُکَ، يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.(رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ نے تین مرتبہ دعا فرمائی: میرے خلفاء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟ فرمایا: وہ جو میری سنت کو زندہ کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں

40. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مُؤْمِنٌ يُجَهِدُ فِي سَبِيْلِ اﷲِ بَنَفْسِهِ وَمَالِهِ. قَالُوْا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اﷲَ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا شخص سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے جان و مال کے ذریعے جہاد کرنے والا مومن۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے دریافت کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو کسی گھاٹی میں رہ کر خشیتِ الٰہی اختیار کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنے کیلئے (انہیں) چھوڑ دیتا ہے۔

41- عن أَبِي عَبْسٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَرَّمَهُ اﷲُ عَلَی النَّارِ.(رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.)
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: حَرَّمَهُمَا اﷲُ عَلَی النَّارِ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.)
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَهُمَا حَرَامٌ عَلَی النَّارِ.(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.)
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَهُوَ حَرَامٌ عَلَی النَّارِ. (رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.)
حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے دوزخ کی آگ پر حرام فرما دیا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان (دونوں قدموں) کو آگ پر حرام کر دیا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ دونوں قدم آگ پر حرام ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ دوزخ پر حرام ہے۔

42- عن سَلْمَانَ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ رَابَطَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ يَوْمًا وَلَيْلَةً، کَانَتْ لَهُ کَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ. فَإِنْ مَاتَ جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي کَانَ يَعْمَلُ، وَأَمِنَ الْفَتَّانَ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ.(رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ )
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ روايت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات چوکس رہتا ہے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے ایک ماہ روزے رکھے اور قیام کیا۔ اگر کوئی شخص اس دوران فوت ہو جائے تو اس کے نامۂ اعمال میں ان اعمال کا اندراج جاری رہتا ہے جنہیں وہ سر انجام دیا کرتا تھا اور وہ (منکر و نکیر کی) آزمائش سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے (اُخروی) رزق کا حکم صادر کر دیا جاتا ہے۔

43- عن فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: کُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلٰی عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيْلِ اﷲِ، فَإِنَّهُ يُنْمٰی لَهُ عَمَلُهُ إِلٰی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ.وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَلْمُجَهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ).
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روايت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرنے والے کے عمل پر (اختتام اعمال کی) مہر لگا دی جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں چوکس رہتے ہوئے مرنے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے۔ نیز وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ ہی ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (بڑا) مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرتا ہے۔

44- عن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: اَلْغَزْوُ غَزْوَانِ. فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَی وَجْهَ اﷲِ، وَأَطَاعَ الإِْمَامَ، وَأَنْفَقَ الْکَرِيْمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيْکَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ کُلُّهُ. وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَائً وَسُمْعَةً، وَعَصَی الإِْمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْکَفَافِ.(رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبوْدَاؤدَ وَالنَّسَائِيُّ.)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روايت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غزوات دو طرح کے ہیں: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو طلب کیا، امام کی اطاعت کی، نفیس مال (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کیا، ساتھی سے نرمی برتی اور فساد سے بچا، بے شک اس (جہاد میں مجاہد) کا سونا اور جاگنا سب کا سب باعث ثواب ہے۔ (دوسرا وہ شخص) جو اظہارِ فخر، ریاکاری اور نام و نمود کی نیت سے جہاد کے لیے نکلے، امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد کرے تو وہ (جیسا گیا تھا) اُسی حالت میں لوٹے گا (یعنی اسے ثواب میں کچھ حصہ نہ ملے گا)۔

45- عن أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ وَجْهُهُ فِي سَبِيْلِ اﷲِ إِلَّا أَمَّنَهُ اﷲُ دُخَانَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَغْبَرُّ قَدَمَاهُ فِي سَبِيْلِ اﷲِ إِلَّا أَمَّنَ اﷲُ قَدَمَيْهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.(رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ).
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےروايت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا بھی چہرہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن آگ کے دھوئیں سے (بھی) محفوظ فرمائے گا۔ اور جس شخص کے بھی پاؤں اللہ تعالیٰ کی راہ میں غبار آلود ہوئے اللہ تعالیٰ اس کے قدموں کو قیامت کے دن آگ سے محفوظ فرمائے گا۔

46- عن سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ رضی الله عنه : أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ يُحْیِي بِهِ الْإِسْلَامَ لَمْ يَکُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الأَنْبِيَاءِ إِلَّا دَرَجَةٌ.(رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.)
حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اسلام کو زندہ کرنے کے لئے علم سیکھا، اُس کے اور انبیاء کے درمیان سوائے ایک درجے کے کوئی فرق نہیں ہوگا۔

دعوت و تبلیغ كي محنت:
دعوت وتبليغ كا باب بهت هي إهم باب هے هماري تمام عبادتوں كا مغز يهي دعوت وتبليغ هي هے تو گويا دعوت وتبليغ هماري تمام عبادتوں كي بنياد هے اور إس كي محنت كرنا بهي بهت ضرورى هے اور اگر بالفرض إس سے پهلے إس ميں كسي وجه سے سستي رهي هو اور يه محنت كرنے سے محرومي رهى هو تو اب بهي يه محنت كي جاسكتي هے بلكه كرني ضروري هے
يه تو هر شخص جانتا هے كه كوئى بهي مقصد حاصل كرنے كيلئے محنت كرنا لازم وملزوم هے پهر يه بهي بات واضح هے كه محنت تو هر شخص كرتا هے ليكن كامياب وهي هوتا هے جو محنت صحيح طريقه سے كررها هو اگر كوئى محنت تو كررها هے ليكن اسكا طريقه صحيح نهيں هے تو وه چاهے كتني هي محنت كرتا رهے وه كهبي بهي منزل پر نهيں پهنچ پائے گا إسكي مثال إسيطرح هے كه إيك شخص نے جانا تو إسلام آباد هے ليكن سفر وه كراچي كي طرف كررها هے وه چاهے كتني هي رفتار سے سفر كرتا رهے ليكن وه إسلام آباد كهبي بهي نهيں پهنچ سكے گا كيونكه اسكي محنت كا رخ صحيح نهيں هے
إسي طرح دين كے كسي بهي جز كي محنت كا فائده تب هوگا اگر وه صحيح نهج پر هوگي اور صحيح نهج وهي هوسكتي هے جو هميں رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم اور صحابه كرام سے محنت كا طريقه ملا اگر هم اپني مرضي كے طريقه پر محنت كريں گے تو كهبي بهي كامياب نه هونگے ليكن اگر وهي محنت رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے طريقه پر هوگي تو إنشاءالله هم دونوں جهانوں ميں كامياب هوجائيں گے
يهي صورت حال دعوت وتبليغ كي محنت كي هے كه دعوت وتبليغ كو صحيح معنوں ميں كرنے كيلئے محنت ضروري چيز هے اور إس كے فضائل اور بركات حاصل كرنے كے لئے يه محنت رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے طريقه پر هي هونا ضروري هے قرآن و سنت كي روشني ميں يه محنت بهي مندرجه زيل تين طريقوں سے هونا ضروري هے:
1- دعوت دينا

2- مشق كرنا

3- دعا كرنا

تو دعوت وتبليغ كے ثمرات صحيح طرح سے حاصل كرنے كے لئے ضروري هے كه هم إس كي محنت بهي اوپر ذكر كرده تين طريقوں سے كريں تاكه دعوت وتبليغ كے فوائد وبركات سے مستفيد هوسكيں إن شاء الله أئنده سطور ميں اوپر درج كرده تينوں طريقوں كے متعلق كچهـ عرض كرنے كي كوشش كي جائے گي۔

دعوت و تبلیغ كي دعوت:
دعوت و تبلیغ میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور اس کے مفہوم و یقین کی دعوت ہے۔ یعنی اللہ کی وحدانیت اور بڑائی کی اتنی دعوت دی جائے کہ دل اللہ کی ذات سے متاثر ہو جائے اور غیر کے تاثر سے پاک ہو جائے ، اس سے شرک کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں میں کامیابی کی اتنی دعوت دی جائے کہ سنتیں زندہ ہو جائیں اور بدعات کا خاتمہ ہو جائے - اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے سفر و حضر میں کلمہ کی خوب دعوت دی جائے. اس سے دوسرے کو دعوت کا فرض ساقط ہوگا اور آپکی اصلاح ہو جائیگی.
اکابرين اس ضمن میں کہتے ہیں:
تو ’’غیر اللہ سے ہونے کا یقین‘‘دل سے نکالواور ’’اللہ ہی سے ہونے کا یقین ‘‘دل میں ڈالواور اس کا راستہ ہے’’ كلمه كي دعوت‘‘۔
’یہ محنت (مکہ میں )دس سال تک کرائی ہے اس میں عبادت آپ نہیں دیکھیں گے ،ہمارا اور صحابہ کا فرق یہی ہے کہ انہوں نے دس سال تک کوئی چیز دیکھی نہیں،سوائے ’’دعوت‘‘کے ،اس لئے ان کو کوئی اشکال نہیں ہوا۔ہمارا قصہ کیا ہے ؟مسلمان کے گھر میں پیدا ہوگئے تو مسلمان،نماز پڑھ لی تو مسلمان،گائے کا گوشت کھالیا تو مسلمان،ہمارے مسلمان ہونے کی کئی شکلیں ہیں ،وہاں مسلمان شمار نہیں ہوتا تھا جب تک کہ وہ ’’صاحبِ دعوت‘‘نہ ہو‘‘۔
۔وہاں تو راستہ ہی ایک تھا ۔جو آتا تھا وہ ’’دعوت‘‘کے راستے سے آتا تھا اور دعوت کے راستے سے آنے کے بعد اس کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔دس سال تک کوئی عبادت نہیں تھی(مکہ میں)سوائے ’’دعوت الی اللہ ‘‘کے ۔
’’توحيد کی دعوت‘‘کا شرعی مفہوم کیا ہے؟
سورۃ الانعام کی آیت نمبر ۱۹ ميں الله تعالى كا فرمان هے
قُلْ اَىُّ شَىْءٍ اَكْبَـرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللّـٰهُ ۖ شَهِيْدٌ بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ ۚ وَاُوْحِىَ اِلَىَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَـغَ ۚ اَئِنَّكُمْ لَـتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّـٰهِ اٰلِـهَةً اُخْرٰى ۚ قُلْ لَّآ اَشْهَدُ ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِىْ بَرِىٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُـوْنَ
تو پوچھ کہ سب سے بڑا گواہ کون ہے، کہہ دو اللہ، میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور مجھ پر یہ قرآن اتارا گیا ہے تاکہ تمہیں اس کے ذریعہ سے ڈراؤں اور اس کو بھی جس تک یہ قرآن پہنچے، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی کوئی معبود ہیں، کہہ دو میں تو گواہی نہیں دیتا، کہہ دو وہی ایک معبود ہے اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔
آيت بالا کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے :
’’رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں تین کافر حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے محمد صلى الله عليه وآله وسلم!تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں جانتے ؟(توان کے جواب میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ) لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے ‘‘(اور جان لو کہ )میں اسی کلمہ کے ساتھ مبعوث ہوا ہوں اور اسی کلمہ کی طرف لوگوں کو دعوت دینے والا ہوں۔پس اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ
’’اے نبی !ان سے پوچھئے کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟‘‘۔
اسی طرح نبی کریم صلى الله عليه وآله وسلم کے اوصاف حمیدہ سے متعلق سورۃ الاحزاب کی آیت ﴿وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ ﴾کی تفسیرحضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت قتادہ رضي الله تعالى عنهم یوں فرماتے ہیں :
’’وداعیاً الی شھادة لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ‘‘
’’یعنی آپ صلى الله عليه وآله وسلم اس بات کی طرف دعوت دینے والے تھے کہ گواہی دو اس با ت کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نےحضرت معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه کودعوت دینے کا طریقہ سکھایا جبکہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم ان کو یمن کی طرف روانہ کررہے تھے: فرمايا
فَادْعُھُمْ الی شھادة أن لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
’’سب سے پہلے ان کو لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی طرف دعوت دو‘‘ ۔
پس ثابت ہواکہ شریعت اسلامی میں ’’ لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی دعوت‘‘ایک اہم دینی و شرعی اصطلاح ہے ،جس کا سمجھنا ہر مسلمان کے اوپر لازم ہے۔
لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ كي دعوت دينا تمام آنبياء كرام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا طريقه رها هے اور پهر إسي پر صحابه كرام عمل پيرا رهے اور پهر إسي پر آكابرين أمت كا عمل رها هے سو يه هر مسلمان كي ذمه دارى هے كه وه إس كلمه كي دعوت دوسروں كو دينے كي سعى كرے اور يه إيك حقيقت هے كه جتني إس كلمه كي دعوت دوسروں كو دي جائے گى اتنا هي إس كلمه كا يقين دعوت دينے والوں كے دلوں ميں آتا چلا جائے گا بيشمار لوگوں كي زندگياں إس بات كي شاهد هيں كه جب أنهوں نے إس محنت كو اپنا مقصد بنايا اور كلمه كي دعوت دوسروں كو دينى شروع كي تو الله تعالى نے ان كے دلوں ميں إس كلمه كے يقين كو مضبوط بنا ديا الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عطا فرمائيں- آمين - المختصر يه كه دعوت وتبليغ كي دعوت ميں سب سے مقدم لآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ كي هي دعوت هے
مذہب اسلام ایک عالمگیراورآفاقی مذہب ہے،یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا بواسطۂ خاتم النبیین سیدالمرسلین حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم مخلوق کے نام ایک ابدی صلاح وفلاح پرمشتمل پیغام و دعوت ہے۔اُمتِ مسلمہ اُس آخری نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی آخری امت ہے جواِس مبارک پیغام الٰہی کی حامل ہے۔ اس اِمت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک خاص اورمبارک پیغام ودعوت لے کرآئی ہے،لوگوں کواس کی طرف بلانا اورتمام اطراف عالم میں اس کی دعوت کو پھیلانا یہ إس اُمت کے افراد کی زندگی کا فریضہ ہے۔ اُمتِ محمدیہ صلى الله عليه وآله وسلم كا یہ مبارک فریضہ قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ کے نصوص اورنبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کی سیرت مقدسہ سے بالکل واضح طور پرثابت ہے،چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’کُنْتُمْ خَیْرَأمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ‘‘۔ (آل عمران)
ترجمہ:’’(اے مسلمانو!)تم بہترین امت ہوجولوگوں(کی نفع رسانی)کے لئے نکالی گئی هو،تم اچھے کاموں کا حکم کرتے ہواوربرے کاموں سے منع کرتے ہو‘‘۔
اس آیت کریمہ میں صاف اورکھلے لفظوں میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مسلم امت کا وجود ہی اس لئے ہوا ہے کہ وہ اُممِ عالم کی نفع رسانی کا فریضہ سرانجام دے،خیرکی طرف بلائے،معروف کی ترویج کرے اورمنکرات سے روکے۔اس سے بڑھ کرایک دوسری آیت مباركه میں اللہ رب العزت نے اس کام کے لئے ایک مستقل جماعت کا ہونا ضروری قراردیا،قرآن مجید میں ارشادِ خداوندی ہے:
’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ أُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ إلٰی الْخَیْرِیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِوَأُولٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘۔ 
(آل عمران)
ترجمہ:’’اورچاہئے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہوجولوگوںکونیکی کی طرف دعوت دیتی رہے اورامربالمعروف ونہی عن المنکرکرتی رہے اوریہی وہ لوگ ہیں جوفلاح پانے والے ہیں‘‘۔
فریضۂ دعوت میں نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کی نیابت اس سے مزید ایک قدم اورآگے بڑھ کرامت مسلمہ فریضۂ دعوت میں نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کی جانشین اور نائب ہے،اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کا فریضۂ منصبی بیان فرمایا، وہاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ کام حضوراقدس صلى الله عليه وآله وسلم کا ہے اورنبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کوحکم دیا کہ وہ اپنی اُمت کو یہ بتلا دیں کہ یہ کام متبعین کا بھی ہے،اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے:
’’قُلْ ہَـذِہٖ سَبِیْلِیْ أَدْعُوْ إِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ‘‘۔ (یوسف)
ترجمہ:’’اے نبی صلى الله عليه وآله وسلم !آپ فرمادیجئے، کہ یہ میراراستہ ہے میں لوگوںکو اللہ کی طرف بلاتا ہوںب صیرت کے ساتھ،یہ میرا اورمیری اتباع کرنے والوںکا بھی کام ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کو نبوت کے تین بڑے فرائض عطا کئے:

۱- تلاوتِ آیات ۔ 

۲- تزکیہ
۳- تعلیمِ کتاب وحکمت

 اُمتِ مسلمہ اپنے نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی جانشینی میں ان تینوں کاموں میں شریک ہے،یہ تینوں فرائض اُمت مسلمہ پرفرض کفایہ ہیں۔حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کے مبارک دور اور خیر القرون میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،تابعینؒ اوراس کے بعداسلافؒ نے ہر زمانے میں ان اُمور کی انجام دہی کی بھرپورسعی فرمائی۔ خود حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے لوگوںکوکتاب اللہ کی آیات پڑھ کرسنائیں، اس کے احکام بیان کئے،ان کوکتاب وحکمت کی تعلیم دی اوراپنی مبارک صحبت اور پُر تاثیر تدبیر سے ان کے باطن ونفوس کا تزکیہ بھی فرمایا۔ تاریخ دعوت وعزیمت خیرالقرون سے دوری کے زمانہ میں رفتہ رفتہ ان فرائض نبوت کی ادائیگی میں کوتاہی شروع ہوئی ،ظاہری علوم اورتزکیۂ باطن دوالگ الگ راہیں قراردی گئیں،نتیجہ یہ نکلا کہ علم والے دنیا کے طالب ہوئے اورتصوف وتزکیہ کے مدعی علوم شریعت سے بے بہرہ ہوگئے۔ لیکن بمقتضائے سنت الٰہی ہر زمانے میں ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہیں جن میں نورنبوت کے تعلیم وتربیت والے رنگ نمایاں طورسے یکجا تھے۔ان جلیل القدراورعظیم المرتبت شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے،ان نفوس قدسیہ کے تذکرہ کے لئے سینکڑوں کیا ہزاروں دفتر ناکافی ہیں،قریب کے زمانہ میں مفکرِاسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃاللہ علیہ ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ كتاب تحریر فرما کر اس سلسلۃ الذہب کی بعض کڑیوں کے روشن کردارکواُمت مسلمہ کے سامنے لائے۔

حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اُصولِ دعوت:
حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے مبارک عمل ’’دعوت‘‘ کے چند بنیادی اصول یہ ہیں:

پہلا اُصول:
تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت کا بنیادی اُصول خلق خدا پر شفقت اور خیرخواہی کا جذبہ ہے،بندگانِ خدا کی تباہ شدہ حالت سے وہ غمگین اورمتفکر ہو جاتے،ان کی خیرخواہی کے نتیجہ میں ان کا دل چاہتا تھا کہ کسی طرح ان کی امت سدھرجائے، راہ راست پر آجائے۔ قرآن مجید نے اس کوکہیں’’أنَالَکُمْ نَاصِحٌ أمِین‘‘کہیں’’وَنَصَحْتُ لَکُمْ‘‘ اور کہیں پر’’وَأنْصَحُ لَکُمْ‘‘کہہ کربیان کیاہے۔

دوسرا اُصول :
تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت میں یہ بات مشترکہ طورسے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام اوردعوت کے عمل پرکسی سے کوئی اجرت ومزدوری طلب نہیں کیا کرتے تھے،مخلوق سے دنیاوی اجر،تعریف ومحبتیں،وغیرہ تمام اغراض دنیوی سے مکمل استغناء برتتے تھے،جس کے نتیجہ میں ان کی دعوت نہایت مؤثراورنتیجہ خیزہوا کرتی تھی۔قرآن مجید نے اس اُصول کوان کے الفاظ میں بیان کیا هے
’’وَمَاأَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍإنْ أَجْرِیَ إلَّاعَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘۔ (الشعراء)
ترجمہ:’’اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ(حق)میرا بدلہ ہے اسی پروردگارِ عالم پر‘‘۔

تیسرا اُصول :
دعوت إلی الخیراورامربالمعروف ونہی عن المنکرکا ایک بڑا اور بنیادی اصول نرمی،نرم گوئی،حکمت وبصیرت اورایسے خلوص و محبت سے دوسرے کومخاطب کیا جائے کہ داعی کی بات مدعوکے نہ چاہتے ہوئے بھی اس اندازِتخاطب کی وجہ سے اُس کے دل کے نہاں خانوں میں اترجائے۔دعوت کے اس زریں اصول کواللہ رب العزت نے اس آیت مبارکہ میں بیان فرمایا ہے: ’’أدْعُ إِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ ‘‘۔ (النحل) ترجمہ:’’ آپ اپنے پروردگارکی طرف لوگوںکو دانش مندی اوراچھی نصیحت کے ذریعہ سے دعوت اوربحث ومباحثہ کریں تو وہ بھی خوبی سے‘‘۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اس نرمی وحکمت کا یہ مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں كه عقائد و فرائض میں مداہنت سے کام لیا جائے،مداہنت فی الدین بتعلیم قرآن ممنوع ہے۔

چوتھا اصول :
دعوت دینے والے داعیان حق کے لئے ضروری ہے کہ وہ دعوتِ خیرکے سلسلے میں سیرت نبوی صلى الله عليه وآله وسلم سے رہنمائی حاصل کریں،اورنہجِ نبوت کے اتباع کی کوشش کریں۔ حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی دعوت کے آغازمیں سب سے پہلے سب سے زیادہ تاکید توحید ورسالت یعنی کلمہ’’ لاإلہ إلااللّٰہ‘‘کی فرمائی، جس کے دل ودماغ میں کلمۂ طیبہ کی حقیقت اترگئی، اس کے لئے احکامات پرعمل پیرا ہونا آسان ہوگیا۔ خود احادیث مباركه میں آتا ہے کہ پہلے آیاتِ ترغیب نازل ہوئیں،پھرآیاتِ حلال وحرام نازل کی گئیں۔

پانچواں اصول :
تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی سیرت سے دعوت کا ایک اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام لوگوں کا اپنے پاس آنے کا انتظارنہیں فرماتے تھے،بلکہ دعوت حق لے کر خود ان کے پاس چل کرجایا کرتے تھے،یہ وصف حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم کی دعوت میں نمایاں طورسے پایا جاتا ہے، آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی سیرت مبارکہ اورآپ کے تبلیغی ودعوتی اسفاراس پر واضح اوربین دلیل ہیں۔

چھٹا اُصول :
داعی کے لئے دعوت إلی الخیرکے سلسلے میں ایک اہم اصول اپنے کاموںکو ترک کرکے ہجرت و خروج کواختیارکرنا اورپاکیزہ وعلمی وعملی ماحول میں جانا بھی ہے، جہاں سے مستفید ہوکر اپنی قوم و قبیلہ وعلاقہ میں آکراُن کوفیض یاب کرنا ہے۔

ساتواں اصول :
دعوت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے والوںکی تعلیم وتربیت کا زیادہ ترمدار صحبتِ اسلاف، باہمی تعلیم وتعلم پرہونا چاہئے۔ان کے دن دعوت إلی اللہ اوراموردین میں مصروف ومشغول ہوں اور راتیں تنہائی میں اپنے خالق ومالک کے ساتھ مناجات میں صرف ہوا کریں۔ دعوت الی الخیر کے یہ چند بنیادی اصول ہیں،پس دعوت وتبلیغ کی جوتحریک بھی مذکورہ اصولوں کے مطابق کام کرے گی تو ان کی محنت نہج نبوت اوراصلِ اول کے زیادہ سے زیادہ قریب تر ہوگی۔ دعوت و تبلیغ کے ان بنیادی اصولوں سے متعلق حضرت مولانا سید سلیمان ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت مولاناابوالحسن علی ندوی رحمۃاللہ کی تصنیف’’مولانا محمدالیاس اوران کی دینی دعوت‘‘ کے مقدمہ میں تفصیل سے گفتگو فرمائی ہے۔ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کی تحریک دعوت وتبلیغ قرآن وحدیث،نہج نبوت اورسیرت نبوی صلى الله عليه وآله وسلم سے ماخوذ دعوت کے ان مذکورہ بالا اصولوں سے سب سے زیادہ میل کھانے والی تحریک اورمطابقت رکھنے والاعمل قریب کے زمانے میں مجدد دعوت و تبلیغ،مصلح کبیر،حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کی دعوت وتبلیغ کی تحریک اور دعوت والی محنت ہے۔ابتداء میں حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃاللہ علیہ نے مکاتب دینیہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی اصلاح احوال کی فکرومحنت فرمائی،مگرماحول کی عمومی بے دینی، جہالت وظلمت کے اثر سے جب یہ مکاتب بھی محفوظ نہ دیکھے،اورعمومی طورسے مسلمانوںکی دینی ضرورتوںکی عدم تکمیل واضح طور سے سامنے آنے کے بعدآپ اس نتیجہ پرپہنچے کہ خواص وافراد کی اصلاح اوردینی ترقی مرض کاعلاج نہیں ،جب تک عام آدمیوں میں دین نہ آئے،کچھ نہیں ہوسکتا۔ تائیدغیبی چنانچہ جب آپ ۱۳۴۴ھ ۱۹۲۶م میں دوسرے حج کے لئے تشریف لے گئے،اس دوران مدینہ طیبہ میں بھی قیام رہا،وہاں پر یہ پیغام ملا کہ "آپ سے کام لیاجائے گا" ۔سفرحج سے واپسی کے بعد آپ نے تائیدغیبی سے عوام میں إحیاء دین کی غرض سے تبلیغی كام کا آغاز فرمایا اور دوسروںکوبھی جماعتیں بنا بنا کر دوسرے علاقہ میں تبلیغ کے لئے بھیجا۔ یوں اس طرح باقاعدہ جماعتوں کا اللہ کی راہ میں بغرض دعوت نکلنا شروع ہوا، اور آج الحمدللہ! اکابرین دعوت وتبلیغ اور مخلص مسلمانوں کی محنت وکوشش اورآہِ سحرگاہی کے طفیل یہ مبارک عمل اطرافِ عالم کے چپہ چپہ میں نہ صرف پھیل چکا ہے بلکہ شب وروزجاری وساری ہے۔

تبلیغی کام کا نظام وترکیب :
تبلیغی کام کا نظام کیا ہوگا؟ ترکیب کیا ہوگی؟ کس چیزکی اورکتنی چیزوںکی دعوت دی جائے گی؟ اس کی تفصیل حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃاللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی: اصل تبلیغ دوامرکی ہے،باقی اس کی صورت گری اورتشکیل ہے ،ان دوچیزوں میں ایک مادی ہے اورایک روحانی:
(۱)مادی سے مراد جوارح سے تعلق رکھنے والی،سووہ یہ ہے کہ حضور صلى الله عليه وآله وسلم کی لائی ہوئی باتوںکو پھیلانے کے لئے ملک بہ ملک اقلیم در اقلیم جماعتیں بنا کرپھرنے کی سنت کو زندہ کرکے فروغ دینا اور پائداری کرناہے۔ (۲)روحانی سے مراد جذبات کی تبلیغ یعنی حق تعالیٰ کے حکم پرجان دینے کا رواج ڈالنا،جس کو اس آیت میں ارشادفرمایا:
’’فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْ أَنْفُسِہِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً‘‘۔ (النساء)
ترجمہ:’’ قسم ہے آپ کے ربّ کی!یہ لوگ ایمان دارنہ ہوںگے،جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جھگڑا واقع ہواس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں ، پھر آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اورپورا پوراتسلیم کریں‘‘۔ ’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ‘‘۔ (الذاریات)
ترجمہ:’’اورمیں نے جن وانس کواسی واسطے پیدا کیا کہ میری عبادت کریں‘‘۔
یعنی اللہ کی باتوں اوراوامرخداوندی میں جان کا بے قیمت اورنفس کا ذلیل ہونا۔ مولانا الیاس صاحبـؒ کے بیان فرمودہ چھ نمبر ۱-نکلنے کے وقت حضور صلى الله عليه وآله وسلم کی لائی ہوئی چیزوں میں جوچیزجتنی زیادہ اہم ہے اس میں اسی حیثیت سے کوشش کرنا،اس وقت بدقسمتی سے ہم کلمہ تک سے ناآشنا ہورہے ہیں،اس لئے سب سے پہلے کلمہ طیبہ کی تبلیغ ہے جوکہ خداکی خدائی کا اقرارنامہ ہے،یعنی اللہ کے حکم پرجان دینے کے علاوہ درحقیقت ہماراکوئی بھی مشغلہ نہیں ہوگا۔ ۲-کلمہ کے لفظوںکی تصحیح کرنے کے بعد نمازکے اندرکی چیزوںکی تصحیح کرنے اور نمازوںکو حضور صلى الله عليه وآله وسلم کی نمازجیسی بنانے کی کوشش میں لگے رہنا۔ ۳-تین وقتوںکو(صبح وشام اورکچھ حصہ شب کا)اپنی حیثیت کے مناسب تحصیل علم و ذکر میں مشغول رکھنا۔ ۴-ان چیزوںکوپھیلانے کے لئے اصل فریضہ محمدی سمجھ کرنکلنا یعنی ملک بہ ملک رواج دینا۔ ۵-اس پھرنے میں اخلاق کی مشق کرنے کی نیت رکھنا،اپنے فرائض کی ادائیگی کی سرگرمی، کیوں کہ ہرشخص سے اپنے متعلق ہی سوال ہوگا۔ ۶-تصحیح نیت یعنی ہرعمل کے بارے میں اللہ نے جوودعدے اوروعید فرمائے ہیں، ان کے موافق اس امرکی تعمیل کے ذریعہ اللہ کی رضا اورموت کے بعد والی زندگی کی درستی کی کوشش کرنا۔

حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃاللہ علیہ کا فرمان:
اپنے کام کوایک موقعہ پرحضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃاللہ علیہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’میں نے یہ طے کیا ہے کہ اللہ نے ظاہروباطن کی جو قوتیں بخشیں ہیں،اُن کا صحیح مصرف یہ ہے کہ تن کو اسی کام میں لگایا جائے جس میں حضور أكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی قوتیں صرف فرمائیں،اوروہ کام ہے اللہ کے بندوںکواورخاص طورسے غافلوں،بے طلبوںکواللہ کی طرف لانا،اوراللہ کی طرف بلانااوراللہ کی باتوں کو فروغ دینے کے لئے جان کو بے قیمت کرنے کا رواج دینا۔بس ہماری تحریک یہی ہے، اور یہی ہم سب سے کہتے ہیں،یہ کام اگرہونے لگے تواب سے ہزاروں گنا زیادہ مدرسے اور ہزاروں گنا ہی زیادہ خانقاہیں قائم ہوجائیں،بلکہ مسلمان مجسم مدرسہ اورخانقاہ ہوجائے،اورحضور أكرم صلى الله عليه وآله وسلم کی لائی ہوئی نعمت اس عمومی اندازسے پھیلنے لگے جواس کی شان شایان ہے۔‘‘

حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کی نہجِ دعوت
 پر اعتراضات کی حیثیت :
حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کا شروع کردہ دعوت وتبلیغ کا یہ عمل اوراس کا نہج اگرچہ میرے جیسے بہت سے کوتاہ بینوں کے لئے اجنبی،نیا اورقابل اعتراض ہو سکتا ہے، حالانکہ حقيقت يه هے كه اس کے کسی بھی عمل پرکوئی اعتراض شرعاً کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ تاہم بعض کم فہم،نادان اوراہل بدعت نے اس مبارک عمل پرطرح طرح کے اعتراضات کی بھرمار کر دی،جبکہ کچھ لوگ چارماہ، چالیس دن، تین دن، گشت، شبِ جمعہ کا ہفتہ واری اجتماع اورسالانہ اجتماعات وغیرہ پراعتراض کرتے ہیں کہ ان ایام کی تعیین غیر ثابت شدہ ہےاوربعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ دین کے تمام احکام کی دعوت کو اپنا مقصد نہیں بناتے،بلکہ صرف چند مسائل واحکام تک محدود رہتے ہیں،اور وقت کے سیاسی مسائل سے اغماض بھی کرتے ہیں، بعض اہل علم حضرات کی طرف سے مستورات کی جماعتوں کے بارے میں شبہات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں تاهم الحمد للہ ! إس حواله سے اکابر دیوبند نے اس طرح کے تمام بے بنیاد اعتراضات کی حیثیت و حقیقت اپنے فتاویٰ جات میں واضح فرما دی ہے

فقیہ الاُمت حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی
 نوراللہ مرقدہ کے فتاویٰ

دعوت وتبليغ كے حواله سے جن اکابر دیوبند نے اس طرح کے تمام بے بنیاد اعتراضات کی حیثیت و حقیقت اپنے فتاویٰ جات میں واضح کی ہے ، ان اکابر علماء كرام ميں إيك عظيم شخصیت فقیہ الأمت حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی نوراللہ مرقدہ بھی ہیں۔آپ نے عملی طورسے دعوت وتبلیغ کے متعلق اتنے فتاوی تحریرفرمائے کہ برصغیر کی تاریخ میں کسی بهي مفتی صاحب نے اتنے فتاوى نہیں لکھے، حضرت کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ آپ بیک وقت برصغیرکی دو عظیم دینی درسگاہوں میں صدارتِ افتاء کی گراںقدر خدمات انجام دینے پر مامور تھے،اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃاللہ علیہ کے فیض یافتہ،صحبت یافتہ اورخلعت خلافت سے سرفراز یافتہ بھی تھے،آپ کے دعوت وتبلیغ اور اس کے اکابرین حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃاللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃاللہ علیہ سے نہایت ہی گہرے اورقلبی روابط ومراسم تھے۔ أس زمانه ميں جب کچھ حضرات نے حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی نوراللہ مرقدہ رحمۃاللہ علیہ کی دعوت وتبلیغ سے گہری وابستگی پرتعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ تبلیغ والوں نے دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم کو اپنا ہم نوا بنا لیا هے تواس پرحضرت مفتي محمود الحسن گنگوہی نوراللہ مرقدہ صاحب نے يوں فرمایا:
’’واقعہ یہ نہیں كه تبلیغ والوں نے دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم کو اپنا ہم نوا بنا لیا هے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں تبلیغی پہلے ہوں اور مفتی بعد میں اور درآصل دارالعلوم ديوبند کو مفتی کی ضرورت تھی تو أنهوں نے تبلیغ والوں سے مفتی مانگا، تبليغ والوں نے دارالعلوم ديوبند كي یہ ضرورت پوری فرمائی۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سے اپنے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے اور تا قیامت مقبول دین کی خدمت لے لے اور اُسی نہج اور اصولوں کو اپنانے کی توفیق دے جو حضور أكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکمِ خداوندی اپنی دعوت میں اختیار فرمائے تھے، تاکہ ہماری دعوت عنداللہ مقبول اور عند الناس مفید ہو۔ الله تعالى هر كلمه گو كو إس مبارك محنت كي توفيق عنايت فرمائے كيونكه جس نے كلمه كا إقرار كيا اس كے لئے ضروري هے كه وه رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے إس حكم كو فراموش نه كرے:
"بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً "  آمين يا رب العالمين

دعوت و تبلیغ كي مشق:
دعوت وتبليغ كي مشق مختلف پليٹ قارمز سے كي جاري هے اور اپني اپني جگه تمام پليٹ فارمز بهت هي أهميت كے حامل هيں ليكن هم چونكه يهاں پر دعوت وتبليغ كي عالمي تحريك المعروف تبليغي جماعت كي بات كر رهے هيں لهذا إسي كے حواله سے هي دعوت وتبليغ كي مشق كي بات كي جائے گي
الله تعالی نے جناب رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم کو تمام صفات حمیدة وخصال عظیمة واوصاف کریمة سے نوازا تها ، اور پهر الله تعالی نے أصحاب النبیﷺ کو بهی صفات عالیة كثيرة کے ساتھ متصف فرمایا ، اور تبلیغی جماعت میں جن چھ صفات حمیدة کی تعلیم وتحصیل کی مشق ،کوشش ومحنت کی جاتی ہے ، یہ صفات حمیدة صحابة كرام رضوان الله عنهم میں بدرجة کمال موجود تهیں ،اور يه بات بهي زهن ميں رهے تبلیغی جماعت کا یہ قطعاً دعوی نہیں ہے کہ صرف ان صفات کی تحصیل هي ضروری ہے باقی کی ضرورت نہیں ہے يا يه چھ صفات هي مكمل دين هے بلكه صاف الفاظ ميں يه بتايا جارها هے كه إن صفات كي عملي مشق مكمل دين كو اپني زندگي ميں لانے كا إيك ذريعه هے بلکہ يوں سمجهنا چاهيے كه ان چھ صفات کی حیثیت ام الصفات کی طرح ہے ۔لہٰذا تبلیغی جماعت کا مقصد یہ ہے کہ سب سے پہلے ان صفات حميدة وخصال مجيدة کی تحصیل بوجہ ان کی اہمیت کے ضروری ہے ، جب یہ صفات کامل طور پر زندگي ميں آجائیں تو بقیہ خصال وصفات کی تحصیل میں آسانی ہوجاتی ہے ، اور تبلیغی جماعت کا یہ دعوی بهی نہیں ہے کہ اصول دعوت صرف ان چھ صفات میں منحصر ہیں ۔
مختصر طور پر ان صفات کو ملاحظہ کریں، کیونکہ اکثرجاہل لوگ بس سنی سنائی باتوں کو اچهالتے رہتے ہیں، باقی حقائق کا ان کوکچھ علم نہیں ہوتا۔
1. الكلمة الطيبة :  لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
2. الصلاة ذات الخشوع والخضوع
3. العلم مع الذكر
4. محبة المسلين وإكرامهم
5. تصحيح النية وإخلاصها لله تعالى
6. الدعوة إلى الله والنفر في سبيل الله
اب یہ چھ نمبر وصفات جن کی دعوت وتحصیل کا تبلیغی جماعت میں مذاکره کیا جاتا ہے ، یعنی
1. کلمہ طیبہ کا حقیقی معنی ومفہوم واہمیت سمجهنا
2. اورپهرنماز کوسنت کے مطابق صحیح کرنا خشوع وخضوع جیسے عظیم صفات پیدا کرنا
3. فرض اور ضروری علم سیکهنا ،اورذکرالله کی پابندی اورعادت بنانا
4. تمام مسلمانوں کو اپنے سے بہتر وافضل سمجهنا اورہرحال میں ان کا احترام واکرام کرنا
5. اوراپنی نیت کو درست کرنا ہرنیک عمل خالص الله تعالی رضا کے لیئے کرنا
6. اور لوگوں کوالله تعالی کے دین کی طرف بطریق احسن دعوت دینا
یہ ہے چھ نمبر وصفات کا خلاصہ وحاصل، اور بقول حضرت مولانا الیاس رحمہ الله یہ چھ نمبر وصفات ہماری دعوت (وجماعت)میں الف ، باء ، ہیں ۔پس یہ چھ نمبر وصفات تبلیغی جماعت کے نزدیک وسیلہ وذریعہ ہیں مقصد عظيم کے حاصل کرنے کا ، اور وه مقصد عظيم یہ ہے کہ ہماری زندگی میں کامل دین آجائے اورہمارے دلوں میں کامل ایمان راسخ ہوجائے ، لہٰذا یہ چھ نمبر وسائل ہیں ،
حاصل کلام یہ ہے کہ یہ چھ صفات ایک مشق وتمرین ہے اورابتدائی سبق ہے اپنی زندگیوں میں دین کوکامل کرنے کے لیئے ، اور یہ اسلوب ایک وسیلہ ہے عظیم مقصد شرعی کوحاصل کرنے کے لیئے هزاروں نهيں بلكه لاكهوں لوگوں كي زندگيوں ميں إن صفات كي عملي مشق كے بعد إنفلاب برپا هوا هے اور آج بهي لاكهوں بندگان خدا إس تركيب سے مكمل دين كو اپني زندگيوں ميں لانے كيلئے دنيا كے گوشے گوشے ميں كوشاں هيں الله تعالى هم سب كو إس كي توفيق عنايت فرمائے - آمين يا رب العلمين
دعوت وتبليغ كي مشق ميں سب سے أهم مشق يهي هوتي هے كه إيك مسلمان دين كے لئے قرباني دينے والا بن جائے اور جب قرباني ميں تينوں آجزاء شامل هوجا ئيں تو پهر يه إيك مكمل قرباني كي شكل أختيار كر ليتي هے يه تينوں آجزاء "جان - مال اور وقت" هيں إس كے لئے الله كے راسته ميں نكلنے كي ترغيب دي جاتي هے جس ميں تمام تر مالي آخراجات خود اپني جيب سے كرنے هوتے هيں جو لوگ الله كے راستے ميں نكلنے كے لئے تيار هو جاتے هيں انهيں الله كے راسته ميں نكل كر وقت گزارنے كے آصول بتائے جاتے هيں اور پهر الله كے راسته ميں اس كي عملي مشق كروائي جاتي هے
يه 12 آصول هيں جس كى پابندى كركــے دعوت و تبليغ كا يه مبارك كام كيا جاتا هـــے ۔ إن 12 آصولوں كو تين حصوں ميں تقسيم كيا جاتا هــے
پهلا حصه :
إس ميں وه چار كام شامل هيں جنهيں الله تعالى كــے راسته ميں نكل كر ذياده ســے ذياده وقت لگا كر كرنا ضروري هوتـــے هيں يه چار كام مندرجه زيل هيں :-
1- دعوت إلى الله:
إسميں إجتماعى - إنفرادى اور خصوصى دعوت شامل هوتي هــے

2- تعليم وتعلم :
إسميں تمام سيكهنــے اور سكهانــے والــے أعمال شامل هيں مثلاً آحاديث مباركه كي تعليم ، قرآن المجيد كي تجويد كــے حلقــے اور جهـ صفات كا مذاكره وغيره

3- ذكر و عبادت :
إسمين تلاوت قرآن مجيد - تسبيحات اور نوافل وغيره شامل هيں

4- خدمت :
إس ميں اپنى خدمت - آمير كي خدمت , ساتهيونكى خدمت اور آنــے والــے مهمانوں اور ميزبانوں كي خدمت شامل هـــے. آمير كي خدمت كا مطلب اس كي منشاء كو سمجهنا كه كس وقت وه كيا چاهتا هے

دوسرا حصه :
إس ميں وه چار أمور شامل هيں جنهيں صرف ضرورت كى حد تك تو كرنــے كى آجازت هــے ليكن ضروت ســے ذياده إن پر وقت لگانا منع هــے يه چار كام مندرجه زيل هيں :-

1-كهانا پينا:
إنسان كي بنيادي ضرورتوں ميں سے سب سے أهم كهانا پينا هے ليكن إس كو إعتدال ميں ره كر كرنا چاهيے نه تو إتنا كم وقت إس ميں لگايا جائے كه ضرورت هي پوري نه هو اور ضعف محسوس هونا شروع هو جائے اور نه هي إتنا ذياده بكهيرا هو كه سارا وقت يا بهت سا وقت إسي ميں لگ جائے اور ضروري آمور كي آدائيگي كے لئے وقت هي نه بچے
.
2- سونا اور آرام كرنا:
إنسان كي بنيادي ضرورتوں ميں سے إيك أهم ضرورت سونا اور آرام كرنا بهي هے ليكن إس كو بهي إعتدال ميں ره كر كرنا چاهيے نه تو إتنا كم هو كه ضرورت هي پوري نه هو اور ضعف محسوس هونا شروع هو جائے اور نه إتنا ذياده كه دوسرے أهم كام ره جائيں بهرحال الله كے راسته ميں نكل كر جهاں تك ممكن هو دستر خوان اور بستر خوان پر كم وقت لگايا جائے

3- ضروريات يعنى نهانا دهونا پيشاب كرنا اور مسجد سے باهر جانا وغيره
إن ميں بهى ضرورت ســے ذياده وقت نه لگايا جائـــے ضرورت كے موافق يه كام كيے جائيں اور بلا وجه وقت ضائع نه كيا جائے. إسي طرح بلا ضرورت مسجد سے باهر نه جايا جائے اور اگر مسجد سے باهر جانا پڑ جائے تو ضرورت پوري كرتے هي مسجد واپس آجانا چاهيے

4- دنياوي بات چيت كرنا 
لا يعنى باتوں ســے مكمل پرهيز كيا جائــے قصے كهانيوں ميں وقت ضائع نه كيا جائے صرف ضرورت كى بات كى جائــے

تيسرا حصه :
إس ميں وه چار أمور شامل هيں جن كــے كرنـــے ســے مكمل إجتناب كرنا هــے

1- سوال كرنا :
كسى طرح كا كوئى بهي ذاتي سوال كسي سے بهي نه كيا جائے بلكه اپنى ضرورتوں كو صرف اور صرف الله تعالى هى سے مانگا جائے

2- إشراف يعنى دل كا سوال :
يعنى اپنــے دل كو بهي غير الله ســے سوال كرنــے ســے پاك ركها جائــے دل كا سوال بهي صرف الله تعالى هى سے كيا جائے مخلوق كي جانب يه ميلان هرگز نهيں هونا چاهيے

3- إسراف يعنى فضول خرچى:
إسلام ميں فضول خرچى ســے منع كيا گيا هے إس لئے ضروري هے كه الله تعالى كے راسته ميں نكل كر هر طرح ســے فضول خرچى سے مكمل پرهيز كيا جائـــے.

4- بوقت ضرورت كسي كي چيز إستعمال كرنا:
بغير آجازت كے كسى ساتهى يا كسى بهي شخص كى كوئى چيز نه لى جائــے چاهـے وه چيز كتنى هي معمولى كيوں نه هو مثلاً إيك ساتهي كسى كي چپل پهن كر حمام چلا گيا جو بظاهر معمولي بات هے ليكن اگر وه ساتهي بهي ضرورت سے آيا اسے اپنا چپل نه ملا تو أسے پريشاني هوئى جس كا سبب وه ساتهي بنا جو بغير آجازت كے چپل پهن كر گيا اور مسلمان كو پريشان كرنا ، تكليف دينا حرام هے إس لئے اگر إس طرح كي كوئي ضرورت هو تو آجازت لے كر إستعمال كرليا جائے ليكن بهتر يهي هوگا كه الله كے راسته ميں نكلتے هوئے ضرورت كي چيزيں ساتهـ لے كر جايا جائے تاكه كوئى پريشاني نه هو

دعوت و تبلیغ كي مشق ميں سب سے أهم "خروج في سبيل الله " هے الله كے راسته ميں نكلنے والا شخص گويا ( 24 ) گهنٹے هي مشق ميں هوتا هے دعوت كا كام سيكهتا هے اور پهر إس كي مشق بهي كرتا هے اور پهر إس مبارك كام كو خود بهي كرتا هے يعني إس كام كو سيكهتے سيكهتے كرتا هے اور كرتے كرتے سيكهتا هے انگريزي إصطلاح ميں گويا يه إيك On job training course هوتا هے جس كا شيڈول كچهـ إس طرح هوتا هے
جماعت كے ساتهيوں كي صبح كا آغاز تهجد كے وقت سے هوتا هے ساتهي تهجد كي نماز اور تلاوت وغيره كرتے هيں پهر فجر كي نماز تكبير اولى كي پابندي كے ساتهـ ادا كي جاتي هے دعا كے بعد إيك ساتهي كهڑا هو كر بات كرتا هے جسے چهـ نمبر كا بيان كها جاتا هے جو تقريباً إس طرح هوتا هے
نحمده و نصلى ونسلم على رسوله الكريم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم!
ميرے محترم بزرگو اور بهائيو :
الله تعالى كا إحسان و فضل هے كه الله تعالى نے هميں فجر كي نماز با جماعت ادا كرنے كي توفيق عنايت فرمائي حديث پاك كا مفهوم هے كه جو شخص عشاء كي نماز جماعت سے پڑه لے اور فجر كي نماز جماعت سے پڑه لے تو اسے بوري رات كي عبادت كا ثواب ملے گا
الله تعالى كا إحسان و فضل هے كه الله تعالى نے هميں رسول كريم كي امت ميں پيدا فرمايا اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كي بركت سے هميں دين إسلام سے نوازا جو الله تعالى كا هم پر بهت بڑا أنعام هے إن شاء الله يه دين قيامت تك قائم ودائم رهے گا
الله تعالى كو اپنا يه دين بهت پسند هے الله تعالى نے ميرى آپكي اور تمام دنيا كے إنسانوں كي إس دنيا اور آخرت كي كاميابي پورے كے پورے دين ميں ركهي هے اگر مكمل دين همارى زندگيوں ميں هوگا تو هم إس دنيا ميں بهي كامياب هوں گے اور مرنے كے بعد عالم برزخ اور عالم آخرت ميں بهي الله تعالى اپنے فضل سے هميں كامياب فرما ديں گے ويسے تو دین سارے كا سارا صفات ہی صفات ہے ليكن دین میں چند صفات ایسی ہیں جن کو سیکھ کر عمل کرنے سے مكمل دین پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔
أن صفات ميں سب سے پہلي صفت کلمہ طیبه ہے يعني
لا إله إلا الله محمد رسول الله
کلمے کی معنی ہيں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الله کے رسول ہیں۔
إس كلمه كا مقصد يه هے كه اللہ تعالى سےسب کچھ ہونے کا یقین اللہ کے ارادے کے بغیر مخلوق سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہمارے دل میں آجائے ۔اللہ ہی ہمارا مالک ہے اللہ کے سوا کوئی مالک نہیں،اللہ ہی ہمارا خالق ہے اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں،اللہ ہی ہمارا رازق ہے اللہ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں زندگي اور موت صرف الله تعالى كے هاتهـ ميں هے عزت اور ذلت كا وهي مالك هے عزت كے نقشوں ميں ذلت اور ذلت كے نقشوں ميں عزت دينے پر وهي قادر هے - همارے نفع اور نقصان كا مالك صرف إيك الله هے اگر تمام مخلوق اكهٹي هو كر هميں كوئى نفع پهنچانا چاهيں اور الله تعالى نه چاهيں تو تمام مخلوق مل كر بهي هميں كوئى نفع نهيں پهنچا سكتي إسي طرح اگر تمام مخلوق آكٹهي هوكر هميں كوئي نقصان پهنچانا چاهے اور الله نه چاهيں تو إيسا نهيں هوسكتا
الله تعالى كي ذات صمد هے صمد اس هستي كو كهتے هيں جس كے تمام كام كسي دوسرے كے بغير هوتے هوں اوردوسرے كسي كا بهي كام اس كي مرضي كي بغير نه هوتا هو
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوراني طریقوں پہ چل کر دونوں جہانوں میں کامیابی کا یقین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقوں کو چھوڑ کر غيروں كے طريقوں ميں دونوں جہانوں كي ناکامی کا یقین ہمارے دل میں آجائے۔
إس كلمه كا مقصد يهي هے كه همارے دلوں كا يقين درست هوجائے اور هم من چاهي زندگي كو ترك كركے رب چاهي زندگي إختيار كر ليں
يه بهت هي قيمتي كلمه هے إسكے فضائل بيشمار هيں حديث مباركه كا مفهوم هے كه اگر ترازو كے إيك پلڑے مين إس كلمه كو ركهـ ديا جائے اور دوسرے پلڑے ميں تمام دنيا اور جو كچهـ دنيا ميں هے اسے ركهـ ديا جائے تو كلمه والا پلڑا جهك جائے گا
حديث مباركه كا مفهوم هے كه جس شخص كا آخري كلام لا إله إلا الله محمد رسول الله هوگا وه جنت مين داخل هو جائے گا جو شخص روزانه سو مرتبه إس پاك كلمه كا ورد كرے گا اسے كل قيامت والے دن ايسے اٹهايا جائے گا كه اس كا چهره چودهويں كے چاند كي طرح چمك رها هوگا
إس كلمه كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر كلمه كے يقين كو مانگا جائے

کلمہ كا إقرار وتصديق كرنے کے بعد إيك مسلمان پر كجهـ آحكام عائد هو جاتے ہیں جن ميں سب سے پہلے پنجگانه فرض نماز ہے
پانچ وقت كي نماز هر مسلمان مرد وعورت پر وقت كي پابندي كے ساتهـ فرض هے
نماز دین کا ستون ہے، نماز مؤمن کے لیے معراج ہے، نماز شیطان کا منہ کالا کرتی ہے، نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نماز شیطان سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، نماز اللہ پاک سے براہ راست لینے کا ذریعہ ہے، جب نماز فرض هوئي تو صحابه كرام رضوان الله عليهم بهت خوش هوئے كه الله تعالى سے لينے كا ذريعه مل گيا
جو شخص إهتمام كے ساتهـ پانچ وقت كي نماز پڑھتا ہے اللہ پاک اسے پانچ انعامات سے سرفراز فرماتے ہیں،
ایک دنیا میں اور چار آخرت میں،
1- دنیا میں رزق کی تنگی ہٹا دی جاتی ہے
2-قبر کا عذاب ہٹا ديا جاتا ہے
3- پل صراط سے بجلی کی كڑك كي طرح گزار ديا جائے گا
4- اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ خوشی میں سارے لوگوں کو دکھائے گا اور کہے گا اے لوگو ديكهو میں کامیاب ہوگیا مجھے جنت کا ٹکٹ مل گيا۔
5- بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔
جو شخص ان پانچوں نمازوں کا اهتمام کرتا ہے ان کے وقت پر پڑھتا ہے، اللہ پاک اس سے وعدہ فرماتے ہیں کہ اس کو اپنی ذمه داری پر جنت میں داخل فرمائیں گے،اور جو ان کا اهتمام نهیں کرتا اس كے لئے اللہ پاک کا کوئی ذمہ نہیں چاہے وہ بخش دے چاہے وہ عذاب دے۔
نماز كا مقصد يه هے كه هماري نماز سے باهر كي زندگي صفتِ صلاة پر آجائے يعني جس طرح هم نماز ميں الله تعالى كے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے طريقوں پر عمل كرتے هيں إسي طرح اپني 24 گهنٹه كي زندگي ميں هر هر قدم پر الله تعالى كے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے طريقوں پر عمل كرنے والے بن جائيں اور فرض نمازوں ميں خشوع وخضوع پيدا كرنے كے لئے هم نفل نمازوں كا إهتمام كريں اور نماز كو آچهي سے آچهي بنانے كے لئے محنت كريں
نماز كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر خشوع وخضوع والي نماز كو مانگا جائے
نماز اور ديگر عبادات کو صحیح کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔
إتنا تو علم ہر مسلمان بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے کہ اسے حرام و حلال، پاکی اور ناپاکی،جائز اور ناجائز کی تمیز آجائے تاكه چوبیس گھنٹے کی زندگی الله اور اسكي رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كي آحكام كے مطابق گذار سکے إس سے زياده جتنا بهي حاصل كرنے كي كوشش كرے گا أتنا هي درجات كي بلندى كا سبب هوگا
حديث مباركه كا مفهوم هے كه جو شخص قرآن پاک کی ایک آیت سیکھ لے اس کے بدلے میں سو ركعات نفل سے افضل ثواب دیا جائے گا اور جو شخص علم کا ایک باب سیکھ لے اسے ہزار ركعات نفل سے افضل تواب دیا جائے گا۔ إيك مرتبه نبي كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے صحابه كرام رضوان الله عليهم سے فرمايا جس كا مفهوم يه هے كه إيك عالم كي شان عابد پر إيسي هے جس طرح ميري شان تم پر
علم كا مقصد يه هے كه همارے اندر تحقيق كا جذبه پيدا هو جائے تاكه جو كام بهي كريں اس ميں تحقيق كر سكيں كه إس ميں الله تعالى كا حكم كيا هے اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كا طريقه كيا هے جو بهي عمل الله تعالى كے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے طريقه كے مطابق هوگا إن شاء الله عندالله مقبول هوگا لهذا هم نبي كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے إس فرمان (( أطلبوا العلم من المهد إلى اللهد )) كے مطابق تمام زندگي علم كي جستجو اور محنت ميں لگے رهيں
علم كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر علم نافع كو مانگا جائے

علم كے ساتهـ ساتهـ هم الله تعالى كا ذكر كرنے والے بن جائيں علم سے صحيح راسته كا علم هوتا هے اور ذكر سے الله تعالى كا دهيان نصيب هوتا هے يعني اگر علم إيك راسته هے تو ذكر اس كي روشني هے- ذکر کرنے والا زندہ کی مثال ہے،اور ذکر نہ کرنے والا مردہ کی مثال ہے۔ جو شخص دن یا رات ميں ایک دفعه بھی لااله إلا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتا ہے اس کے اعمال نامے سے برائی ختم کردی جاتی ہے اور نیکی لکھی جاتی ہے۔إسي طرح جو شخص كلمه طيبه کو روزانه سو مرتبہ پڑھتا ہے قیامت کے دن جب قبر سے اٹھایا جائے گا تو اس کا چہرہ چوهدویں رات کی چاند کی طرح روشن ہوگا۔ جنت ميں إيك دروازه ذاكرين كے لئے مختص هے جس ميں سے ذاكرين خوشي خوشي جنت ميں داخل هو جائيں گے
جو الله تعالى كا ذكر اكيلا كرتا هے الله تعالى بهي اس كا ذكر آكيلے فرماتے هيں جو كسي مجلس ميں الله تعالى كا ذكر كرتا هے الله تعالى اس سے بهتر فرشتوں كي مجلس ميں اس كا ذكر فرماتے هيں اور ذكر كرنے والوں كي مغفرت كا إعلان فرماتے هيں
جنت ميں جانے كے بعد كسي چيز كا آفسوس وقلق نهيں هوگا بجز اس گهڑي كے جو الله تعالى كے ذكر كے بغير گزر گئي إيك دفعه سبحان الله كهنے والے كے لئے جنت ميں إيك ايسا درخت لگا ديا جاتا هے كه اگر عربي گهوڑا سو برس تك بهي دوڑتا رهے تو اس كا سايه ختم نه هوگا آج إس دنيا ميں همارے پاس وقت هے جتنے چاهيں اپني جنت ميں درخت لگا ليں مرنے كے بعد إيك دفعه سبحان الله كهنے كا بهي موقعه نهيں ملے گا
ويسے تو الله تعالى كا جتنا بهي ذكر كيا جائے كم هے ليكن إبتدائى طور پر صبح و شام ذکر کی تین مسنون تسبیحات اور تلاوت قرآن مجيد كي پابندي كي جائے -
تين تسبيحات يه هيں
تیسرا کلمہ - درود شریف - استغفار۔
ذكر كا مقصد يه هے كه همارا دهيان هر وقت الله تعالى كي طرف رهے
ذكر كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر ذكر كي توفيق كو مانگا جائے

إس كے ساتهـ ساتهـ هم اپنے مسلمان بهائيوں كا إكرام كرنے والے بن جائيں هم بڑوں کی عزت کريں چھوٹوں پر شفقت کريں علمائے دین کي قدر کريں۔
يه كوشش كي جائے هم دوسروں كے حقوق ادا كرنے والے بن جائيں يعني كه همارا حق اگر كسي كي طرف ره جائے تو ره جائے ليكن كسي كا حق هماري طرف نه رهے آچهي طرح جان جان كر تمام مسلمانوں كي حقوق كو ادا كرنے كي كوشش كي جائے اگر خدانخواسته كسي كا حق هماري طرف ره گيا تو كل قيامت والے دن نيكيوں كي شكل ميں دينا پڑے گا اور اگر نيكياں نه هوئيں تو اسكي برائيوں كا بوجهـ اپنے كندهوں پر اٹهانا پڑے گا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے فرمان كا مفهوم هے كه جو شخص بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور علمائے دین کي قدر نہیں کرتا تو وه ہم میں سے نہیں ہے۔
جو شخص کسی بیمار کی عیادت كے لئے جاتا ہے اگر صبح کو جاتا ہے تو شام تک اور اگر شام کو جاتا ہے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔
جو شخص کسی یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے اللہ تبارک وتعالی اس کے اتنے گناہ معاف فرماتے ہیں۔
إكرام مسلم سے أمت ميں جوڑ پيدا هوتا هے يهي إس كا بنيادي مقصد بهي هے
إكرام مسلم كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر إس دولت كو مانگا جائے

بندہ جو بھی عمل کرے تو صرف اور صرف اللہ کی رضا كي خاطر کرے دكهلاوه يا كوئى اور دنياوي مقصد پيشِ نظر نه هو ايسا كرنا اخلاصِ نیت يعني نيت كا خالص هونا كهلاتا هے
حديث مباركه هے " إنما الأعمال بالنييات - عمل كا دارومدار يقيناً نيتوں پر هے
جو شخص ایک کجهور کا دانہ بھی خالصتاً اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کرے تو اللہ تبارک وتعالی اسے پہاڑوں جتنا ثواب عطا فرماتے ہیں۔ إس كے برعكس جو شخص دکھاوے کے لیے پہاڑوں جتنا بھی سونا چاندی خرچ کردے تو قیامت کے دن اس كا كوئى آجر نهيں ملے گا بلكه الٹا اس کی پکڑ کا سبب بنے گا۔ شهادت جيسا عظيم عمل بهي اگر خدانخواسته اس نيت سے كيا كه لوگ مجهے بهادر سمجهيں تو وه بهي رائيگاں چلا جائے گا
ہر نیک کام کرتے وقت اپنی نیت کو ٹٹول ليا جائے نیک عمل کرنے سے پہلے نیک عمل کرنے کے درمیان اور نیک عمل کرنے کے بعد اپنی نیت کو ضرور دیکھے
اگر نيت ميں كوئى بهي فتور محسوس كرے تو فوراً " ولا حولة ولا قوة إلا بالله العلي العظيم يا كوئى بهي استغفار پڑھ لے،استغفار پڑھنے سے إن شاء الله قبولیت کی اميد لگ جاتی ہے۔
إخلاص نيت كي محنت تين طريقوں سے كي جائے
(1) إس كي زياده سے زياده دعوت دوسروں كو دي جائے
(2) إس كي زياده سے زياده مشق كي جائے
(3) الله تعالى سے رو رو كر إخلاص كو مانگا جائے

ہم خود بھی نیک کام کریں اور دوسروں کو بھی نیک کام کرنے کی تلقين كریں۔
ہم خود بھی برے کام سے بچیں اور دوسروں کو بھی برے کاموں سے بچنے کی تلقین کریں۔
اسی دعوت کو لے کر کم و پیش سوا لاکھ انبیاء کرام عليهم السلام اس دنیا میں آئے اور انہوں نے کہا اے لوگو کلمہ پڑھو اسی میں تمہاری کامیابی ہے۔ جس نے نبیوں کی بات مانی وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہوا، جس نے وقت کے نبیوں کی بات نہ مانی وہ دونوں جہانوں میں ناکام ہوا۔ ہمارا یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور جس نے کلمہ طیبه پڑھ لیا اس کے ذمے ہے کہ اسی کلمے کو لے کر سارے انسانوں میں پہنچائے۔
جو شخص نبيوں والے إس كام كو كرے گا الله تعالى اسے دنيا ميں كامياب فرمائيں گے اور آخرت ميں بهي وه بلند درجات حاصل كرے گا اس مبارك راسته ميں جسم كے جس حصه پر گرد و غبار پڑ جائے جسم كے اس حصه پر دوزخ كي آگ تو آگ بلكه دهواں بهي الله تعالى حرام فرما ديتے هيں- تمام مخلوقات اس شخص كے لئے دعائيں كرتي هے اور اگر اس راسته ميں موت آجائے تو شهادت كا مقام مل جاتا هے اس مبارك كام كے اور بيشمار فضائل حديث كي كتابوں ميں وارد هوئے هيں
خود الله تعالى نے قسم كها كر فرمايا هے كه تمام إنسان خساره ميں هيں سوائے أن لوگوں كے جن ميں چار صفات پائى جاتي هيں
1- وه لوگ إيمان والے هوں
2- وه لوگ أچهے أعمال كرنے والے هوں
3- وه لوگ حق كي تبليغ كرنے والے هوں
4- وه لوگ صبر كي تلقين كرنے والے هوں
يه عظيم كام آنبياء كرام عليهم السلام سر آنجام ديا كرتے تهے اور اسي طرح سب سے آخر ميں رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم نے بهي اپني تمام حيات مباركه ميں إس محنت كو كيا اور پهر صحابه كرام رضوان الله عليهم بهي يه كام تمام زندگي كرتے رهے رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے بعد اب كوئى نبي آنے والا نهيں إس لئے ختم نبوت كے صدقه ميں يه عظيم كام إس أمت كے سپرد كيا گيا لهذا هر هر أمتي كي يه ذمه داري هے كه وه إس كام كو كرنے كے لئے اپني جان- مال اور وقت لے كر الله تعالى كے راسته ميں نكلے
آكابريں نے همارى كمزوريوں كو مد نظر ركهتے هوئے إيك آسان سي ترتيب بنا دي هے إن شاء الله اس ترتيب سے كام كريں گے تو أس ميں بركت هوگي :
1- زندگي ميں جلد از جلد چار ماه لگا كر إس كام كو سيكهـ ليا جائے
2- هر سال (40) دن كا وقت فارغ كركے الله كے راسته ميں نكلا جائے
3- هر ماه (3) دن كے لئے الله كے راسته ميں نكليں
4- هفته ميں دو گشت كيے جائيں إيك مقامي اور إيك بيروني
5- روزانه مسجد كي تعليم اور مسجد كے مشوره ميں شركت كريں
6- روزانه گهر كي تعليم كا إهتمام كيا جائے
7- آئى هوئى جماعتوں كي نصرت كي جائے اور إس سلسه ميں هونے والے إجتماعات ميں بهي شركت كي كوشش كي جائے
ميرا بهي إراده هے كه تمام زندگي اس كام كو كروں گا آپ لوگ بهي اراده فرما ليں
تشكيل كے بعد دعا هوتي هے اور يه پروگرام أختتام پذير هو جاتا هے
٭پڑهنے والوں سے دست بسته گذارش هے كه وه يه پڑهنے كے بعد اپني تشكيل خود كركے الله كے راسته ميں ضرور نكليں كسي نه كسي درجه ميں تشكيل ضرور هونا چاهيے اللہ پاک ہم سب کو اس پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمين٭

فجر كے بيان كے بعد إشراق كے نفل اور پهر ناشته كا پروگرام هوتا هے اور كچهـ دير كے بعد ساتهي ملاقاتوں كے لئے مسجد كي چاروں أطراف پهيل جاتے هيں
جب جماعت كے تمام ساتهي مسجد ميں واپس پهنچ جاتے هيں تو ساتهي وضو اور تحية المسجد وغيره ســے فارغ هوكر إيك جگه جمع هو جاتــے هيں تو إيك اور مشق شروع هوتي هے جسے مشوره كهتــے هيں
 اس كام ميں مشوره كي بهت زياده إهميت هـے تمام كام مشوره ســے طــے هوتــے هيں اور آمير صاحب اور تمام ساتهي إس كى سختى سـے پابندى كرتــــے هيں
يه جاننا بهت ضرورى هــے مشوره كيا هـــے؟ اور إسكا طريقه كيا هــے؟

 مشوره:
سب ســے پهلـــے تو مشوره كــے متعلق يه جان لينا ضرورى هــے كه يه حكم ربى هــے سو قرآن مجيد ميں ارشاد هــے

بسم الله الرحمن الرحيم
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

ترجمه : اور آپ (صحابه) ســے اهم كام ميں مشوره ليا كريں سوجب فيصله كرليں تو الله پر توكل كريں بيشك الله تعالى توكل كرنــے والوں كو محبوب ركهتا هــے
دوسرى جگه ارشاد هــے
بسم الله الرحمن الرحيم
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

ترجمه : اور جنهوں نــے اپنـے رب كا حكم مانا اور نماز كو قائم كيا اور ان كــے كام باهمى مشوره سـے هوتــے هيں اور وه اس ســے جو هم نــے رزق ديا هــے خرچ كرتــے هيں
مشورہ كا مقصد:
مشوره الله تعالى سے خير طلب كرنے كا ايك ذريعه هے گويا مشوره كركے الله تعالى سے خير طلب كي جاتي هے مشوره كا ايك مقصد امت ميں جوڑ پيدا كرنا بهي هے لهذا مشوره امت ميں جوڑ پيدا كرنے كا بهي ايك ذريه هے آمير كي اطاعت كا جذبه پيدا كرنا بهي مشوره كا ايك مقصد هے كيونكه جب آمير صاحب اپني رائے كے خلاف كچهـ طے فرماتے هيں تو اسے ماننا هوتا هے اس طرح آمير كي آطاعت كي عادت بن جاتي هے اور يه عادت اگے چل كر الله تعالى اور رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كي آطاعت كا پيش خيمه ثابت هوتي هے کسی معاملہ میں مشورہ سے ايك مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کے تمام تر پہلو سامنے آجائیں۔ پھر ان جملہ پہلوؤں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم کیا جائے کہ کونسا پہلو اقرب الی الحق ہے۔ اور کتاب و سنت سے زیادہ مطابقت رکھا ہے گویا مجلس مشاورت منعقد کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ کونسا اقدام اللہ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو سکتا ہے۔
مشوره كے آداب وآصول:
مشوره چونكه إيك سنت عمل هــے إس لئـے اســے مكمل آداب كي رعايت ركهتــے هوئــے كرنا چاهيــے إن آداب ميں ســے كچهـ مندرجه زيل هيں
1-مشوره كے لئــے ايك آمير هونا لازمى هــے اس لئــے اگر آمير صاحب نه هوں تو كوئى آمير طــے كيا جائــے. آمير صاحب اور تمام ساتهي الله تعالى كى جانب دهيان كركــے بيٹهيں- ذهن مكمل طور پر حاضر هو. جن أمور پر مشوره هو رها هو آمير صاحب اور ساتهي اس ســے پورى طرح باخبر هوں
2-آمير صاحب كو چونكه آمير مقرر كيا گيا هــے إس لئــے وه الله تعالى ســے ڈريں اور تكبر وغيره ســے مكمل بچيں وه يه نه سمجهيں كه شايد ميں هي ذياده قابل تها اس لئــے مجهـے آمير مقرر كيا گيا بلكه يوں سمجهيں كه ميں اس ذمه دارى كــے قابل نهيں تها ليكن يا الله تيرے بندوں نــے مجهـ ناتوان كو يه ذمه دارى دے دى هــے اس لئــے يالله ميرى مدد فرما اور إس عظيم ذمه داري سے عهده برأه هونے كي توفيق عطا فرما - آمين
3-آمير صاحب الله تعالى كى طرف متوجه هو كر مطلوبه أمور پر ساتهيوں ســے مشوره ليں اور پهر جو بات دل ميں آئــے وه طــے كرديں كيونكه آمير صاحب كــے دل ميں جو بات آئے گى وه الله تعالى كي طرف ســے هوگي اور إن شاء الله اسي ميں خيرهوگي
4-يه آمير صاحب كي صوابديد پر هــے كه وه تمام ساتهيوں ســے مشوره ليں يا كچهـ ســے مشوره ليں اور كچهـ ســے نه ليں يا كسى ســے بهي مشوره ليــے بغير كسى بات كو طــے كرديں تو إن شاء الله إسي ميں خير هوگى( ليكن إيسا كسي مجبوري كے بغير نهيں كرنا چاهيے) اورجو بهي طے هوا يه متفقه أمر تصور كيا جائے گا ۔ إس مشوره ميں اكثريت اور اقليت كي بهي كوئى گنجائش نهيں بس جو بات آمير صاحب كى طرف ســے طــے هوگئى هے وهى قابل قبول هوگى چاهــے اكثريت كى رائــے اس كــے خلاف هي كيوں نه هو
5- تمام ساتهى مشوره ميں پورے دهيان كے ساتهـ بيٹهيں – ماننــے كى نيت ســے بيٹهيں منوانــے كى نيت بالكل نه هو – جس ساتهي سـے مشوره طلب كيا جائــے صرف وهي مشوره پيش كرے دوسرے ساتهــي بالكل خاموش ســـے سنيں – جس ساتهي ســے مشوره طلب كيا جائــے اس كــے ذهن ميں جو بهترين بات آرهى هو اســے آمانت سمجهـ كر پيش كردے يه نه سوچــے كه اگر ميں نــے يه رائــے دے دي تو كهيں يه ذمه دارى مجهـ پر نه ڈال دى جائــے
6- مشوره كے دوران كسى أمر پر مختلف رائــے كا آنا إيك قدرتي أمر هــے ليكن مشوره ميں جو بهي بات آمير صاحب كي جانب سے طــے هو جائے اب هر ساتهي اســے اپنى هي رائــے سمجهـے اور اس پر دل و جان ســے عمل كرے گو طـے شده أمر اس كى رائــے كـے خلاف هي كيوں نه هو – مشوره سے پهلــے كوئى مشوره نه هو اور مشوره كــے بعد كوئى تبصره نه كيا جائــے بلكه جو كچهـ طــے هوچكا وه اب پورى جماعت كا مشوره تصورهوگا اور آمير صاحب سميت هر ساتهي إس كا پابند هوگا

7۔ جس طرح دین امانت ہے اسی طرح مشورہ بھی امانت ہے جس طرح دین کا اہم رکن نماز ہے اسی طرح دعوت کا اہم رکن مشورہ ہے۔ جس کی نماز نہیں اس کا دین نہیں اسی طرح جس کا مشورہ نہیں اس کی دعوت نہیں۔
8 ۔ کام کی کمزوری مشورے کی کمزوری ہے کام اس لیے کمزور ہوگا کہ مشورہ کمزور ہوگا۔
مشورے کا مقصد تقاضے کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ مشورے کا مقصد ساتھیوں کو لے کر چلنا ہے تقاضے وہ پورا کرے گا جو ساتھی قربانی دے گا۔ جس مشورے سے تقاضے پورے نہیں ہوئے وہ مشورہ کمزور نہیں، بلکہ جس مشورے سے ساتھی کٹ گیا وہ مشورہ کمزور ہے۔
 کام کرنے کا ساتهي جو تیار ہوتا ہے وہ مشورے سے تیار ہوتا ہے، اور جو ساتھی کٹتا ہے وہ مشورے سے کٹتا ہے۔

9۔ مشورے کے بعد مشورہ کرنا یہ بھی مشورے کی کمزوری ہے۔ جس کے اندر مشورے کے اہمیت نہیں ہوگی، اس مشورے سے طے ہونے والی امور کی بھی اہمیت نہیں ہو گی۔
10۔ مشورے میں فیصلہ رائے کی کثرت پر نہیں ہوگا، رائے کی کثرت اختلاف نہیں ہے، بلکہ رائے کی کثرت اور رائے کو نکھارتا ہے۔
11- جس ساتهي سے رائے طلب كي جائے صرف وهي رائے دے جو ساتهـي رائــے دے وه صرف اپنى رائــے پيش كرے دوسرے ساتهيوں كى بات كو بالكل نه كاٹـے بلكه يوں كهــے كه بهائيوں نــے بهت اچهى رائــے دى هيں اور ميرے ذهن ميں يه بات آرهي هـے - ساتهى كى رائــے اگر طــے هوجائــے تو الله تعالى ســے ڈرے كه ميں نــے رائــے پيش كى تهي جو طــے بهي هوگى يالله اس ميں خير كا فيصله فرما دے اور اگر بات طــے نه هو تو ناراض نه هو بلكه خوش هو كه هوسكتا هــے ميرى رائے درست نه هو يه ملال نه كرے كه مجهـے تو كچهـ سمجها هي نهيں گيا اس لئــے ميرى رائے كو كوئى وقعت نهيں دى گى .

مشورے کي اہمیت وفضيلت: 
قرآن مجيد ميں ارشادِ ربّانی ہے: اور شریک مشورہ رکھو، انہیں ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسه کرو ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا) ہے ایسے بھروسه کرنے والوں کو‘‘۔(سورۂ آل عمران )
اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا :اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ بلاشبہ مشورہ خیر و برکت، عروج و ترقی اور نزول رحمت کا ذریعہ ہے، اس میں نقصان اور ندامت و شرمندگی کا کوئی پہلو نہیں۔
رسول اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی انسان مشورے سے کبھی نا کام اور نامراد نہیں ہوتا اور نہ ہی مشورہ ترک کر کے کبھی کوئی بھلائی حاصل کرسکتا ہے۔ (قرطبی)
ایک موقع پر آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا، وہ نا کام نہیں ہوا اور جس نے مشورہ کیا وہ شرمندہ نہیں ہوا۔‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی)
اسی طرح آپ صلى الله عليه وآله وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے: مشورہ شرمندگی سے بچاؤ کا قلعہ ہے اور ملامت سے مامون رہنے کا ذریعہ ہے۔‘‘(ادب الدنیا والدّین)
حضرت سعید بن مسیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: کوئی انسان مشورے کے بعد ہلاک نہیں ہوتا۔‘‘( ابن ابی شیبہ)
حضرت علی رضي الله تعالى عنه کا قول ہے: مشورہ عین ہدایت ہے اور جو شخص اپنی رائے سے ہی خوش ہوگیا، وہ خطرات سے دوچار ہوا۔ (المدخل)
خلاصہ یہ کہ مشورہ ایک مہتم بالشان امر ہے، رشدوہدایت اور خیر وصلاح اس سے وابستہ ہے، جب تک مشاورت کا نظام باقی رہے گا، فساد اور ضلالت و گمراہی راہ نہیں پاسکے گی، امن اور سکون کا ماحول رہے گا، یہی وجہ ہے کہ رسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے حکام تم میں سے بہترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں اور تمہارے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوا کریں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدترین افراد ہوں اور تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے اندر دفن ہوجانا تمہارے زندہ رہنے سے بہتر ہوگا۔“ (روح المعانی)
مشورے کو مسلمانوں کا وصف خاص قرار دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ایمان والے وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا، نماز قائم کی اور ان کے کام باہم مشورے سے ہوتے ہیں اور جو ہم نے (مال انہیں) دیا ہے، اسے خرچ کرتے ہیں۔(سورۂ شوریٰ) اس آیت میں مسلمانوں کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں، ان میں ایک وصف باہمی مشورہ بھی ہے یعنی کسی اہم معاملے کو باہمی رائے کے ذریعے حل کیا جانا کامل اور پختہ ایمان مسلمانوں کی صفت ہے، اطاعت ِ خداوندی اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد فوری طور پر مشورے کے معاملے کو بیان کرنے سے اس کی غیر معمولی اہمیت کا پته چلتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم اور بالخصوص خلفائے راشدین رضوان الله عليهم نے مشاورت اورباہمی مشورے کو اپنا معمول بنایا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم كو بھی مشورے کا حکم دیا، ارشاد فرمایا: اے نبی صلى الله عليه وآله وسلم! آپ معاملات اور متفرق امور میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کیجیے۔ (سورۂ آل عمران) بظاہر رسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کو مشورے کی حاجت نہیں تھی، کیوں کہ آپ صلى الله عليه وآله وسلم کے لیے وحی کا دروازہ کھلا ہوا تھا، آپ صلى الله عليه وآله وسلم چاہتے تو وحی کے ذریعے معلوم ہوسکتا تھا کہ کیا اور کس طرح کرنا چاہیے؟ حضرت قتادہؓ، ربیع اوردوسرے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم کے اطمینانِ قلب اورانہیں وقار بخشنے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا،اس لیے کہ عرب میں مشورہ اور رائے طلبی باعثِ عزت و افتخار سمجها جاتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ وحی کے ذریعے اگرچہ بہت سے امور میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم کی رہنمائی کردی جاتی تھی، مگر حکمت اور مصلحتوں کے پیش نظر چند امور کو رسول كريم آ صلى الله عليه وآله وسلم كي رائے اور صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا، ان ہی مواقع میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم کو صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورےکا حکم دیا گیا، تا کہ امت میں مشورےکی سنت جاری ہوسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کو مکمل فہم و بصیرت ہونے کے باوجود مشورے کا حکم دیا گیا تو پھر ہم اس کے زیادہ محتاج اور ضرورت مند ہیں،
چناںچہ فرمایا گیا: یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وآله وسلم مشورے سے بالکل مستغنی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے امت کے لیے رحمت کا سبب بنایا ہے۔ (درمنثور) (ترجمہ)اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے مسلمانوں کو مشورے کی فضیلت کا درس دیا ہے، تاکہ آپ کے بعد آپ کی امت اس کی پیروی کرے‘‘۔ (قرطبی)
حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ میں نےرسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم سے زیادہ مشورہ کرنے والا کسی کو نہیں پایا یعنی آپ ہر قابلِ غور معاملے میں اپنے صحابہؓ سے مشورہ کر کے ہی کوئی فیصلہ فرماتے، مثلاً :جنگ بدر سے فراغت ہوچکی تو آپ نے اسیرانِ بدر کے بارے میں صحابہ کرام رشوان الله عليهم سے مشورہ فرمایا کہ انہیں معاوضہ لے کر رہا کر دیا جائے یا قتل کیا جائے ۔ غزوہٴ اُحد کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا مدینہ شہر کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے یا شہر سے باہر نکل کر۔ عام طور سے صحابہ کرام رضوان الله عليهم کی رائے باہر نکلنے کی تھی تو آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے اسے قبو ل فرمایا۔ غزوہٴ خندق میں ایک خاص معاہدے پر صلح کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو حضرت سعد بن معاذ رضي الله تعالى عنه اورحضرت سعد بن عبادہ رضي الله تعالى عنه نے اس معاملے کو مناسب نہیں سمجھا، اس لیے ان دونوں نے اختلاف کیا، آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے ان دونوں کی رائے قبول کرلی، حدیبیہ کے ایک معاملے میں مشورہ لیا تو حضرت ابوبکرؓ کی رائے پر فیصلہ فرمایا،واقعہٴ اِفک میں صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیا، اسی طرح اذان کی بابت بھی صحابہ كرام رضوان الله عليهم سے مشورہ کیا کہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی حکمت کی بناء پر کسی خاص جانب رہنمائی نہ کی جاتی، ان میں آپ صلى الله عليه وآله وسلم صحابہٴ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ فرماتے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نہ صرف یہ کہ اہم امور اورمعاملات میں صحابۂ کرام رضوان الله عليهم سے مشورہ لیتے ،بلکہ ان پر عمل بھی فرماتے تھے۔آپ صلى الله عليه وآله وسلم کے بعد جب صحابۂ کرام رضوان الله عليهم کا دور آیا تو ان کے سامنے ایک طرف تو آپ صلى الله عليه وآله وسلم کا اسوہ ٔ حسنہ تھا اور دوسری طرف قرآن و حدیث۔ دونوں میں نہایت واضح ہدایات خود صحابہ كرام رضوان الله عليهم کو دی گئی تھیں کہ وہ کس اساس پر اپنا سیاسی نظام قائم کریں اور اس میں قانون سازی کا طریقہ کیا ہو۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں اصولی ہدایت یہ دی گئی ہے: اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے۔(سورۂ شوریٰ)اس اصولی ہدایت کی وضاحت بھی نبی کریم صلى الله عليه وآله وسلم نے اس طرح فرمائی تھی: حضرت ابوسلمہ رضي الله تعالى عنه کا بیان ہےکہ میں نے نبی اکرم صلى الله عليه وآله وسلم سے عرض کیا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کا ذکر نہ تو کہیں قرآن میں ہو اور نہ سنت میں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ آپ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ اس معاملے پر مسلمانوں کے صالح لوگ غور کرکے اس کا فیصلہ کریں گے۔ (سنن دارمی)
مشورہ ہمیشہ ایسے شخص سے کرنا چاہیے جسے متعلقہ معاملے میں پوری بصیرت اور تجربہ حاصل ہو، چناںچہ دینی معاملات میں ماہر اور صاحب ِ نظر عالم ِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے اور کسی بیماری اور جسمانی صحت کے بارے میں کسی اچھے طبیب کا انتخاب ہی مفید ہوگا۔ غرض جس طرح کا معاملہ ہے، اسی فن کے ماہرین اور تجربہ کار کا انتخاب کیا جائے، کیوں کہ تجربہ کے بغیر صرف عقل کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتی، گویا مشورہ لینے کے لیے عقل اور تجربہ دونوں کا بیک وقت موجود ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے بغیر صحیح رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: عقل مندوں سے مشورہ کرو، کامیابی ملے گی اور ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ شرمندگی ہوگی۔
رسولِ اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص سے مشورہ کیا جاتا ہے، وہ امانت دار ہوتا ہے ، اسے امانت داری کا پورا حق ادا کرنا چاہیے۔ ( جامع ترمذی )اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ باہمی امور میں مشاورت سے کام لیا جائے ،یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور سنت ِ رسول صلى الله عليه وآله وسلم بھی۔ لہٰذا ہر موقع پر مشورے اور مشاورت کا اہتمام ایک ضروری امر ہے۔

مشوره كــے متعلق رسول كريم صلى الله عليه وسلم كـے چند ارشادات :-
مشوره ليا كريں كيونكه مشوره لينــے والــے كى(منجانب الله) مدد كى جاتي هــے اور جس ســے مشوره ليا جائــے وه امين هــے
انفرادى رائــے ســے كوئى كامياب نهيں هوا اور مشوره كــے بعد كوئى ناكام نهيں هوا
رسول كريم صلى الله عليه وسلم كا( باوجود اس كــے آپ صاحب وحى تهــے) يه معمول رها هــے كه تمام اهم كاموں ميں صحابه كرام رضوان الله عليهم سـے مشوره ليا كرتــے تهــے اور پهر خلفاء راشدين رضوان الله عليهم بهى اسى پر عمل كرتــے رهــے اورپهر امت كــے اكابرين كا بهي يهى معمول چلا آرها هـــے
مشورے كا يه عمل پابندي كے ساتهـ هر روز كيا جاتا هــے تمام دن كا اور اگلــے دن كي فجر تك كا مشوره كر ليا جاتا هــے جس ميں خدمت – تعليم – گشت - بيان اور چهـ نمبر كى فجر كــے بعد كى بات كے لئــے ساتهي طــے هوجاتـــے هيں درميان ميں جو اور تقاضــے آتــے هيں ان كــے لئــے آمير صاحب طــے كرديتــے هيں مشوره سنت كــے مطابق اور مكمل آداب كے ساتهـ كيا جاتا هـــے ساتهيوں كو فكرمند كرنــے كے لئــے ايك ساتهي مشوره كے فضائل اور آداب مختصراً بيان كرتا هــے
جماعت كـے مشوره ميں عموماً مندرجه زيل أمور طــے كيــے جاتـــے هيں
1-خدمت كے لئــے ساتهي جو تقرياً هر روز تبديل هوتــے رهتــے هيں
2-تعليم كــے حلقه كى ذمه دارى
3- گشت كــے حوالــے ســے ذمه دارياں
4- بيان( جو چهـ نمبر كــے اندر هو ) كے لئــے ذمه داري
5- تشكيل كے لئــے ذمه داري
6- فجر كــے بعد چهـ نمبر كى بات كى ذمه داري
اسكــے علاوه وقت كـے مطابق اگر كوئى اور أمور هوں تو وه بهي طــے هو جاتــے هيں
مشوره كے بعد ايك اور عمل شروع هو جاتا هے جسے تعليم كهتے هيں

 تعليم:
يه تعليم وتعلم كا عمل هــے يعني سيكهنے اور سكهانے كا عمل - يه عمل مسجد نبوى صلى الله عليه وآله وسلم كے مستقل أعمال ميں سے إيك هے مسجد نبوى صلى الله عليه وآله وسلم ميں مستقلاً إيك سيكهنے اور سيكهانے كا حلقه موجود رهتا تها سو روزانه فضائل كى تعليم كا إيك حلقه لگايا جاتا هــے جو تقريباً تين گهنٹے تك جارى رهتا هــے يه فضائل كي تعليم إيك خاص طرح كى تعليم هــے جو تين حصوں پر مشتمل هوتي هــے
1-فضائل كى كتابوں سـے قرآن مجيد كى آيات مباركه – آحاديث مباركه اورصحابه رضوان الله عليهم كــے واقعات پڑهـ كرتعليم كى جاتي هــے إيك ساتهى پڑهـتا هــے اور باقى ساتهى پورى توجه ســے سنتــے هيں
2-قرآن مجيد كى تجويد كا حلقه هوتا هــے ساتهيوں كو دو دو تين تين ميں تقسيم كرديا جاتا هــے عموماً أن سورتوں كى تجويد هوتي هــے جو أكثر لوگ نماز ميں پڑهـتــے هيں
3-چهـ نمبر كا مذاكره هوتا هــے هر ساتهي ســے چهـ نمبر بيان كروائـے جاتــے هيں تاكه هر ساتهي چهـ نمبر سيكهـ كر دعوت دينــے والا بن جائــے إس طرح هر ساتهي كي چهـ نمبر بيان كرنے كي مشق هوتي رهتي هے

تعليم كا مقصد:
فضائل كى تعليم كا مقصد يه هــے كه همارا يقين أسباب ســے هٹ كر مسب الأسباب پر آجائــے أعمال كرنے كا كا شوق پيدا هو جائــے كيونكه إنسان فطرتاً لالچى هــے جس چيز كا فائده سمجهتا هــے اس كا شوق ركهتا هــے اور جس چيز كے نقصان كا إس كو پته چل جائــے اس ســے بچنــے كى كوشش كرتا هــے بعين تعليم ميں چونكه أعمال كــے فضائل بيان كيــے جاتــے هيں كه الله تعالى پر يقين كرنــے ســے كيا ملے گا نماز كا أهتمام كرنــے پر دين ودنيا ميں رب كريم كيا عطا فرمائيں گئــے إسى طرح علم حاصل كرنــے- الله تعالى كا ذكر كرنــے- مسلمانون كا إكرام كرنــے- اور اپنى نيت كو خالص ركهنــے اور دعوت و تبليغ كا پيغام پورے عالم ميں لے كر جانــے ميں كيا ملے گا تو پهر يه سب سن كر إنسان كــے دل ميں أعمال كا شوق پيدا هو جاتا هــے اور آحاديث نبوي صلى الله عليه وآله وسلم كے پڑهنے اور سننے ميں يه عجيب خاصيت هے كه پڑهنے اور سننے والوں كا دل نرم هو جاتا هے اور جب دل نرم هوتا هے تو أعمال كي رغبت زياده هوتي هے

تعليم كے آصول وآداب:
1-تعليم ميں مكمل دهيان –ادب – محبت اور توجه كيساتهـ بيٹهنــے كى مشق كى جائـے.
2-يه نه ديكها جائـے كه پڑهنــے والا كون هــے بلكه جس كا كلام هــے أسكى عظمت كو ذهن ميں ركها جائــے.
3-جہاں تك ممكن هوسكــے باوضو هو كر بيٹها جائــے.
4-اگر كوئى مشكل نه هو تو بغير سہاره كــے بيٹها جائــے.
5-دوران تعليم كسى ســے بات نه كي جائــے.
6-حتى الإمكان تعليم ميں ســے أٹهنــے ســے إجتناب كيا جائــے.
7-دوران تعليم اگر الله تعالى كا نام آئـے تو جلا جلاله پڑها جائــے اگر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم كا إسم گرامي آئـــے تو درود شريف پڑها جائــے اگر كسى صحابى كا نام آئــے تو رضي الله تعالى عنه اور اگر كسي صحابيه كا نام آئــے تو رضي الله تعالى عنها كہا جائــے اگر كسى مرحوم ولى يا بزرگ كا نام آئــے تو رحمة الله عليه يا رحمه الله كہا جائـے.
8-تعليم كــے دوران اگر جنت كى نعمتوں كا ذكر آئــے تو چہرے پر خوشى كے آثار ظاهر هوں اور اگر جهنم اور اسكــے عذاب كا ذكر آئــے تو چہرے پر غمى كا تأثر ظاهر هو.
9-تعليم ميں كوئى آيت مباركه يا حديث مباركه ايسى آئــے جو پہلے بهي سنى هوئى هو تو يوں خيال نه كرے كه يه تو ميں بهت دفعه سن چكا هوں بلكه اســے بهي مكمل دهيان ســے سنــے اور اپنى حالت كا جائزه لــے كه يه آيت مباركه يا حديث مباركه ميرى زندگى ميں كہاں تك عمل ميں آئى هــے اگر نہيں تو عمل كا إراده كرے اور اپنى زندگى ميں عملى طور پر لانــے كى پورى كوشش كرے.
10-تعليم كو اپنى ضرورت سمجهـ كر سنــے جو چيز عمل ميں هــے أس پر الله تعالى كا شكر كرے اور جو عمل ميں نہيں اس كيلئــے پخته إراده كرے.
11-تعليم ميں جو كچهـ سنــے اســے دوسرے لوگوں تك پہنچانــے كي نيت كرے

تعليم كے فضائل :
إسكــے بــے شمار فضائل ذكر كيـے گئـے هيں جن ميں ســے چند درج زيل هيں :-
1-يه مسجد نبوى صلى الله عليه وسلم كے نوراني اعمال ميں ســے إيك عمل هــے رسول كريم صلى الله عليه سلم كــے زمانه ميں مسجد نبوى صلى الله عليه وسلم ميں تعليم و تعلم كا إيك مستقل حلقه قائم تها جس ميں بعض أوقات رسول كريم صلى الله وآله وسلم خود بهي شركت فرماتــے تهــے
2-تعليم ميں چونكه آيات قرآنيه اور آحاديث مباركه سنى سنائى جاتي هيں إسلئـے إس ســے دل نرم هو جاتا هــے
3-فضائل كي آحاديث سن كر أعمال كا شوق پيدا هوتا هــے
4-صحابه كرام رضوان الله عليهم كــے واقعات سن كر قربانى كا جذبه پيدا هوتا هــے
5-تعليم چونكه الله اور أسكــے رسول صلى الله عليه وآله وسلم كا ذكر هـے إسلئـے إسميں فرشتــے بهي شامل هوتــے هيں اورأنكى تعداد آسمان تك پہنچ جاتي هــے
6-إيك سنت زنده هوتى هــے اور اسكا ثواب بهي شركاء مجلس كو ملتا هــے
7-الله تعالى إس مجلس والوں پر فرشتوں ميں فخر فرماتــے هيں اور فرشتــے إس مجلس پر رشك كرتــے هيں
8-تعليم كا يه حلقه خالصتاً سيكهنــے سيكهانــے كا حلقه هے إس لئـے حديث مباركه ميں إن كو بہترين لوگ كها گيا هــے
9-إس مجلس پر الله تعالى كي خاص رحمت (سكينه) نازل هوتي هــے
10-جب تك يه حلقه جارى رهتا هــے شركاء مجلس الله تعالى كى خاص رحمت كــے سايه ميں رهتــے هيں
11-چونكه فرشتــے إس ميں شريك هوتــے هيں اور فرشتوں ميں الله تعالى نــے 100% آطاعت كا ماده ركها هوا هــے وه معصيت ســے پاك هوتــے هيں تو چونكه وه إس مجلس كــے هم نشين هوتــے هيں إس لئــے غير محسوس طريقه سے شركاء مجلس ميں بهي الله تعالى اور أس كــے رسول صلى الله عليه وسلم كي آطاعت كا ماده پيدا هوتا هــے
12-فرشتوں كى إيك قسم إيسي هــے جن كى غذا الله تعالى نــے ذكر كى مجلسيں ركهى هوئى هــے يه لوگ اپنى غذا كى تلاش ميں گهومتــے رهتـے هيں جهاں بهي أن كو إيسى كوئى مجلس مل جاتي هــے تو وه أس ميں نه صرف شريك هو جاتــے هيں بلكه اپنــے دوسرے ساتهيوں كو بهي آواز ديتــے هيں كه يهاں آجاؤ يهاں همارى غذا موجود هــے
13-مجلس كــے إهتمام پر فرشتــے إس مجلس كى كارگزارى سوال جواب كى شكل ميں الله تعالى كو سناتــے هيں اور پهر الله تعالى فرشتوں كو گواه بنا كر إس مجلس والوں كى مغفرت كا إعلان فرماتــے هيں۔ جو شخص إس مجلس ميں شركت كــے إراده ســے تو نهيں بلكه ويســے هي كسى كام ســے آيا هو ليكن إس مجلس كو ديكهـ كر پهر اس ميں كچهـ وقت كے لئــے شريك هوگيا هو تو إس مبارك اور بابركت مجلس كى بركت ســے أس كى بهي مغفرت كردي جاتى هــے

تعليم كے عمل سے فراغت كے بعد ظهر كي نماز ادا كي جاتي هے اور دعا كے بعد فضائل آعمال ميں سے إيك يا دو حديث مباركه پڑهي جاتي هے ظهر كے بعد عصر تك كهانا اور قيلوله هوتا هے اور اگر ضرورت هو تو خصوصي ملاقاتوں كا إهتمام بهي هوتا هے اور پهر عصر كي نماز كے بعد گشت كا پروگرام هوتا هے

گشت:
جيسا كه عرض كيا جاچكا كه جماعت آصول و ضوابط كى پابندى كرتــے هوئــے يه مبارك كام سرآنجام ديتى هـــے إس ميں جن چار كاموں كو سب ســے ذياده كرنا هوتا هــے أن ميں سب ســے پهلا اور أهم كام "دعوت إلى الله" يعنى الله كــے بندوں كو الله كى طرف بلانا هــے إس كام ميں گشت كا عمل ايك ريڑهـ كي هڈى كى حيثيت ركهتا هــے اگر يه عمل صحيح هوگا تو دعوت قبول هوگى اگر دعوت قبول هوگى تو دعا بهي قبول هوگى دعا قبول هوئى تو هدايت آسمانوں ســے أترے گى اگر گشت قبول نه هوا تو پهر ظاهر هــے دعا كى قبوليت نهيں هوگى اور پهر هدايت بهي نهيں أترے گى إس لئــے إس كى إهميت اور مقصد كو سامنــے ركهـ كر آداب كي رعايت ركهتے هوئے إخلاص كے ساتهـ گشت كرنا هــے
گشت سے پهلے إيك ساتهي كهڑے هو كر إيمان و يقين كي بات كرتا هے گشت كي إهميت - مقصد - فضائل اور آداب بيان كرتا هے اور پهر آمير صاحب گشت كے لئے جماعت بنا ديتے هيں جو دعا كركے گشت كے لئے نكل جاتي هے
إيك ساتهي كو ذكر كے لئے الگ كركے بٹها ديا جاتا هے جو پوري توجه سے الله تعالى كي طرف متوجه هوكر الله تعالى كے ذكر ميں مشغول رهتا هے
دو يا تين ساتهيوں كي إستقباليه جماعت بنا دي جاتي هے جو آنے والے مهمانوں كا إستقبال اور إكرام وغيره كرتي هے
جماعت كا إيك ساتهي بيٹهـ كر إيمان و يقين كي تفصيلي بات كو تقريباً مغرب كي نماز تك جاري ركهتا هے مسجد ميں موجود ساتهي اور آنے والے مهمان إس سے إستفاده كرتے هيں
گشت كے لئے نكلنے والي إس جماعت ميں إيك آمير هوتا هے جو جماعت كو لے كر چلتا هے إيك رهبر هوتا هے جو مقامي سااتهيوں ميں سے هوتا هے وه گشت كرواتا هے اور ساتهيوں سے ملاقات كرواتا هے ان كا تعارف كرواتا هے
إيك متكلم هوتا هے جو مختصر سي بات هر إيك ملنے والے سے كرتا هے اور اس كو مسجد ميں آنے كي دعوت ديتا هے بات صرف متكلم هي كرتا هے دوسرے ساتهي دهيان سے سنتے هيں اگر ضرورت محسوس هو تو آمير صاحب بات بهي كرسكتے هيں متكلم جو دعوت ديتا هے و كم و بيش اس طرح هوتي هے
" بهائى الحمد لله هم مسلمان هيں هم نے كلمه " لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ " كا أقرار كركے الله تعالى سے يه وعده كيا هے كه يا الله هم تيرے هي حكموں پر چليں گے اور تيرے رسول صلى الله عليه وآله وسلم كے هي طريقوں كے مطابق زندگي بسر كريں گے الله تعالى كے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله كے طريقے هماري زندگي ميں كيسے آجائيں اس كے لئے محنت كي ضرورت هے إسي محنت كے بارے ميں مسجد ميں بات هو رهي هے اور هم آپ كو لينے كے لئے حاضر هوئے هيں "
اگر ساتهي تيار هو جائے تو اس اپنے إيك ساتهي كے همراه مسجد بيجهـ ديا جاتا هے اور اگر فوري تيار نه هو تو اسے مغرب كي نماز ميں آنے اور مغرب كے بعد كا بيان سننے كي دعوت دے دي جاتي هے
يه عمومي گشت هوتا هے جو ڈور ٹو ڈور كيا جاتا هے اور مغرب سے تهوڑي دير پهلے تك جاري رهتا هے مغرب سے كچهـ پهلے گشت سے إستغفار كرتے هوئے جماعت واپس مسجد ميں آجاتي هے اور مسجد ميں هونے والے عمل ميں شامل هو جاتي هے
پهر مغرب كي نماز كے بعد إيك ساتهي إس طرح إعلان كرتا هے
" ايك ضروري أعلان سنيے ميري آپ كي بلكه تمام إنسانيت كي پوري كي پوري كاميابي الله تعالى نے پورے كے پورے دين ميں ركهي هے يه دين هماري زندگيوں ميں كيسے آجائے إس كے لئے محنت كي ضرورت هے اسي محنت كے لئے  بقيه نماز كے بعد إن شاء الله إيمان يقين كي بات هوگي  آپ لوگ تشريف ركهيں ان شاء الله  بهت فائده هوگا  "
اور پهر سنتوں كے بعد إيك ساتهي چهـ نمبر ميں ره كر إيمان و يقين كي بات كرتا هے چار ماه - چاليس دن اور تين دن كي ترغيب و دعوت دي جاتي هے بيان كے إختتام پر ايك ساتهي تشكيل كرتا هے جو ساتهي إراده كرتے هيں ان كے نام لكهـ ليے جاتے هيں تشكيل كے بعد دعا هوتي هے إس طرح گشت كا يه مبارك عمل مكمل هو جاتا هے

گشت كي إهميت:
يه مبارك عمل رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم اور تمام آنبياء كرام عليهم السلام كى مبارك سنت هــے يه خالصتاً آنبياء كرام عليهم السلام كا كام هــے قرآن مجيد كي سورة نوح ميں حضرت نوح عليهم السلام كــے متعلق بهت تفصيل ســے مذكور هــے إسى طرح تمام آنبياء كرام عليهم السلام إس مبارك عمل كو كرتــے رهـےـ الله كــے بندوں كو الله كي طرف بلانــے كے لئــے خود أن كــے پاس جانا بهي تمام آنبياء كرام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كى محبوب سنت هــے إس كے لئــے آنبياء كرام عليهم السلام كو بہت تكليفيں بهي برداشت كرنى پڑيں ليكن وه إس عمل كو كرتــے رهــے
حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم خود مكة مكرمه ميں گشت فرماتــے رهــے اور لوگوں كو الله كى طرف بلاتــے رهــے إيك إيك شخص كــے پاس بار بار جاتــے رهــے تاكه وه جهنم ســے بچ كر جنت ميں جانــے والا بن جائــے إيك صحابى بيان فرماتــے هيں كه جب ميں مسلمان نهيں هوا تها تو رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم سو مرتبه ســے بهي زياده مرتبه ميرے پاس تشريف لائــے وه جب بهي تشريف لاتــے ميں أن ســے إنتہائى ترش روئى ســے پيش آتا ليكن حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم تو صبر كا پہاڑ تهــے پهر تشريف لــے آتــے
إسى طرح إيك مرتبه جب آپ تشريف لائــے تو ميں نــے غصه ســے ان كــے چہره أنور پر تهوك ديا حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم نــے اپنــے چہره أنور ســے تهوك كو صاف فرمايا اور مجهــے مخاطب هوكر فرمايا كه اب تو ميرى بات سن لو بس يه وه وقت تها كه ميں كلمه پڑهـ كر مسلمان هوگيا
طائف كا واقعه بہت مشہور هــے إسى طرح آيام حج ميں بهي آپ حج كے لئـے آنــے والوں كــے خيموں ميں جا كر گشت فرمايا كرتــے تهــے دعوت إلى الله كا كام آنبياء كرام كا كام هــے إس لئــے يه كام آنبياء كرام هي فرمايا كرتــے تهــے ليكن اب حضور آكرم صلى الله عليه وآله وسلم كــے بعد نبوت كا سلسه ختم هوگيا اور يه مبارك كام إس امت كــے سپرد كيا گيا اور فرما ديا جو يه كام كرے گا وه هي بهترين امت ميں ســے هوگا اور يه كام كرنــے والوں كو كى كاميابى كا إعلان بهي خود الله تعالى نــے قرآن مجيد ميں فرما ديا سو گشت كرتــے وقت إس كى إهميت كو زهن ميں ركها جائــے كه يه كوئى معمولى عمل نهيں هـــے بلكه دنيا ميں جتنــے بهي كام هورهــے هيں يه أن سب سے آفضل عمل هــے

گشت كا مقصد:
الله تبارك تعالى نــے هم سب إنسانوں كى دنياوى او أخروى كاميابي كا دارومدار اپنــے آحكام كو رسول كريم صلى الله عليه وسلم كــے طريقه پر پورا كرنــے ميں ركها هــے دنيا و آخرت كے تمام مسائل كا حل إسى ميں هــے يه دونوں چيزيں عملى طور پر همارى زندگى ميں آجائيں إس كــے لئــے يه مبارك محنت شرط هــے إس عالى محنت كو هم اور بستى كــے تمام أفراد كرنــے والــے بن جائيں اور هر مسلمان اپنـے يقين كى تبديلى كے لئــے كلمه كي دعوت ديتــے هوئــے كلمه كــے يقين كي محنت كرنــے والا بن جائـــے إس كے لئــے مكمل آصولوں كے ساتهـ گشت كرنا هــے يهى گشت كا مقصد هــے۔

گشت كــے آصول:
1-الله كا ذكر كرتــے هوئــے سنت كے مطابق دائيں هاتهـ پر جانا هــے
2-نظروں كى حفاظت كرتےهوئـــے جانا هــے
3-آمير كى آطاعت كرنى هـــے
4- اگر كسى گهر كــے دروازه پر ركيں تو دروازه كــے سامنــے نهيں ركنا بلكه إيك طرف هو كر كهڑے هونا هــے
5-چيزوں كي طرف بالكل دهيان نهيں دينا – چيزوں كي طرف اگر همارا دل پهر گيا تو هم جن كــے پاس جا رهــے هيں ان كا دل چيزوں ســے الله تعالى كى طرف كيســے پهرے گا؟
6-اگر كسى چيز پر نظر پڑ جائــے تو يه سمجهـ لينا هــے كه يه مٹى ســے بنى هــے اور بهر مٹى هي بن جائے گى
7-برزخ يعنى قبر كــے داخلــے كو ذهن ميں ركهنا هــے
8-گشت كــے دوران يه يقين ركهنا هــے كه همارے تمام مسائل كا تعلق الله تعالى كى ذات ســے هــے بازار ميں پهيلى هوئى چيزوں ســے همارا كوئى مسئله حل هونــے والا نهيں هــے
9- جب بات هو رهي هو تو اســے دهيان ســے سنيں يه خيال كريں كه يه بات ميرے لئے هي هو رهي هـے
10-واپسى پر إستغفار كرتــے هوئے آئيں كه يه آنبياء كرام كا كام تها جو يقيناً هم صحيح طرح ســے نهيں كر پائــے

گشت كــے آداب:
1-آٹهـ دس ساتهي عمومى گشت كے لئــے جائيں
2- مل جل كر چليں اور دائيں هاتهـ پر چليں
3-بات إيك هي ساتهي كرے باقي سب ساتهي متوجه هوكر سنيں
4-مسجد كــے قريب گهروں ميں گشت كيا جائــے بازار ميں بهي كرسكتــے هيں
5-گشت ميں زياده وه ساتهي جائيں جو آصولوں كى پابندى كرسكيں
6-اگر نئــے ساتهـى تيار هوجائيں تو تين چار نئــے ساتهي لــے ليـے جائيں باقي پرانــے ساتهي هوں
7-موقعه محل ديكهـ كر بات كى جائــے بات إتنى لمبى بهي نه هو كه وه شخص أكتا جائــے اور إتنى زياده مختصر بهي نه هو كه سمجهـ ميں نه آئــے
8-جس بهائى ســے ملاقات كريں اســے بتائيں كه بهائى الله تعالى كــے فضل ســے هم مسلمان هيں هم نـے كلمه  لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ كا إقرار كيا هــے همارا يقين هــے كه پالنــے والى ذات الله تعالى كي هي هــے نفع نقصان اور عزت و ذلت كا وه تنها مالك هــے اگر هم الله تعالى كـے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وسلم كــے طريقوں پر زندگى گزاريں گــے تو الله تعالى هم ســے خوش هوكر همارى دنياوى اور آخروى زندگى كامياب بنا يں گـے همارى زندگى الله تعالى كــے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وسلم كــے طريقوں پر آجائــے إسكــے لئــے فكر اور محنت كى ضرورت هــے إسى فكر اور محنت كے لئــے مسجد ميں بات هورهي هــے اور هم آپ كو لينــے آئـے هيں اگر بهائى تيار هوجائــے تو إيك ساتهي ساتهـ جاكر اس كو مسجد ميں چهوڑ آئــے
9-وه بات كرنـے والا بهت كامياب هــے جو بات بهي مختصر كرے اور نقد وصول كركے مسجد ميں بيجهـ دے
10-اگر إيســے كسى بهائى ســے ملاقات هو جو نماز ســے فارغ هوچكا هو تو اســے بهي ترغيب ديكر مسجد ميں بيجهـ ديا جائــے
11-اگر ضرورت محسوس كريں تو اگلى نماز كو عنوان بنا كرترغيب ديں

گشت كى أقسام :
گشت كى تين أقسام هيں
1- عمومى گشت
2- خصوصي گشت
3- تعليمي گشت

عمومى گشت:
-------------
عمومى گشت كــے متعلق بهت تفصيل ســے گذشته أقساط ميں بيان كيا جا چكا هــے

خصوصي گشت :
يه گشت بستى كــے خاص لوگوں ســے ملاقات كركــے كيا جاتا هــے تعليمي ، سماجي اور دنياوى لحاظ ســے جو لوگ خصوصي درجه ميں هوں ان كو ملكر بات سمجهانـــے كى كوشش كى جاتي هــے ليكن خصوصى گشت اگر علماء كرام كى ملاقات كى شكل ميں هو تو علماء كرام كو صرف كارگزارى بتا دى جاتى هــے اور سرپرستى كے لئــے درخواست كى جاتي هــے البته اگر ملاقات كرنے والوں ميں كوئي عالم هو تو وه باقاعده دعوت بهي دے سكتا هے

تعليمي گشت :
يه گشت فضائل كى تعليم كــے دوران كيا جاتا هــے إسكا مقصد بستى والوں كو بهي تعليم ميں شريك كرنــے كى كوشش كرنا هوتا هــے جب تعليم شروع هوتي هــے تو آمير صاحب كے حكم پر دو ساتهى تعليمي گشت كے لئــے روانه هوجاتــے هيں بيس پچيس منٹ كــے بعد وه ساتهي جب گشت كركــے واپس آجاتــے هيں تو دوسرے دو ساتهيوں كو گشت كے لئــے بيجهـ ديا جاتا هــے إس طرح بستى والوں كو تعليم ميں شريك كرنے كى كوشش هوتي رهتي هــے

مذاكرے :
سيكهنــے سيكهانے كے لئــے مذاكره كرنا يعني إيك دوسرے كو نصيحت كرنا يا ياد دهاني كروانا إيك أهم عمل هــے قرآن المجيد ميں الله تعالى كا أرشاد هے
" وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ()
اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے"
ايك اور مقام پر ارشاد خداوندي هے
" فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى. (). سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَى. (). وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى. (). الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى. ()
سو تو نصيحت كر اگر فائده كرے نصيحت كرنا () سمجهـ جائے گا جس كو خوف(خدا) هوگا () اور گريز كرے گا إس سے بڑا بدبخت () وه جو داخل هوگا بڑي آگ ميں()"
جماعت ميں مذاكروں پر بهت زور ديا جاتا هــے تمام أعمال كــے فضائل اور آداب كــے مذاكرے كيے جاتے هيں مثلاً غسل – وضو اور نماز كــے فرائض كے مذاكرے - كهانــے اور سونــے كــے آداب كے مذاكرے - گشت اور تعليم كــے فضائل و آداب بيان كرنــے كے مذاكرے - چهـ نمبر كا مذاكره وغيره

ذكر و عبادت :
جيسا كه عرض كيا گيا كه الله كے راسته ميں نكل كر چار أعمال كي مشق كروائي جاتي هے إن ميں تيسرا عمل " ذكر و عبادت " هے ذكروعبادت إنفرادى عمل هــے إسميں تهجد ، اشراق اور چاشت وغيره كي نمازوں كــے نوافل - قرآن مجيد كى تلاوت اور تين مسنون تسبيحات كا إهتمام وغيره شامل هيں اور الحمد لله ساتهي بهت إهتمام سے إن أعمال كو كرنے كي كوشش كرتے هيں

خدمت :
الله تعالى كے راسته ميں نكل كر بهت إهم مشق چوتهے عمل "خدمت " كي هے عبادت سے جنت ملتي هے ليكن خدمت سے خدا ملتا هے جماعت ميں خدمت كے لئــے مشوره ســے هر روز باري باري دو دو ساتهـي طـے هو جاتــے هيں وه تمام كهانــے پكانـے كـے أمور اور دوسرى خدمات سرآنجام ديتــے هيں اور إس كے علاوه دوسرے ساتهي بهي هر وقت خدمت كے لئــے مستعد رهتــے هيں. إسي طرح آمير صاحب كي آطاعت اور خدمت بهي بهت إهم سمجهي جاتي هے . جماعت ميں بوڑهـے اور بيمار ساتهيوں كى خدمت بهي ساتهي پورے شوق سے كرتے هيں هر ساتهي خدمت كو اپنے لئے إيك إعزاز سمجهتا هے دوسرے مسلمان كے لئے صرف الله كي رضا كي خاطر قرباني دينے كا جذبه پيدا هوتا هے قرون اولى كي ياد تازه هو جاتي هے إس طرح إيك مكمل روحانى ماحول پروان چڑهتا هــے اور شايد إس طرح كے روحاني ماحول كا كسي دوسري جگه دستياب هونا اگر ناممكن نهيں تو مشكل ضرور هے ورنه الله معاف فرمائے هم نے حج اور عمره جيسے مقدس سفر ميں لوگوں كو ايك دوسرے كے ساتهـ لڑائي جهگڑا اور گالي گلوچ كرتے هوئے اپني آنكهوں سے ديكها هے دعا هے الله پاك هم سب كو إن صفات كے ساتهـ زندگي بسر كرنے كي توفيق عنايت فرمائے - آمين
جيسا كه عرض كيا گيا كه جماعت كے ساتهي " خروج في سبيل الله " كے دوران الحمد لله چوبيس گهنٹے الله تعالى كے آحكام اور رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے نوراني طريقوں كے مطابق وقت گزارتے هيں اور جتنے دن كي تشكيل هوئى هوتي هے جب جماعت كا وه وقت مكمل هوجاتا هے تو پهر جماعت مركز ميں واپس آجاتي هے (تين روزه جماعت براه راست يهاں هي سے اپنے مقام كي طرف واپس هوجاتي هے ) مركز ميں جماعت كي كارگزاري سني جاتي هے

كار گزاري:
يه إيك سنت عمل هے رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم اور ان كے بعد خلفائے راشدين رضوان الله عليهم واپس آنے والي جماعتوں كي كارگزاري سماعت فرمايا كرتے تهے مركز ميں باقاعده كارگزاري سننے كے لئے إيك مربوط نظام قائم هے يهاں پر جماعت كے آمير يا كوئى دوسرا ساتهي جماعت كي كارگزاري سناتے هيں جس ميں بستي كے آحوال - مسجد كے أعمال - جماعت كے جانے سے پهلے اور بعد كي نوعيت و كيفيت وغيره بهي شامل هوتے هيں كارگزاري سننے والے بزرگوں كي طرف سے إس بارے سوال بهي كيے جاتے هيں جن كا حقيقت پر مبني جواب تسلي بخش طريقه سے ديا جاتا هے جن ساتهيوں كا وقت مكمل هوگيا هوتا هے وه واپسي كي بات سننے كے عمل ميں شامل هوجاتے هيں اور جن كا ابهي وقت باقي هوتا هے وه شعبئه تشكيل ميں جا كر اپني نئى تشكيل كروانے كے لئے نام درج كرواديتے هيں اور تشكيل هونے تك مركز كے أعمال ميں شامل هوتے رهتے هيں

واپسي كي هدايات:
اب چونكه جماعت كے جن ساتهيوں كا وقت مكمل هو چكا هوتا هے أنهوں نے اپنے اپنے گهر واپسي كرني هوتي هے إس لئے واپسي سے پهلے أنهيں واپسي كي هدايات دي جاتي هيں جس ميں إس كام كي عظمت كو بيان كركے آئنده بهي الله كے راسته ميں نكلنے كي ترغيب دي جاتي هے اور اپنے مقام پر ره كر بهي إس كام كو جاري ركهنے كي تاكيد كي جاتي هے اور إس كي ترتيب سمجهائي جاتي هے إسے مقامي كام يا مقامي مشق كها جاتا هے جو بهت إهميت كي حامل مشق هے إس كے بعد ساتهي إس كام كي عظمت كو اپنے زهن ميں ركهتے هوئے اور إستغفار كرتے هوئے اپنے مقام كي طرف واپس هو جاتے هيں اور يوں يه بركتوں اور فضيلتوں بهرا سفر اپنے إختتام كو پهنچ جاتا هے
سطور بالا  ميں دعوت و تبلیغ كي جس مشق كا ذكر كيا گيا وه الله كے راسته ميں نكل كر كرنے والي مشق هے يعني يه مشق "خروج في سبيل الله " كے دوران هوتي هے ليكن يه بهي إيك حقيقت هے كه هر إنسان كا ذياده وقت تو اپنے مقام پر هي گزرتا هے مثلاً اگر كوئي شخص پابندي سے سهه روزه لگاتا هے اور سالانه چاليس دن لگاتا هے تو گويا سال ميں ڈهائي مهينے الله كے راسته ميں رهتا هے اور باقي ساڑهے نو ماه اپنے مقام پر گزارتا هے اور اگر كوئي شخص سال ميں چار ماه الله كے راسته ميں لگاتا هے (جيسا كه كچهـ الله كے بندے إيسا كرتے هيں گو ان كي تعداد بهت زياده نهيں هے ) اور پابندي سے تين دن هر مهينے لگاتا هے تو بهي آدها وقت اپنے مقام پر هي گزارتا هے تو پهر إس لئے مقام پر ره كر دعوت و تبلیغ كي مشق كو جاري ركهنا بهي ضروري هے إس لئے دعوت وتبليغ كي محنت و مشق اپنے مقام پر ره كر روزانه كي بنياد پر كرنا ازحد ضروري هے إس كے لئے يه بتايا جاتا هے كه إنسان اپنے مقام پر ره كر اپنے دنياوي امور كے ساتهـ ساتهـ پانچ كام بهي كرتا رهے تو پهر وه إس محنت كے ساتهـ إن شاء الله مستقلاً جڑا رهے گا يه پانچ كام مندرجه زيل هيں :
1-روزانه كم از كم ڈهائي گهنٹے دنياوي امور سے فارغ كركے دين كي محنت كرنا
2-روزانه مسجد كے مشوره ميں شركت كرنا
3-روزانه دو فضائل كي تعليم كا إهتمام كرنا - إيك گهر كي إيك مسجد كي
4-هفته ميں دو گشت كا إهتمام كرنا - إيك اپنے محله كي مسجد كا يعني مقامي گشت اور إيك كسي دوسرے محله كي مسجد كا يعني بيروني گشت
5- هر مهينه ميں كم ازكم تين دن كے لئے الله كے راسته ميں خروج كرنا
(إسي طرح هر سال ميں كم از كم 40 دن كيلئے خروج كرنا)

مقامي كام يا مقامي مشق:
گذشته قسط ميں مقامي كام كے حواله سے پانچ كام كرنے كا ذكرهوا تها جن كي مختصر سي تفصيل عرض كي جاتي هے:-

1- روزانه ڈهائي گهنٹے دين كا كام كرنا :
الله تعالى كي ذات اپنے بندوں پر بهت هي رحيم وكريم هے اگر بنده إيك نيكي كرتا هے تو الله اسے دس نيكيوں كا آجر عطا فرماتا هے اور خدانخواسته اگر بندے سے ايك برائي سرزد هو جائے تو اسے سزا ايك برائي كے برابر هي هوگي إس آصول خداوندي كے مطابق جو شخص روزانه ڈهائي گهنٹے الله كے دين كا كام كرے گا اسے روزانه چوبيس گهنٹے دين كا كام كرنے كا ثواب ملے گا جيسا كه قرآن پاك ميں ارشاد خداوندي هے :-
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
[]
اور جو کوئی (خدا کے حضور) إيك نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو إيك برائی لائے گا اسے سزا ویسے( إيك كے بربر) ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
يه تو حقيقت هے كه جو شخص ڈهائي گهنٹے الله كے دين كا كام كرے گا اسے چوبيس گهنٹے دين كا كام كرنے كا ثواب ملے گا ليكن إس كا يه مطلب بهي هرگز نهيں كه اكر كوئي شخص روزانه ڈهائي گهنٹے الله كے دين كا كام نهيں كر سكتا تو وه كم وقت بهي يه كام نه كرے بلكه كوشش تو يهي هو كه روزانه كم از كم ڈهائي گهنٹے الله كے دين كا كام كيا جائے ليكن اگر يه ممكن نه هو تو جتنا بهي وقت لگ جائے وهي غنيمت هے
إسي طرح اگر كوئي شخص زياده وقت لگانے كي إستطاعت ركهتا هے تو پهر اسے ڈهائي گهنٹے تك هي محدود نهيں رهنا چاهيے بلكه جتنا زياده وقت لگا سكے وه نورًا على نورهے كچهـ الله كے بندے روزانه آٹهـ گهنٹے اور كچهـ روزانه باره گهنٹے بهي دين كا كام كررهے هيں هميں بهي إن لوگوں كي پيروي كرني چاهيے نه كه ان لوگوں كي جو اس مبارك كام سے محروم هيں
هرشخص كے پاس روزانه چوبيس گهنٹے هي كا وقت هوتا هے اور وه وقت بهرحال كہيں نه كہيں گزرهي جاتا هے اگر إن چوبيس گهنٹے ميں سے كچهـ وقت الله كے دين كے لئے بهي لگ جائے تو يه وقت همارے اخروي بنك ميں جمع هوجائے گا اور كل قيامت والے دن جب أعمالنامه كهلے گا اور دين كے لئے گزرے هوئے وقت كا آجرجب سامنے هوگا تو پهر يه شخص حسرت كرے گا كه كاش! ميں نے زيادة وقت الله كے دين كے لئے لگايا هوتا ليكن اس وقت إس حسرت كا كوئي فائده نهيں هوگا آج تو هم كہتے هيں كه دين كا كام كرنے كے لئے هم فارغ نهيں هيں ليكن يه إيك كهلي هوئي حقيقت هے كه هم سب پربہت جلد إيك ايسا وقت بهي آنے والا هے كه جب هميں (دنيا سے ) بالكل هي فارغ كرديا جائے گا اسوقت اگركوئي شخص صرف إيك دفعه " سبحان الله " بهي كہنے كا موقعه چاهے گا تو اسے يه موقعه بهي ميسر نهيں هو گا إس كے برعكس إس دنياوي زندگي ميں همارے پاس يه سنہري موقعه موجود هے جتنا هم چاهيں الله كے دين كے لئے اپنے اوقات لگا كر اپنے أعمال نامه كو وزني كرليں الله پاك هم سب كو إسكي توفيق عنايت فرمائے اور هم روزانه كي بنياد پراپنے اوقات الله كے دين كے لئے لگانے والے بن جائيں - آمين يا رب العالمين

2- روزانه مسجد كے مشوره ميں شركت كرنا
مشوره كي إهميت ، فضائل اورآداب كے متعلق عرض كيا جا چكا هے هر مسجد ميں روزانه كي بنياد پرمشوره هوتا هے جس ميں روزانه ساتهيوں سے ملاقاتيں طے هوجاتي هيں اورگزرے هوئے دن كي ملاقاتوں كي مختصرسي كارگزاري سامنے آجاتي هے إس طرح روزانه إس مبارك عمل كو كيا جاتا هے

3- روزانه دو فضائل كي تعليم كا إهتمام كرنا -
روزانه إيك مسجد كي اور إيك گهر كي تعليم كا إهتمام هوتا هے تعليم كي إهميت فضائل اورآداب كے متعلق بهي عرض كيا جا چكا هے هر مسجد ميں روزانه كي بنياد پر تعليم كا عمل هوتا هے اور پهر إيك تعليم كا عمل گهر ميں كيا جاتا هے جس ميں گهركے تمام أفراد شركت كرتے هيں تعليم كے عمل سے يه چاها جا رها هے كه هميں أعمال كي رغبت هو جائے اور همارے دل كا يقين أسباب سے هٹ كر مسبب الأسباب پرآجائے

4-هفته ميں دو گشت كا إهتمام كرنا -
هرهفته دو گشت كا إهتمام كرنا بهي ضروري هے إيك اپنے محله كي مسجد كا يعني مقامي گشت اور إيك كسي دوسرے محله كي مسجد كا يعني بيروني گشت- گشت كركے تمام محلے كے مرد حضرات سے ملاقات كي كوشش كي جاتي هے پهر إن كومسجد ميں جمع كركے ان كے سامنے بات ركهي جاتي هے اورجو ساتهي " خروج في سبيل الله" كا إراده كرتے هيں أنهيں الله كے راسته ميں نكالنے كي محنت هوتي هے إسي طرح دوسرے محله كي مسجد ميں بهي يه عمل كيا جاتا هے

5- هر مهينه ميں كم ازكم تين دن كيلئے الله كے راسته ميں خروج كرنا
جيسا كه پہلے عرض كيا جا چكا كه الله تعالى كي ذات اپنے بندوں پر بهت هي رحيم وكريم هے اگر بنده إيك نيكي كرتا هے تو الله اسے دس نيكيوں كا آجر عطا فرماتا هے اور خدانخواسته اگر بندے سے ايك برائي سرزد هو جائے تو اسے سزا ايك برائي كے برابر هي هوگي إس آصول خداوندي كے مطابق جو شخص هر ماه تين دن الله كے راستے ميں گزارے گا اسے تيس دن يعني پورا مهينه الله كے راسته ميں گزارنے كا ثواب ملے گا جيسا كه قرآن پاك ميں ارشاد خداوندي هے :-
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
[]
اور جو کوئی (خدا کے حضور) إيك نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو إيك برائی لائے گا اسے سزا ویسے( إيك كے بربر) ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا
يه تو حقيقت هے كه جو شخص هر ماه تين دن الله كے راستے ميں گزارے گا اسے تيس دن يعني پورا مهينه الله كے راسته ميں گزارنے كا ثواب ملے گا ليكن إس كا يه مطلب بهي هرگز نہيں كه اكر كوئي شخص هر ماه تين دن الله كے راستے ميں نہيں گزار سكتا تو وه كم وقت بهي يه كام نه كرے بلكه كوشش تو يهي هو كه هر ماه كم از كم تين دن الله كے راسته ميں نكل كر دين كا كام كيا جائے ليكن اگر يه ممكن نه هو تو جتنا بهي وقت لگ جائے وهي غنيمت هے
إسي طرح اگر كوئي شخص زياده وقت لگانے كي إستطاعت ركهتا هے تو پهر اسے تين دن تك هي محدود نهيں رهنا چاهيے بلكه جتنا زياده وقت لگا سكے وه نورًا على نورهے كچهـ الله كے بندے هر ماه آٹهـ دن اور كچهـ إس سے بهي زياده هر ماه الله كے راسته ميں نكلنے كا إهتمام كرتے هيں هميں بهي إن لوگوں كي پيروي كرني چاهيے نه كه ان لوگوں كي جو اس مبارك كام سے هي محروم هيں
الله كے راسته ميں گزارا هوا إيك إيك منٹ بہت قيمتي هے الله كے راسته ميں نكل كر إيك نماز پڑهنے كا ثواب آنچاس كروڑ تك بتايا جاتا هے إسي طرح إيك روبيه خرچ كرنے كا ثواب سات لاكهـ روپيه تك پہنچ جاتا هے المختصر يه كه دعوت و تبليغ كا عمل أم الأعمال كي حيثيت ركهتا هے كل قيامت والے دن جب أعمالنامه كهلے گا اور الله كے راسته ميں گزرے هوئے وقت كا آجر سامنے هوگا تو پهر حسرت هو گي كه كاش! ميں نے زيادة وقت الله كے راسته ميں لگايا هوتا ليكن اس وقت إس حسرت كا كوئي فائده نهيں هوگا آج تو هم مہينه مين تين دن لگانے كے لئے بهي فارغ نهيں هيں ليكن يه إيك كهلي هوئي حقيقت هے كه هميں بهت جلد (دنيا سے ) بالكل هي فارغ كرديا جائے گا اسوقت اگركوئي شخص صرف إيك منٹ كا بهي موقعه چاهے گا تو اسے يه موقعه بهي ميسر نهيں هو گا إس كے برعكس إس دنياوي زندگي ميں همارے پاس يه سنہري موقعه موجود هے جتنا هم چاهيں الله كے دين كے لئے اپنے اوقات لگا كر اپنے أعمال نامه كو وزني كرليں الله پاك هم سبكو إسكي توفيق عنايت فرمائے اور هم الله كے راسته ميں نكل كر اپنے اوقات الله كے دين كے لئے لگانے والے بن جائيں - آمين يا رب العالمين
بعض أوقات بنده كو يه بات فكرمند كرتي هے كه اتنے اتنے اوقات تو هم الله كے راسته ميں خرچ كرديں گے تو هماري دنيا كا كيا بنے گا ليكن يه بات آچهي طرح سمجهـ ليني چاهيے كه جو شخص الله كے لئے اوقات خرچ كرے گا الله پاك اس كے دنياوي كاموں ميں بهي بركت عطا فرما ديں گے ( گو دنياوي امور كا حصول وقت لگانے كا مقصد هرگز نهيں هے ) اور اس دنيا ميں بهي چين وسكون كي زندگي عطا فرمائيں گے اور آخرت ميں بهي اسے آجر عظيم سے نوازا جائے گا جيسا كه اوپر عرض كيا گيا كه دعوت و تبليغ كا عمل تمام نيك أعمال ميں أم الأعمال كي حيثيت ركهتا هے اور أعمال صالح أختيار كرنے والون كے لئے قرآن مجيد ميں الله تعالى كا يه إعلان ملاحظه هو:
"مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ []
جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مؤمن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے"
دعا هے الله پاك هميں إس آعلى و ارفع عمل ميں پوري طرح شامل هونے اور إس ميں اپنے جان ، مال اور اوقات لگا كر انهيں اپني دنياوي و اخروي زندگي كے لئے قيمتي بنانے كي توفيق عنايت فرمائے - آمين يا رب العالمين

تيسرا كام : دعوت و تبلیغ کي توفيق كيلئے دعا كرنا:
جيسا كه عرض كيا جا چكا كه هر صفت كي محنت كے لئے سب سے پہلے إس کی دعوت ہے ، دوسرا كام إس كي مشق كرنا هے إس سب كے بعد كاميابي دينے والي ذات صرف اور صرف الله تعالى كي هے إس لئے دعوت اور محنت كا عمل كرنے كے بعد تيسرا اور آخرى كام الله تعالى سے رو رو كر اور گڑگڑا كر دعا مانگني بهت ضرورى هے.
اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے، ہر چیز کے لئے امید اسی سے لگائی جائے، بلکہ جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ تعالی اس پر غضبناک ہوتا ہے، اسی لیے اپنے بندوں کو مانگنے کے لئے ترغیب بھی دلاتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
{وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} 
[غَافِرٍ: 60].
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گےo
اللہ سے دعا مانگنے کا دین میں بہت بلند مقام ہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے یہاں تک فرما دیا:
«الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ» يا «إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ»
دعا ہی عبادت ہے ( ترمذی - ابو داود - ابن ماجہ)
اور دوسري حديث ميں وارد هوا هے
«الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ»
دعا عبادت كا مغز هے ( ترمذی )
دعوت و تبلیغ كي محنت ميں الله تعالى سے دعا كے ذريعه مدد طلب كرنا:
يعني دن ميں دعوت و تبلیغ كي محنت لوگوں پر كرنا اور رات كي تنهائيوں ميں رو رو كر ان كي هدايت كے لئے دعائيں مانگنا صحابه كرام رضوان الله عليهم كا طريقه رها هے اگر محنت ميں كوئي كمي بهي ره گئي هو تو الله تعالى دعا كے طفيل اپنے فضل سے اس ميں بركت عطا فرما ديں گے اور آچهے نتائج عطا فرما ديں گے سو هميں بهي صحبه كرام رضوان الله عليهم كے إس مبارك طريقه كو هي اپنانا چاهيے كه جهاں هم لوگوں پر پوري پوري محنت كريں وهاں اپنے هاتهـ الله تعالى كے سامنے پهيلا كر الله تعالى سے دعا كے ذريعه اپنے اور دوسرے لوگوں كے لئے هدايت اور اپني تمام حاجتيں مانگيں
دُعا ﷲ اور بندے کے درمیان ایک ایسا مخصوص تعلق ہوتا ہے جس میں بندہ اپنے معبود سے اپنے دل کا حال بیان کرتا ہے ، اپنی مشکل کا اظہار کر تا ہے ، اپنے گناہو ں کی معافی طلب کر تا ہے ، بخشش کی درخواست کر تا ہے ، مختصر یہ کہ جو کچھ اس کے دل میں ہوتا ہے وہ سیدھے سادے طریقے سے بیان کر دیتا ہے ، دعا در اصل فقير اور اس کے خالق و مالك کے درمیان براہ راست رابطہ ہوتی ہے، الله تعالى كے سامنے چونكه تمام إنسان فقيرهي هيں جيسا كه الله تعالى نے قرآن مجيد ميں ارشاد فرمايا:
ياأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُُ (الفاطر)
إ ے لوگو: تم سب الله تعالى كي بارگاه كے محتاج هو اور الله تعالى غني اور حمد و ثنا والے هيں
سو فقير هونے كي حيثيت سے اپنے رب سے براه راست رابطه كرنے كا وسيله صرف اور صرف دعا هے پهر الله تعالى تو إيسے داتا هيں كه ان كي بارگاه سے كوئي بهي مايوس نهيں هو سكتا ﷲ تعالیٰ رحیم ہے، کریم ہے، مہربان ہے، سننے والا ہے، دینے والا ہے، مانگنے والے بندے پر اسے پیار آتا ہے ، بندے کا اپنے رب سے مانگنے کا عمل اسے عزیز ہے، بندہ اپنے رب سے خاموشی کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ، انکساری کے ساتھ، اطاعت کے ساتھ ،فرما برداری کے ساتھ، فقیری کے ساتھ ، گدائی کے ساتھ ،چپکے چپکے، دھیمی آواز کے ساتھ، خشو ع و خضوع کے ساتھ، اعتراف گناہ اور احساس ندامت کے ساتھ ، گڑ گڑا کر دعا کرے ، یہ افضل ہے اور ﷲ کو بے حد پسند بھی ہے ۔ اس کے بر عکس وہ اپنے اس بندے کو پسند نہیں کرتا جو اس سے نہ مانگے، اس سے وہ ناراض ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ ﷲ کے پیارے نبی صلی ﷲ علیہ و وآله سلم نے ارشاد فرمایا ’’ جو ﷲ سے نہ مانگے اس پر ﷲ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے‘‘۔

دعا کی حقیقت و اہمیت:
انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ قرآن پاك ميں اللہ تعالیٰ کا بهي ارشاد ہے:
وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٝ مُنِيْبًا اِلَيْهِ
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کر کے پکارتا ہے (الزمر) ۔
دعا کی اہمیت کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں اپنے بندوں کو نہ صرف دُعا مانگنے کی تعلیم دی ہے بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ نیز ارشاد باری ہے:
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ ()
اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پھر چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
نیز اللہ تعالیٰ نے بندوں کوحکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ َۚ (الغافر )
ترجمہ " اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا
سبحان الله غور كا مقام هس كه الله تعالى خود هميں دعا كرنے كا حكم بهي صادر فرما رهے هيں اور پهر اس كي قبوليت كي بشارت بهي عنايت فرما رهے هيں غرضیکہ دعا قبول کرنے والا خود ضمانت دے رہا ہے کہ دعا قبول کی جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر دعا کی اہمیت اور كيا ہوسکتی ہے۔
سورۂ اعراف میں الله تعالى كي طرف سے کچھ تفصیل سے دعا کا حکم دیا گیا ہے:
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَo
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو، جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔
ﷲ تعالى سے اس کا فضل طلب کرنے، دعا مانگنے اور دعا کا اہتمام کرنے کی خاص ہدایت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآله وسلم سے بهي ثابت ہے ۔ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ و آله وسلم نے فرمایا ’’دعا کارآمد اور نفع مند ہوتی ہے اور ان حوادث میں بھی جو نازل ہوچکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے‘ پس اے خدا کے بندو! دعا کا اہتمام کرو‘‘۔
ایک اور حدیث حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالى عنہ سے مردی ہے کہ حضور آكرم صلی اﷲ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ ﷲ سے اس کا فضل مانگو یعنی دعا کرو کہ وہ فضل و کرم فر مائے، کیونکہ ﷲ کو یہ بات محبوب ہے کہ اس کے بندے اس سے دعا کریں اور مانگیں ‘‘
حضرت سلمان فارسی رضی ﷲ تعالى عنہ سے روایت ہے کہ حضور آكرم صلی ﷲ علیہ وآله وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ تمہارے پروردگار میں بدرجہ غایت حیا اور کرم کی صفت ہے ‘ جب بندہ اس کے آگے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے کہ اس کو خالی هاتهـ واپس کرے ( کچھ نہ کچھ عطا فرمانے کا فیصلہ ضرور فرما تا ہے) - حضرت ابو هریرہ رضی الله تعالى عنہ سے روایت ہے ۔ رسول كريم صلی اﷲ علیہ وآله وسلم نے فرمايا کہ ’’جب اﷲ سے مانگو اور دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اور عطا فر مائے گا، اور جان لو اور یاد رکھو کہ اﷲ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل (دعا کے وقت) اﷲ سے غافل اور لا پرواہ ہو‘‘۔
حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے بلکہ اس کے فضائل اور آداب بھی بیان فرمائے ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اللہ کے یہاں دعا سے زیادہ کوئی عمل عزیز نہیں ۔" (ابن ماجہ) ۔
یعنی انسانوں کے اعمال میں دُعا ہی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت وعنایت کوکھینچنے کی سب سے زیادہ طاقت ہے۔
حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
"تم میں سے جس کے لئے دُعا کا دروازہ کھل گیا اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل گئے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندہ اس سے عافیت کی دُعا کرے۔ "(ترمذی) ۔

آداب دُعا:
دعا چونکہ ایک اہم عبادت ہے، اس لئے اس کے آداب بھی قابل لحاظ ہیں۔ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے آداب دُعا کے بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں۔ دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ان کا خیال رکھے۔ان کو ملحوظ رکھ کر دُعا کرنا بلاشبہ قبولیت کی علامت ہے، لیکن اگرکوئی شخص کسی وقت بعض آداب کو جمع نہ کرسکے تو پهر بهي ایسا هرگز نہ کرے کہ دُعا كے عمل كو ہی کوچھوڑ دے، بلكه تمام آداب جمع كرنے كي سعي كرتا رهے اور ساتهـ ساتهـ دعا كے عمل كو بهي جاري ركهے ان شاء اللہ دعا ہر حال میں مفید ہوگى ۔ آحادیث مباركه میں دعا کیلئے كچهـ آداب ملاحظه فرمائیں :
٭ دعا کے وقت دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف حاضر اور متوجہ رکھنا کیونکہ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ اس بندہ کی دُعا قبول نہیں کرتا جو صرف اوپرے دل سے اور توجہ کے بغیر دُعا کرتا ہے۔" (ترمذی)۔
٭ دعا کرنے والے کی غذا اور لباس حلال کمائی سے ہونا۔ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
" إيك شخص دور دراز کا سفر کركے اور نہایت پریشانی وپراگندگی کے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر "یارب یارب " کہتے ہوئے دُعا کرتا هے جبکہ اس کی غذا اور لباس سب حرام سے ہے اور حرام کمائی ہی استعمال کرتا ہے تواس کی دُعا کیسے قبول ہوسکتی ہے؟" (صحیح مسلم)۔
٭ دُعا کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کرنا اور رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم پر درود بھیجنا۔ حضوراکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی دُعا مانگے توپہلے اللہ تعالیٰ کی بزرگی وثنا سے دُعا کا آغاز کرے پھر مجھ پردرود بھیجے، پھر جو چاہے مانگے (ترمذی) ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دعا آسمان وزمین کے درمیان معلق رہتی ہے یعنی درجۂ قبولیت کو نہیں پہنچتی جب تک کہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم پر درود نہ بھیجے (ترمذی) ۔
٭ دعا آہستہ اور پست آواز سے کرنا یعنی دعا میں آواز بلند نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ (سورۃ الاعراف).
تم لوگ اپنے رب سے دعا کیا کرو گڑ گڑا کر بھی اور چپکے چپکے بھی واقعی اللہ تعالٰی ان لوگوں کو نا پسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں ۔
(البتہ اجتماعی دعا تھوڑی آواز کے ساتھ کرنا )
٭ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ دُعا کرنا، یعنی یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری ضرورتوں کوپوری کرنے والا ہے، ارشاد باری ہے:
فَادْعُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ (سورۃ المؤمن)
"تم لوگ اللہ کو خالص يقين کرکے پکارو۔ "
٭ دعا کے قبول ہونے کی پوری اُمید رکھنا اور یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے، وہ بلاشبہ قبول کرے گا۔ حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا:
" اللہ سے اس طرح دُعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو ۔ "(ترمذی) ۔
غرضیکہ دُعا کے وقت جس قدر ممکن ہو حضور قلب کی کوشش کرے اور خشوع وخضوع اور سکونِ قلب ورقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔
٭ دعا کے وقت گناہ کا اقرار کرنا، یعنی پہلے گناہ سے باہر نکلنا، اس پر ندامت کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔

وہ امور جن کا دعا کے وقت اہتمام کرنا اولیٰ وبہتر ہے:
٭ دعا سے پہلے کوئی نیک کام مثلاً نماز، روزہ اور صدقہ وغیرہ کا اہتمام کرنا۔
٭ قبلہ کی طرف رُخ کرکے دو زانو ہوکر بیٹھنا
* دونوں ہاتھوں کا مونڈھوں تک اس طرح اُٹھانا کہ ہاتھ ملے رہیں اور انگلیاں بھی ملی ہوں اور قبلہ کی طرف متوجہ ہوں۔
*دعا میں ہاتھ اٹھانے کے لئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہونا، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے، چنانچہ حضرت مالک بن یسار رضی اللہ تعالى عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود": میں صحیح کہا ہے۔
٭ دُعا کے وہ الفاظ اختیار کرنا جو قرآن کریم میں آئے ہیںں کیونکہ جو دُعائیں قرآن کریم میں آئی ہیں ان کے الفاظ خود قبولیت کی دلیل ہیں اور احادیث میں بھی ان کی فضیلت مذکور ہے
٭ دُعا کے وہ الفاظ اختیار کرنا جو حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم سے منقول ہیں کیونکہ جو دُعائیں حضور اکرم صلى الله عليه وآله وسلم کی زبان مبارک سے نکلی ہیں وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوں گی اور إن شاء الله درجئه قبوليت حاصل كريں گى
٭ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عالیہ ذکر کرکے دعا کرنا۔
٭ دعا میں اپنے خالق ومالک کے سامنے گڑ گڑانا، یعنی رو رو کر دعائیں مانگنا یا کم از کم رونے کی صورت هي بنا لينا۔
٭ اس بات کی پوري پوري کوشش کرنا کہ دُعا دل سے نکلے۔
٭ دعا کو تين تين مرتبہ مانگنا۔
٭ تمام چھوٹی اور بڑی حاجتیں صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا۔
٭ نماز کے بعد اور بالخصوص فرض نماز کے بعد دُعا مانگنا۔
٭ إجتمائي دعا ميں دعا کرنے والا اور ساتھ میں دعا سننے والے کا دعا کے بعد
آمین کہنا
٭ دعا كے آخر میں دونوں ہاتھ اپنے چہرہ پر پھیر لینا ۔

قبولیت دعا کے بعض اوقات وحالات:
یوں تو دعا ہر وقت اور هر قسم كے حالات ميں قبول ہوسکتی ہے ، مگر کچھ اوقات وحالات ایسے ہیں جن میں دعا کے قبول ہونے کی توقع بہت زیادہ ہے، اس لئے ان اوقات وحالات کو ضائع نہیں کرنا چاہئے:
٭ شب قدر یعنی رمضان المبارک کے اخیر عشرہ کی راتیں۔
٭ ماہ رمضان المبارک کے تمام دن ورات اور عید الفطر کی رات۔
٭ جمعہ کی رات اور دن، آدھی رات کے بعد سے صبح صادق تک۔
٭ ساعت جمعہ۔
احادیث مباركه میں ہے کہ جمعة المبارك کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس میں جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے مگراس گھڑی کی تعیین میں روایات اور علماء كرام کے اقوال مختلف ہیں۔ روایات اور اقوال صحابہ رضوان الله عليهم وتابعین رحمه الله عليهم سے دو وقتوں کی ترجیح ثابت ہے:-
اوّل : امام کے خطبہ کے لئے ممبرپر جانے سے لے کر نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک ، خاص کر دونوں خطبوں کے درمیان کا وقت۔
(خطبہ کے درمیان زبان سے دعا بالكل نہ کریں كيونكه خطبه كو خاموشي سے سننے كا حكم هے ، البتہ دل میں دعا مانگیں۔ اسی طرح خطیب خطبہ میں جو دعائیں کرتا ہے ان پر بھی دل ہی دل میں آمین کہہ لیں۔)
دوئم : قبولیت دعا کا دوسرا وقت جمعة المبارك کے دن نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے۔
٭ اذان واقامت کے درمیان۔
٭ فرض نماز کے بعد۔
٭ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑتے وقت۔
٭ آب زم زم پینے کے بعد۔
٭ سجدہ کی حالت میں۔
٭ تلاوت قرآن پاك کے بعد۔
٭ جہاد میں عین لڑائی کے وقت۔
٭ مسلمانوں کے اجتماع کے وقت۔
٭ بارش کے وقت۔
* رات كے آخير حصه ميں يعني تهجد كے وقت
٭ حج اور عمره كے دوران ( يعني گهر سے نكلنے سے ليكر گهر واپس آنے تك )
٭ ۔روضه رسول پر حاضري اور زيارت مدينه منوره كے دوران
٭ دين كے لئے" خروج في سبيل الله " كے دوران
* علم دين حاصل كرنے كے دوران

دُعا قبول ہونے کی علامتيں :
* دعا مانگتے وقت اپنے گناہوں کو یاد آنا يا ياد كرنا
* اللہ کا خوف طاری ہو جانا
* بے اختیار رونا آجانا
* بدن کے روئیں کھڑے ہو جانا
* دعا کے بعد اطمینان قلب اور ایک قسم کی فرحت محسوس ہونا
* بدن ہلکا معلوم ہونے لگنا (گویا کندھوں پر سے کسی نے بوجھ اُتار لیا ہو۔ جب ایسی حالت پیدا ہو تو اللہ کی طرف خشوع قلب کے ساتھ متوجہ ہوکر اس کی خوب حمد وثنا اور درود شريف کے بعد اپنے لئے، اپنے والدین، رشتہ داروں، اساتذہ اور مسلمانوں کیلئے گڑگڑا کر دُعا کریں۔ ان شاء اللہ اس کیفیت کیساتھ کی جانیوالی دعا ضرور قبول ہوگی۔)
إيك بات بهي هميشه ياد ركهني چاهيے كه دعا کی قبولیت میں جلدی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ بهرحال دعا کی قبولیت کا وقت معین ہے اور نااُمید بھی هرگز نہیں ہونا چاہئے اور یوں نہیں کہنا چاہئے کہ میں نے تو دعا کی تھی مگر قبول نہ ہوئی۔ كيونكه حديث مباركه كا مفهوم هے كه بنده مؤمن كي هر دعا درجئه قبوليت كو پهنچ جاتي هے جسكي صورت كچهـ إس طرح هوتي هے كه يا تو جيسے دعا مانگي گئي تهي وهي چيز اسے دے دي جاتي هے يا پهر اس سے بهتر چيز عنايت فرما دي جاتي هے يا كوئي آنے والي آفت كو اس دعا كي بركت سے هٹا ديا جاتا هے اور جو دعائيں إس دنيا ميں كوئي آجر ملنے سے ره جاتي هيں ان كا آجر دعا كرنے والے كو قيامت والے دن نيكيوں كي شكل ميں ديديا جائے گا اس وقت يه بنده تمنا كرے گا كه كاش ! دنيا ميں ميري كوئي دعا قبول هي نه هوئي هوتي تاكه سب كا آجر آج مجهے يهاں مل جاتا
اللہ تعالیٰ کے فضل و كرم سے ناامید ہونا مسلمان کا شیوہ هي نہیں۔ كيونكه دعا مظہر عبدیت اور ایک اہم عبادت ہے۔ دعا مضطرب قلوب کیلئے سامان سکون، گمراہوں کیلئے ذریعۂ ہدایت، متقیوں کیلئے قرب الٰہی کا وسیلہ اور گناہگاروں کیلئے اللہ کی بخشش ومغفرت کی بادِ بہار ہے اس لئے ہمیں دُعا میں ہرگز کاہلی وسستی نہیں کرنی چاہئے۔یہ بڑی محرومی کی بات ہے کہ ہم مصیبتوں کے دور ہونے کیلئے بہت سی تدبیریں تو اختیار کرليتے ہیں مگر وہ نہیں کرتے جو ہر تدبیر سے آسان اور ہر تدبیر سے بڑھ کر مفید ہے یعنی "دعا" . اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے خالق ومالک کے سامنے وقتاً فوقتاً خوب خوب دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے رب سے مانگنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
سو دعوت وتبليغ كي محنت كرنے كے بعد بهي يه نهيں سمجهـ لينا چاهيے كه هم نے سخت محنت كر لي هے لهذا بس اب كام تمام هو گيا بلكه بوري طرح محنت كرنے كے بعد بهي توكل صرف الله تعالى پر هي كرنا هے كه نتائج اسي كے قبضئه قدرت ميں هيں اس كے لئے راتوں كو خصوصاً تهجد كے وقت الله تعالى كے سامنے رو رو كر عاجزي اور أنكساري سے دعا مانگني هے التجا كرني هے كه جو ٹوٹي پهوٹي محنت هوئي هے الله تعالى اسے قبول فرما لے اور اپنے خاص فضل و كرم سے اس كے اچهـے نتائج عنايت فرما دے - آمين يا رب العالمين
چهـ نمبرز(صفات) كا يه سلسله الحمد لله اب إختتام كو پهنچ رها هے دعا كرنے كے حواله سے بات چل رهي هے رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كي زبان مبارك سے نكلي هوئي دعائيں يقيناً قبوليت كا درجه ركهتي هيں سو خيال هوا كه كيوں نه إس مبارك سلسله كو چاليس دعاؤں پر ختم كيا جائے تاكه چاليس آحاديث كو جمع كرنے كي فضيلت بهي حاصل هو جائے جيسا كه رسول كريم صلى الله عليه وآله وسلم كے فرمان كا مفهوم هے :
"جو شخص میری امت کے فائدے کے واسطے دین کے کام کی چالیس حدیثیں جمع كرے گا اور حفظ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن عالموں اور شہیدوں کی جماعت میں اٹھائے گا اور فرمائے گا کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جاؤ۔"

چالیس دُعائیں ترجمہ کےساتھ

1.سونے كي دعا
اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ اَمُوْتُ وَاَحْيٰي.
اے الله تعاليٰ ميں تيرے نام پر مرتا هوں اور جيتا هوں.

2.جاگنے كي دعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَحْيَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ.
تمام تعريفيں ﷲ تعاليٰ كے ليے جس نے هميں موت(نيند ) كے بعد حيات (بيداري)عطا فرمائي اور هميں اسي كي طرف لوٹنا هے.

3.بيت الخلاء ميں داخل هونے كي دعا
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثْ
اے ﷲ تعاليٰ ميں ناپاك جنّوں (نر و ماده) سے تيري پناه مانگتا هوں

4.بيت الخلاء سے باهر آنے كے بعد كي دعا
اَلْحَمْدُِﷲِ الَّذِيْ اَذْهَبَ عَنِّي الْاَذٰی وَعَافَانِيْ.
’’سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے اذیت کو دور کیا اور مجھ کو عافیت دی.‘‘
غُفْرَانَكَ - ہم تیری بخشش مانگتے ہیں

5.گهر سے نكلنے كي دعا
بِسْمِ اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ.
ميں ﷲ تعاليٰ كے نام كے ساته نكلا. ميں نے اﷲ تعاليٰ پر بهروسه كيا .طاقت و قوت اﷲ تعاليٰ هي كي طرف سے هے

6.گهر ميں داخل هونے كي دعا
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْٓ اَسْاَلُكَ خَيْرَالْمَوْلَجِ وَخَيْرَالْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا وَبِاسْمِ اللّٰهِ خَرَجْنَا وَعَلَي الِلّٰهِ رَبِِّنَا تَوَكَّلْنَا .
اے ﷲ تعاليٰ ميں تجه سے اندر آنے اور باهر جانے كي بهتري طلب كرتا هوں اﷲ تعاليٰ كے نام سے هم داخل هوئے اور اﷲ تعاليٰ كا نام لے كرهم نكلے اور اﷲ تعاليٰ پر جو همارا رب هے بهروسه كياهے.

7- سواری پر بیٹھنے کی دعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَ اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَo
’’پاک ہے وہ ذات جِس نے اِس کو ہمارے تابع کر دیاحالاں کہ ہم اِسے قابو میں نہیں لا سکتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیںo

8.نیا چاند دیکھنے کی دعا
اَللّٰهُمَّ اَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْاِيْمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبِّيْ وَرَبُّکَ اﷲُ.
’’اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکتِ ایمان، خیریت اور سلامتی والا کردے اور (ہمیں) توفیق دے اس(عمل) کی جو تجھے پسند اور مرغوب ہو (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔‘‘

9.محسن كا شكريه ادا كرنے كي دعا
جَزَاكَ اللّٰهُ خَيْرًا.
الله تعاليٰ تجهے(احسان كرنے كي)جزائے خير دے.

10.غصه آنے كے وقت كي دعا
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.
ميں شيطان مردود سے اﷲتعاليٰ كي پناه چاهتا هوں.

11.چهينك آنے پردعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ.
تمام تعريفيں اﷲتعاليٰ كے ليے هيں.

12.چهينك آنے پراَلْحَمْدُ لِلّٰهِ كهنے والے كے ليے دعا
يَرْحَمُكَ اللّٰهُ.
ﷲ تعاليٰ تجهـ پر رحم فرمائے.

13. شب قدر كي دعا
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيْ.
ﷲ تعاليٰ تو بهت معاف فرمانے والا هے.معاف فرمانے كو پسند فرماتا هے پس مجهے معاف فرما دے.

14.مرغ كي آواز سن كر پڑهنے كي دعا
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
اے ﷲ ميں تجهـ سے تيرے فضل كا سوال كرتا هوں.

15.بارش طلب كرنے كي دعا
اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا اَللّٰهُمَّ اَغِثْنَا
اے ﷲ هميں پاني دے.اے الله هميں بارش دے.

16.مریض کی عیادت کرتے وقت کی دعا
اَذْهِبِ الْبَآسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ وَاَنْتَ الشَّافِيْ، لَا شِفَاءَ اِلاَّ شِفَائُکَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا.
’’اے لوگوں کے رب! تکلیف دور فرما دے اور شفا عطا فرما اور تو ہی شفا دینے والا ہے، کوئی شفا نہیں سوائے تیری شفا کے، ایسی مکمل شفا عطا فرمادے جس کے بعد بیماری باقی نہ رہے۔‘‘

17.مسجد ميں داخل هونے كي دعا
بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَا مُ عَلٰي رَسُوْلِ اللّٰهِ.اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِيْ اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
ميں ﷲ تعاليٰ كا نام لے كر داخل هوتا هوں اور ﷲ كے رسول پر سلام هو.اے الله ميرے لئے تو اپني رحمت كے دروازے كهول دے.

18.مسجد ميں نفلي اعتكاف كي دعا
نَوَيْتُ سُنَّةَ الْاِعْتِكَافْ
ميں نے سنت اعتكاف كي نيت كي

19.مسجد سے نكلتے وقت كي دعا
بِسْمِ اللّٰهِ وَالسَّلَا مُ عَلٰي رَسُوْلِ اللّٰه.اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ.
ميں ﷲ تعاليٰ كا نام لے كر نكلتا هوں اور اﷲ كے رسول پر سلام هو.اے ﷲ تعاليٰ ميں تجهـ سے تيرے فضل كا سوال كرتا هوں.

20- قرض اور فکر سے خلاصی کی دعا
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهَرِالرِّجَالِ.
’’اے اللہ! میں فکر اور غم سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے گھیر لینے اور لوگوں کے دبا لینے سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

21- نظر بد سے بچنے کی دعا
مَا شَآءَ ﷲُ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ.
’’جو اللہ چاہے کسی میں قوت نہیں سوائے اللہ کے .‘‘

22. قبرستان ميں داخل هوتے وقت كي دعا
"اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ، وَإِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ، أَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ"
اے گھروں کے مومن اور مسلمان مکینوں تم پر سلامتی ہو، اور ان شاء اللہ ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالی سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کا طلب گار ہوں"
يا
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَآ اَهْلَ الْقُبُوْرِ يَغْفِرُاللّٰهُ لَنَا وَلَكُمْ اَنْتُمْ سَلْفُنَا وَنَحْنُ بِالاَثْر
اے قبر والوں تم پر سلام هو.اﷲتعاليٰ هماري اور تمهاري مغفرت فرمائے.اور تم هم سے پهلے پهنچ گئے اور هم پيچهے آنے والے هيں

23. صلاة الحاجت كي دعا
(كوئي بهي حاجت پیش آئے تو دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر یہ دعا پڑھے )
لَا إِلٰهَ إِلَّا ﷲُ الْحَلِيْمُ الْکَرِيْمُ، سُبْحَانَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَللَّهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِيْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُکَ أَنْ لَا تَدَعَ لِیْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِیَ لَکَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِی.
’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ برد بار بزرگ ہے بڑے عرش کا مالک، اے اللہ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، (اے اللہ!) میں تجھ سے تیری رحمت کے ذریعے بخشش کے اسباب، نیکی کی آسانی اور ہر گناہ سے سلامتی چاہتا ہوں، میرے تمام گناہ بخش دے میرے جملہ غم ختم کر دے اور میری ہر وہ حاجت جو تیری رضا مندی کے مطابق ہو پوری فرما۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی جس بات کی طلب ہو سوال کرے وہ اس کے لیے مقدر کر دی جاتی ہے۔

24.نيا لباس پهنتے وقت كي دعا
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِيْ ْ مَا اُوَارِيْ بِهٖ عَوْرَتِيْ وَ اَتَجَمَّلُ بِهٖ فِيْ حَيَاتِيْ.
تمام خوبياں اﷲتعاليٰ كے ليے هيں جس نے مجهے كپڑا پهنايا جس سے ميں اپنا ستر چهپاتا هوں اور زندگي ميں اس سے زينت كرتا هوں.

25.كهانا كهانے سے پهلے كي دعا
بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰي بَرَكَةِاللّٰهِ
ﷲ تعاليٰ كے نام سے (كهاتا هوں)اورﷲ تعاليٰ كي بركت پر

26.كهانا كهانے سے پهلے اگر بسم اﷲ بهول جائے تو يه دعا پڑهے
بِسْمِ اللّٰهِ اَوَّلَهٗ وَاٰخِرَهٗ
ميں نے اس كے اول اور آخرميں ﷲ تعاليٰ كا نام ليا.

27.كهانا كهانے كے بعد كي دعا
اَلْحَمْدُلِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ.
ﷲ تعاليٰ كا شكر هے جس نے هميں كهلايا اورپلايا اورهميں مسلمان بنايا.

28.دعوت كهانے كے بعد كي دعا
اَللّٰهُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِيْ وَاسْقِ مَنْ سَقٰنِيْ
ياﷲ اس كو كهلا جس نے مجهے كهلايا اور اس كو پلا جس نے مجهے پلايا.

29.دوده پينے كے بعد كي دعا
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ.
ياﷲ همارے ليے اس ميں بركت دے اور هميں اس سے زياده عنايت فرما.

30.آب زمزم پيتے وقت كي دعا
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْٓ اَسْئَالُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَاسِعًا وَّشِفَا ٓءً مِّنْ كُلِّ دَآءٍ
ياالله ميں تجهـ سے علم نافع كا اور رزق كي كشادگي كا اور بيماري سے شفا يابي كا سوال كرتا هوں.

31.علم ميں اضافے كي دعا
رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا
اے ميرے رب مجهے علم زياده دے.

32.جب كوئي چيز غمگين كرے اس وقت كي دعا
يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ.
اے حي وقيوم تيري رحمت سے مدد مانگتا هوں.

33.سوالات قبر كي آساني كے ليے دعا
اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْ عَلٰي سُوَالٍ مُّنْكَرٍ وَّنَكِيْرٍ
الهي تو ثابت ركهـ منكر نكير كے سوال پر

34- استخارہ کی مسنون دعا
"دو ركعت نفل صلاة الإستخاره پڑهے اور پهر يه دعا پڑهے"
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ ، وَ أَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ، فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَ لاَ أَقْدِرُ، وَ تَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ ، وَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ․
اَللّٰہُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَ مَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ ، فَاقْدِرْہُ لِیْ ، وَ یَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ ․
وَ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ شَرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَ عَاقِبَةِ أَمْرِیْ وَ عَاجِلِہ وَ اٰجِلِہ ، فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ ، وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہ․(بخاری،ترمذی)
(دعا کرتے وقت جب ”هذا الامر “پر پہنچے (جس کے نیچے لکیر بنی ہے) تو اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنی ”هذا الامر “کی جگہ اپنے کام کا نام لے، مثلا ”هذا السفر “یا ”هذا النکاح “ یا ”هذہ التجارة “یا ”هذا البیع “کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ”هذا الأمر “ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کر رہا ہے۔
استخارہ کی دعا کا اردو ترجمه
اے اللہ ! میں آپ کے علم کا واسطہ دے کر آپ سے خیراور بھلائی طلب کرتا ہوں اور آپ کی قدرت کا واسطہ دے کر میں اچھائی پر قدرت طلب کرتا ہوں ، آپ غیب کو جاننے والے ہیں ۔
اے اللہ ! آپ علم رکھتے ہیں میں علم نہیں رکھتا ، یعنی یہ معاملہ میرے حق میں بہتر ہے یا نہیں ،اس کا علم آپ کو ہے، مجھے نہیں ، اور آپ قدرت رکھتے ہیں اور مجھ میں قوت نہیں ۔
یا اللہ ! اگر آپ کے علم میں ہے کہ یہ معاملہ ( اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائیں جس کے لیے استخارہ کررہا ہے ) میرے حق میں بہتر ہے ، میرے دین کے لیے بھی بہتر ہے ، میری معاش اور دنیا کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور انجام کار کے اعتبار سے بھی بہتر ہے اور میرے فوری نفع کے اعتبار سے اور دیرپا فائدے کے اعتبار سے بھی تو اس کو میرے لیے مقدر فرما دیجیے اور اس کو میرے لیے آسان فرما دیجیے اور اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما دیجیے ۔
اور اگر آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ یہ معاملہ ( اس موقع پر اس معاملہ کا تصور دل میں لائیں جس کے لیے استخارہ کررہا ہے ) میرے حق میں برا ہے ،میرے دین کے حق میں برا ہے یا میری دنیا اور معاش کے حق میں برا ہے یا میرے انجام کار کے اعتبار سے برا ہے، فوری نفع اور دیرپا نفع کے اعتبار سے بھی بہتر نہیں ہے تو اس کام کو مجھ سے پھیر دیجیے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دیجیے جہاں بھی ہو ، یعنی اگر یہ معاملہ میرے لیے بہتر نہیں ہے تو اس کو چھوڑ دیجیے اور اس کے بدلے جو کام میرے لیے بہتر ہو اس کو مقدر فرما دیجیے ، پھر مجھے اس پر راضی بھی کر دیجیے اور اس پر مطمئن بھی کردیجیے ۔

35. مطلوبہ بستی ميں داخل هونے كي دعا
(جب مطلوبہ بستی نظر آئے تو یہ دعا پڑھے)
اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا
اے اللہ ! جو ساتوں آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کارب ہے جن پر یہ آسمان سایہ فگن ہیں ، اور جو ساتوں زمینوں کا اور ان سب چیزوں کا رب ہے جن کو ان زمینوں نے اٹھایا ہوا ہے ، اور جو ہواؤں کا اور ان سب چیزوں کا رب ہے جن کو ہواؤں نے اڑایا ہے ، اور جو شیطانوں کا اور ان سب کا رب ہے جن کو شیطانوں نے گمراہ کیا ہے ، ہم آپ سے اس بستی اور بستی والوں کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں ، اور اس بستی ، بستی والوں ،اور اس بستی میں موجود چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ چاہتے ہیں

36. بازار میں داخل هونے کی دعا
لا إلَهَ إلاَّ الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لا يَمُوتُ بِيَدِهِ الخَيرُ وهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير
نہيں كوئى معبود مگر اللہ، وہ اكيلا ہے، نہيں كوئى شريك اس كا ، اسى كى بادشاہت اور اسى كى ہی سب تعريف ہے، وہی زندگی ديتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہ زندہ ہے، نہيں وہ مرتا ، اسى كے ہاتھ ميں ہے سب كى بھلائى اور وہ ہر چيز پر كامل قدرت ركھتا ہے۔​

37.وضو كے بعد كي دعا
اَشْهَدُاَنْ لَّااِلٰهَ اِلَّا اللّٰهَ وَحْدَهٗ لَاشَرِيْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ.
ميں گواهي ديتا هوں كه ﷲ تعاليٰ كے سوا كوئي معبود نهيں اور ميں گواهي ديتا هوں كه محمد صلى الله عليه وآله وسلم اس كے بندے اور رسول هيں.

38. مجلس کے کـفاره كي دعا
سُبْحَانَكَ اللّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أن لاَ إلَهَ إلاّ أنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
اے اللہ! تو پاک ہے،حمد تیرے لئے مخصوص ہے، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں،میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں

39. مصیبت كے وقت كي دعا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِى فِى مُصِيبَتِى وَأَخْلِفْ لِى خَيْرًا مِنْهَا
(يقيناً) هم سب اللہ هي كے لئے ہیں اور ہم سب اسی کی طرف جانے والے ہیں۔
یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا ثواب دے اور اس کے بدلہ میں اس سے اچھی عنایت فرما دے

40- سفر سے واپسی کی دعا
الله أَكْبَرُ الله أَكْبَرُ الله أَكْبَرُ ، لا إلَهَ إلا الله وَحْدَهُ لا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الـملكُ وله الـحمدُ، وهو علـى كُلِّ شىءٍ قديرٌ، آيبونَ تائبونَ عابدونَ ساجدونَ لِرَبِّنَا حامدونَ، صَدَقَ الله وَعْدَهُ ، وَنَصَر عَبْدَهُ ، وهَزَمَ الأحزابَ وَحْدَهُ
اللہ سب سے بڑے هيں ، اللہ سب سے بڑے هيں ، اللہ سب سے بڑے هيں ، الله کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفات هيں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی

الحمد لله ثم الحمد لله يہاں پر چهـ نمبرز (صفات) كا يه سلسله ختم هوا چاهتا هے - الله تعالى كہنے والے اور پڑهنے والوں كو عمل كي توفيق عطا فرمائے - تحرير كرنے والے كي غلطيوں اور كوتاهيوں كو الله تعالى اپنے فضل وكرم سے معاف فرما ئے اور إس كوشش كو اپني رحمت سے قبول فرما كر تا حيات عمل كي توفيق عطا فرمائے (آمين)
قابل إحترام آحباب سے گذارش هے كه إسے زياده سے زياده لوگوں تك پہنچانے كي كوشش كريں - إن شاء الله إس كا عظيم آجر الله تعالى سے ضرور ملے گا ميں اس توفيق خداوندي پر دل كي گہرائيوں سے الله تعالى كا شكر ادا كرتا هوں اور إس تمام تر كاوش كا ثواب اپنے بہت هي پيارے بيٹے شهيد حافظ عبدالرحمن نسيم رحمة الله عليه ، اپني والده محترمه رحمة الله عليها ، اپنے والد محترم رحمة الله عليه ، محترم بهائي جان ، محترم خالو صاحب (حضرت مولانا حافظ ثناء الله رحمة الله عليه ) ، محترمه خاله صاحبه رحمة الله عليها ، إس فاني دنيا سے رخصت هونے والے تمام رشتے دار، اساتذه كرام ، دوست ، آحباب رحمهم الله عليهم اور تمام امت مسلمه مرحومه كو إيصال كرتا هوں اور الله تعالى سے دعا كرتا هوں كه الله تعالى أن سب كي مغفرت فرمائے- ان پر رحم فرمائے - ان كے لئے آخرت كي تمام منزليں آسان فرمائے اور ان كو جنت الفردوس كے آعلى مقامات عنايت فرمائے - آمين -
دعا هے كه الله تعالى هم سب پر اپنا فضل وكرم فرمائے اور زندگي كے آخري لمہے تك دين إسلام كي خدمت كے لئے قبول فرمائے (آمين يا رب العالمين )

(( رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ))
(( آمين ثم آمين يا رب العالمين ))
----------
تمت بالخير


  






Share: