عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* ( قسط: 11)



*عقیدۂ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور کذاب ودجال مدعیان نبوت *


*مغیرہ بن سعید*

یہ شخص خالد بن عبداللہ قمری والئ کوفہ کا آزاد کردہ غلام تھا حضرت امام محمد باقرؓ کی رحلت کے بعد پہلے امامت اور پھر نبوت کا دعویٰ کرنے لگا۔ یہ کہتا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کی مدد سے مردوں کو زندہ اور فوجوں کو شکست دے سکتا ہوں اگر میں قوم عاد وثمود کے درمیانی عہد کے لوگوں کو بھی چاہوں تو زندہ کرسکتا ہوں۔ اس کو جادو اور سحر میں بھی کامل عبور حاصل تھا اور دوسرے طلسمات مثلاً  جنات ، مؤکلات وغیرہ  کا علم بھی جانتا تھا جس سے کام لے کر لوگوں پر اپنی بزرگی اور عقیدت کا سکہ جماتا تھا۔


*مغیرہ کا انجام*

جب خالد بن عبداللہ قمری کو جو خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا حاکم تھا یہ معلوم ہوا کہ مغیرہ اپنے آپ کو نبی کہتا ہے اور اس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے تو اس نے 119ہجری میں اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ مغیرہ کو اس کے مریدوں کے ساتھ گرفتار کرکے خالد کے سامنے پیش کیا گیا۔ خالد نے اس سے پوچھا تو کس چیز کا دعویدار ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کا نبی ہوں۔ خالد نے پھر اس کے مریدوں سے پوچھا تم اس کو اللہ کا نبی مانتے ہو سب نے اثبات میں جواب دیا۔ خالد نے مغیرہ کو سرکنڈے کی گھٹے کے ساتھ باندھا اور تیل چھڑک کر زندہ جلادیا۔ خیال رہے کہ خالد نے جوش میں اس کو آگ کی سزا دی ورنہ حدیث شریف میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت کی گئی ہے۔


*بیان بن سمعان*

یہ شخص اہل ہنود کی طرح تناسخ اور حلول کا قائل تھا اس کا دعویٰ تھا کہ میرے جسم میں خدا کی روح حلول کرگئی ہے۔ یہ بھی کہتا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کے پیروکار اس کو اسی طرح خداکا اوتار مانتے تھے جس طرح  ھندو رام چندرجی اور کرشن جی کو مانتے ھیں یہ قرآن پاک کی ایسی تاویلات کرتا تھا جیسے قادیان کے خود ساختہ نبی نے کی ہیں۔ اس کے ماننے والے کہتے تھے کہ ’’ھٰذا بیان للناس وھدی وموعظہ للمتقین‘‘ قرآن کی یہ آیت بیان ہی کی شان میں اتری ہے۔اور خود بیان کا بھی یہی خیال تھا ۔ بیان نے اپنی خانہ ساز نبوت کی دعوت حضرت امام محمد باقرؓ جیسی جلیل القدر ہستی کو بھی دی تھی اور اپنے ایک خط میں جو اپنے قاصد عمر بن عفیف کے ہاتھ امام موصوف کے پاس بھیجا اس نے لکھا۔

’’تم میری نبوت پر ایمان لے آؤ گے تو سلامتی میں رہو گے اور ترقی کروگے ۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ کس کو نبی بناتا ہے‘‘۔

کہتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقرؓ یہ خط پڑھ کر بہت غضبناک ہوگئے اور قاصد سے فرمایا اس خط کو نگل جاؤ قاصد بلا تامل نگل گیا اور اس کے فوراً بعد ہی گر کر مرگیا اس کے بعد حضرت امام محمد باقرؓ نے بیان کے حق میں بھی بددعا فرمائی ۔


*بیان کی ہلاکت*

خالد بن عبداللہ حاکم کوفہ نے مغیرہ بن سعید کے ساتھ ہی بیان کو بھی گرفتار کرکے دربار میں بلایا تھا جب مغیرہ ہلاک ہوچکا تو خالد نے بیان سے کہا اب تیری باری ہے۔ تیرا دعویٰ ہے کہ تو اسم اعظم جانتا ہے اور اس کے ذریعے فوجوں کو شکست دیتا ہے اب یہ کر کہ مجھے اور میرے عملہ کو جو تیری ہلاکت کے درپے ہیں اسم اعظم کے ذریعے ہلاک کر مگر چونکہ وہ جھوٹا تھا اس لیے کچھ نہ بولا اور خالد نے مغیرہ کی طرح اس کو بھی زندہ  ھی جلادیا۔اس طرح کذاب مغیرہ کی طرح یہ کذاب بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا

Share: