عقیدۂ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* ( قسط: 75 )


*  آزاد کشمیر اسمبلی و کونسل میں’’ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل ‘‘کی منظوری اور تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) ، آزاد کشمیر کا کردار *



محرکِ قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) میجر (ر) محمد ایوب خان شہید ؒ سے سابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان  ( 1973 سے 2018 ) تک کا پس منظر


ریاست کی مقامی جماعت تحریک تحفظ ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) ، آزادکشمیر کی بھرپور سعی کے نتیجہ میں تحریک آزادی کے بیس کیمپ کی قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں 6 فروری 2018 کو تین بجکر ۵۲ منٹ ۵۷ سیکنڈ پر ایک بل متفقہ طور پر اراکین کی جانب سے منظور کیا گیا، جسے ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل کہا جاتا ہے، 6 فروری کا دن آزادکشمیر کی تاریخ میں پوری امت مسلمہ کے لیے ایک اعزاز اور یاد گار کے طور پر محفوظ ہو گیا کہ اس دن آزادکشمیر کی اسمبلی سے منکرین ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) قادیانیوں ( احمدی، لاہوری) کے تمام گروپوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور اس ضمن میں قانون سازی بھی کی گئی اس سارے عمل کے پیچھے ایک طویل داستان اور ایک ایسی ریاستی جماعت کی محنت اور کردار شامل ہے جسے تاریخ میں تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر کے نام سے لکھا جائے گا۔ 2003 ء سے  بل منظور ھونے تک تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر نے بیس کیمپ کے اندر قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے قادیانیوں کی کفریہ سرگرمیوں کی روک تھام کی کوشش جاری رکھی ہوئی تھیں ، یقینی طور پر یہ ایک تاریخی جدو جہد تھی جسے اﷲ پاک نے کامیابی سے ہمکنار فرمایا اور اُس وقت کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ آزاد کشمیر میں میجر (ر) محمد ایوب مرحوم کی 29 اپریل 1973 کوپیش کردہ قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) جس پر راجہ فاروق حیدر خان کی والدہ محترمہ اور چچا لطیف خان کے بھی دستخط شامل تھے، 45 سال بعد آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بل کی صورت میں متفقہ طور پر پاس ہونے والی بارہویں ترمیم سے آزادکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کردی گئی جسے آئینی حیثیت بھی حاصل ہوگئی۔دی آزادجموں وکشمیر انٹرکانسٹیٹیوشن ایکٹ 2018ء کے نام سے موسوم اس بل میں قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلم ادیان اور مذاہب کی تعریف کے ساتھ مسلمان کی بھی تعریف کردی گئی ،اس بل کی منظوری کے بعد قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ اُن پر مسجدطرز پر اپنا گرجہ تعمیر کرنے، اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جبکہ جملہ شعائر اسلام جن میں مسجد کے مینار،اپنی عبادت گاہ پر کلمہ اسلام لکھنے سمیت تمام اسلامی رسومات اور عبادات سرعام کرنے پر پابندی عائدہوگی، ضلعی سطح پر انتظامیہ اور پولیس کو پابند بھی کر دیا گیا جبکہ اس بل کے ذریعے آزادکشمیر کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ مت، پارسی، احمدی، لاہوری، مرزائی اوربہائی بھی قانون سازی میں غیر مسلم کی تعریف میں شامل کردیئے گئے۔وفاقی قانون کے تحت مندرجہ بالا تمام مذاہب اور فرقے غیر مسلم قراردیئے گئے ہیں جسے آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی نے من وعن ریاست کے لیے منظور کرلیا ہے۔

اس خبر سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی ہر طرف سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے بالخصوص حرمین شریفین میں مقیم احباب نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ سلام پیش کیا اور اراکین اسمبلی کے لیے دعائیں کیں دوسری طرف کچھ احباب کو یہ تشویش لاحق تھی کہ آزادکشمیر میں قادیانیوں کو پاکستان کی قومی اسمبلی سے پہلے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا تو اب 6 فروری 2018 کو ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل کی منظوری کا کیا مطلب؟

ایسے تمام دوست و احباب کی معلومات میں اضافے اور ریکارڈ کی درستگی کے لیے ’’ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل ‘‘ کا پس منظر جاننا ضروری ھے تاکہ حقائق سب کے سامنے رہیں، پاکستان میں 1953 اور پھر 1973 میں منکرین ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) اور فتنہ مرزائیت کے خلاف بھرپور تحریکیں چل رہی تھیں ہزاروں جانثاران آقا علیہ السلام کی عزت و حرمت اور ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی حفاظت کے لیے جان نچھاور کر چکے تھے، قادیانیت اس قدر ملک میں مضبوط تھی کہ ہر طرف ملک بھر میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے اور ہزاروں شہداء کی قربانیوں کے باوجود اس کے نتائج سامنے نہیں آرہے تھے ، ان حالات میں آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے عظیم انسان میجر(ر) محمد ایوب خان مرحوم نے سفر حرمین شریفین کے دوران ہی ان منکرین ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے خلاف آئینی راستہ اختیار کر نے کا فیصلہ کیا، اپریل 1973 کو مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کااجلاس میرپورمیں منعقدہوا جس کی صدارت غازی ملت سردارمحمد ابراھیم خان نے  کی اوراس وقت کے صدرمجاہد اول سردار محمد عبالقیوم خان نے بھی اجلاس میں خصوصی طورپرشرکت کی، قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے محرک میجر(ر) محمد ایوب خان مرحوم نے سفر حرمین سے وطن واپسی پر 22مارچ 1973ء کو آزاد جموں و کشمیراسمبلی میں مندرجہ ذیل قرارداد جمع کرائی تھی:

(۱) مرزائیوں کوغیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

(ب) آزاد کشمیر میں مقیم مرزائیوں کورجسٹرڈ کیا جائے اور اقلیت کی بنیاد پر ہرسطح پر نمائندگی دی جائے۔

(ج) ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلے تک ریاست میں مرزائیوں کا داخلہ بند کیاجائے۔

(د) آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے قانون سازی کا مندرجہ ذیل طریقہ اپنایا۔ 29اپریل 1973ء کو قرارداد پر بحث ہوئی ۔ ممبران کی اکثریت نے اس پر اتفاق رائے دیا، اس قرار داد پر جن ممبران نے دستخط کیے تھے ان میں  وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی والدہ محترمہ سعید ہ خانم، اور چچا لطیف خان کے دستخط بھی شامل تھے، اس وقت کے ممبران کی اکثریت آج اس دنیا میں نہیں رھی  1973 کی اسمبلی نے میجر (ر) محمد ایوب کی پیش کردہ قرار داد سے جو شقیں پاس کیں اُن کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں :

(ا) مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔


(ب) آزاد کشمیر میں مقیم مرزائیوں کو رجسٹرڈ کیا جائے ۔


(ج) آزاد کشمیر میں مرزائیت کی تبلیغ کو قانوناً جرم قرار دیا جائے۔


انتہائی مخدوش حالات میں میجر (ر) محمد ایوب ؒ کی جانب سے اس قرارداد کا پیش کیا جانا یقینا بڑا کارنامہ تھا، جس کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے بھی اس مسئلے کو اسمبلی کے فورم پر لے جانے کی تیاری کی، آزادکشمیر اسمبلی کی قرارداد کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی سے 7 ستمبر 1974ء کو طویل بحث کے بعد متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد قانون سازی کر کے قادیانیوں کے لیے حدود و قیود کا تعین کیا گیا، پاکستان میں عقید ہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کو تحفظ دیتے ہوئے صدر اور وزیر آعظم کے حلف ناموں اورشناختی کارڈ کے فارموں میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) پر حلف کا کالم شامل کیا گیا، مگر اس کے باوجودقادیانی اِسلامی شعائر کا بے دھڑک استعمال کرتے رہے،یہاں تک کہ 26اپریل 1984 کو صدرمحمد ضیا الحق نے امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری کرکے قادیانیوں کی طرف سے اِسلامی شناخت کے استعمال کا راستہ روک دیا۔

آزاد کشمیرکی قانون سازاسمبلی نے اگرچہ 1973 میں ایک قرارداد کے زریعے قادیانیوں کی غیرمسلم حیثیت کا تعین کردیاتھا،مگر بعض خفیہ عناصر اورقادیانی نوازوں کے مفاداتی ہتھکنڈوں کی بدولت اسمبلی کی یہ قرار داد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیرکے آئین کا حصہ نہ بن سکی، قادیانی اِس دستوری سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد کشمیر میں اسلامی شعائرکے استعمال اوراپنی اِرتدادی سرگرمیوں میں آزادی سے مصروف رہے۔

آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور ضلع میں 18کفریہ مراکز کی تعمیر کے بعد بڑالی کے مقام پر جنگلات کی 8 کنال اراضی پر قبضہ اور مرکزی ہیڈ کواٹر کی تعمیر کی کوشش کو الحمد ﷲ ناکام بنانے کے بعد کوٹلی میں مقامی ساتھیوں نے اس کفر کا راستہ روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 2003 میں تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کی بنیاد رکھی اس وقت تحریک کا دائرہ کار صرف ضلع کوٹلی تک ہی تھا جسے کے بانیوں میں حاجی محمد عارف مغل مرحوم اور معروف سماجی کارکن جمیل احمد مغل کا نام سر فہرست رہا، تاہم تحریک کے موجودہ صدر قاری عبد الوحید قاسمی مدظلہ کی معاونت اس وقت بھی شامل حال تھی، اس وقت انٹر نیشنل ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) مومومنٹ پاکستان کے صدر مولانا محمد الیاس چینوٹی تحریک کی دعوت پر تین دن کے لیے کوٹلی تشریف لائے اور پہلی مرتبہ کوٹلی میں ردقادیانیت کورس پڑھایا، گاہے بگاہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے حضرات آزادکشمیر میں تشریف لاتے رہے تاہم مستقل بنیادوں پر پاکستان کی جماعتوں کی جانب سے آزادکشمیر میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کا نہ تو دفتر قائم تھا اور نہ ہی فتنۂ قادیانیت سے بچانے کے لیے کوئی لائحہ عمل……

2007 ء میں معروف بزرگ ولی کامل پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی مدظلہ خلیفہ مجاز شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی زیر سرپرستی اور قاری عبد الوحید قاسمی کی زیر صدارت تحریک کا دائرہ پورے آزادکشمیر میں پھیلا دیا گیا اور محرک قرار داد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) میجر (ر) محمد ایوب ؒ کے داماد کرنل (ر) عبد القیوم خان کی زیر سرپرستی نوجوان علمائے کرام پر ایک مجلس شوری تشکیل دی گی جس میں مولانا عبد اﷲ شاہ مظہر، مولانا عتیق الرحمن دانش، مولانا رضوان حیدر، ڈاکٹر ابرار احمد مغل، قاری عبد القیوم فاروقی، عبد الخالق نقشبندی، کے نام شامل تھے۔

2008ء میں، تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر کے میڈیا سیل نے قادیانیوں کی آزاد کشمیر میں سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹ شائع کی جس میں قادیانیوں کے ارتدادی مراکز، سرکاری ملازمت بالخصوص شعبہ تعلیم میں ان کی سرگرمیاں منظر عام پر آئیں تو تحریک کے راہنماؤں نے باہمی مشاورت سے دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کو قانونی طور پر بھی نکیل ڈالنے کا فیصلہ کیا، جب آزاد کشمیر کے آئین اور قانون کی طرف غور کیا گیا تو حیرانگی کے طور پر یہ بات سامنے آئی کہ آزاد کشمیر کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے حوالے سے  بہت سُقم ہے، اور 29 اپریل 1973ء کو میجر (ر) محمد ایوب مرحوم کی قرار داد پر بھی کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی، جس پر تحریک کے راہنماؤں نے اس قرار داد کو آئین کا حصہ بنوانے کے لیے جدوجہد شروع کرتے ہوئے ایک طرف ریاست بھر میں تبلیغی اور دعوتی میدان میں عقیدہ ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی اہمیت اور قادیانیت کے کفریہ عقائد ونظریات سے عوام الناس میں بیداری مہم شروع کی ، مختلف علاقوں میں کانفرنسیں شروع کیں، قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور کے رضاعی بھتیجے نو مسلم بھائی حاجی شمس الدین کو خصوصی طور پر قادیانیت سے متاثرہ علاقہ کوٹلی اور گوئی میں ان کے بیانات کرائے گئے، جب کہ 2009ء سے شبان ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) پاکستان کے نوجوان علمائے کرام مولانا سید انیس شاہ، مولانا منیر احمد علوی، مولانا شفیع الرحمن، مولانا مبشر تنویر اور ان کی ٹیم نے تحریک تحفظ ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)  آزادکشمیر کے دوستوں کے ساتھ مل کر دور حاضر کے جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے زریعے مختلف موضوعات پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا ان کورسزز کی وجہ سے لٹریچر، دعوتی اور تبلیغی میدان میں الحمد ﷲ ہزاروں افرادکو عقیدہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا اور صرف ضلع کوٹلی میں سینکڑوں قادیانیوں کو قادیانیت کے کفر سے تائب ہو کر قبول اسلام کی توفیق نصیب ہوئی، اس وقت بھی تحریک کے ناظم شعبہ تبلیغ مولانا جمیل احمد شب و روز آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں ’’ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کورس‘‘ پڑھاتے ہیں جب کہ مظفرآباد اور کوٹلی میں ہر ماہ کو یہ کورس مستقل بنیادوں پر شروع کیا جا چکا ہے۔ (الحمد ﷲ )

اس طرح 29 اپریل 1973 کی قرارداد ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)  کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 29 اپریل کو تاریخی دن کے نام سے ’’ یوم قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)‘‘ کا عنوان دیا گیا اور ریاست بھر میں 2008ء سے’’ یوم قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)‘‘ اجتماعات کا سلسلہ شروع کیا گیا، اس سلسلہ میں کشمیری اخبارات کے چیف ایڈیٹر اور ایڈیٹر صاحبان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام اسلام آباد میں کیا گیا اور انہیں آزاد کشمیر کے آئین میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے سقم اور قادیانیت کی سرگرمیوں کی ساری صورتحال سے آگاہ کیا گیا میڈیا سے وابستہ دوستوں کا اس عرصہ میں تحریک کے ساتھ خصوصی تعاون شامل رہا، اور کشمیری اخبارات تحریک کے مطالبات کو موثر انداز میں حکومت تک پہنچانے میں ایک طرف مدد گار ثابت ہوئے اور دوسری طرف حکومتی اور ممبران اسمبلی سے ملاقاتوں میں ان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے آزاد کشمیر میں بڑھتی ہوئی قادیانیوں کی سرگرمیوں کو قانونی طور پر روکنے کے لیے حکومت کو تحریری طور پر ایک درخواست دی گئی کہ ختم نبوتؐ (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے متعلق قرارداد کو لاگو کیا جائے اور قادیانیوں کی سر گرمیوں وغیرہ کو روکاجائے، جس پر محکمہ قانون کی جانب سے بحوالہ لیٹر نمبر 224/2009مورخہ 20-03-2009کو جواب دیا گیا کہ ’’آزاد کشمیر پینل کوڈ میں ایک ترمیم کے ذریعے سیکشن 298-Cکا اضافہ کیا گیا ہے جس کے تحت کوئی شخص جو قادیانی یا لاہوری گروہ سے (جو اپنے آپ کو احمد ی یا کسی اور نام سے پکارتے ہیں) وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتے ہیں یا اپنے عقیدے کی تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں یا دوسروں کو اپنا عقیدہ ماننے پر اکساتے ہیں (بطور اسلام) یا الفاظی یا بول چال یا تحریری یا بصری حرکات یا کسی بھی طرز سے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے تو اسے تین سال تک کی قید اور جرمانہ کی سزا ہو گی۔

لیکن اس کے باوجود آزاد کشمیر میں قادیانی شعائر اسلام کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اعلانیہ مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف رہے صرف ضلع کوٹلی میں قادیانیوں کے 18 ارتدادی مراکز جن کی شکل و صورت مساجد کی طرح تھی وہاں پر کفریہ سرگرمیوں سے مسلمانوں کے ایمان کو لوٹا جاتا رہا، تحریک تحفظ ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر کی جانب سے منعقد ہونے والے اجتماعات جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، مشائخ عظام اور صدر ریاست، حکومت وقت کے وزیر اعظم، دیگر ممبران اسمبلی کو مدعو کیا جاتا رہا اور ان کے سامنے ساری صورتحال رکھی جاتی رہی، اور تحریک کے ذمہ داران کی جانب سے اپنی کانفرنسوں میں حکومت وقت سے درج ذیل مطالبات کیے جاتے رہے،

٭ 29 اپریل کی قرار داد کو ختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) پر قانون سازی کی جائے،


٭ 1974ء میں پاس ہونے والے امتنازع قادیانیت آرڈیننس کو قانون کا حصہ بنا کر قادیانیوں کو اس کا پابند بنایاجائے


٭ قادیانیوں کے ارتدادی مراکز جن کی شکل و صورت مساجد کی طرح ہے انہیں تبدیل کیا جائے اور قادیانیوں کے اخبار روزنامہ الفضل MTA ٹی وی چینلزو دیگر لٹریچر پر آزاد کشمیر میں پابندی لگائی جائے۔


٭ قادیانی اور مسلمان کے نکاح کو قانوناً جرم قرار دیا جائے جہاں جہاں ایسے نکاح موجود ہیں انہیں سرکاری طورپر منسوخ کیا جائے۔


٭ آزاد کشمیر میں مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے اور 29 اپریل کو سرکاری طورپریوم ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) منایا جائے اور اسی دن عام تعطیل کا اعلان بھی کیا جائے۔


٭ آزاد کشمیر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں کے تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت ؐ (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی اہمیت پر کتاب شامل کی جائے


*پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی قرار داد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کو بھی شائع کیا جائے اور آئین میں پائے جانے والے ُسقم کو دور کر کے آزادکشمیر کے آئین میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) اور قادیانیت کے حوالے سے اسی طرح الفاظ شامل کیے جائیں جس طرح پاکستان کے آئین میں وضاحت ہے 14 اپریل سنہ 2012 کو تحریک کے صدر قاری عبدالوحید قاسمی نے محکمہ قانون کو درخواست دی کہ میجر محمد ایوب خان کی قرارداد (مؤرخہ ۲۲ مارچ سنہ ۷۳ء) بمعہ تمام متعلقہ ریکارڈ دیا جائے جس پر محکمہ قانون نے 24-04-2012کو درخواست پر موقف لکھ کر بھجوایا کہ یہ تمام ریکارڈ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی سیکریٹریٹ کا حصہ ہیں لیکن حکومت کی جانب سے وہ ریکارڈ نہیں دیا گیا، 25اپریل 2012کو یہ انکشاف ہوا کہ آزادکشمیراسمبلی سے مندرجہ بالا قرارداد کا اصل مسودہ غائب کردیا گیا ھے۔اس خبرکے منظرعام پرآتے ہی آزادکشمیراورپاکستان میں ایک بھونچال آگیا,جس پر مورخہ 02-05-2012کو پھر تحریک کے صدر نے درخواست دی کہ پاس شدہ قرارداد کی مصدقہ کاپی بمعہ جملہ مواد دی جائے مگر حکومت کی طرف سے وہ نہ دی گئی 24 اپریل 2012 ء کو مظفر آباد میں  تحریک کی طرف سے مقامی ہوٹل میں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کانفرنس منعقدہوئی جس میں اس وقت کے ممبران اسمبلی سردار میر اکبر اور سردار سیاب خالدنے شرکت کی اوروعدہ کیا کہ وہ یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھائیں گے 28 اپریل 2012 کوممبران اسمبلی  ممبران اسمبلی سردار میر اکبر اور سردار سیاب خالد نے تحریک التواء جمع کروائی اورمطالبہ کیا کہ اسمبلی اجلاس کی کاروائی روک کراس اہم معاملے پربحث کی جائے اورحقائق ایوان میں پیش کیے جائیں اس وقت کے اپوزیشن لیڈرراجہ فاروق حیدرنے کہاکہ حکومت اسمبلی ریکارڈ کوآڈیو اور ویڈیو شکل میں محفوظ کرے۔ جس پرقائدایوان چوہدری عبدالمجیدنے اسمبلی سیکرٹریٹ کوحکم دیاکہ وہ اسمبلی کاجملہ ریکارڈ محفوظ بنائے، اس حوالے سے ممبران اسمبلی اورعلما ء کرام حکومت کو بار بار توجہ دلاتے رہے کہ قادیانیوں کے خلاف پاس کی گئی قرارداد منظر عام پرلائی جائے مگرقرارداد منظر عام پر نہ لائی جاسکی، اس دوران سابق وزیر اوقاف صاحبزاد ہ پیر عتیق الرحمن نے بھی اسمبلی میں ختم نبوت  (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) پر قرارداد پیش کی، لیکن بیور کریسی اور سابقہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ’’قرار داد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)‘‘ کا معاملہ سرد خانے میں ہی پڑا رہا، آزاد کشمیر کی سیاسی  جماعتوں کی اس اہم معاملہ پر عدم دلچسپی کی صورت حال یہ تھی کہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں مسلم و غیر مسلم کے ووٹ کا اندراج الگ الگ نہ ہو سکا تھا

29 اپریل 2013 ء میں باغ میں یوم قراردادختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر اور ممبر اسمبل سردارمیراکبرودیگرنے اعلان کیاکہ وہ برسراقتدارآکر اس قراردادکونہ صرف منظرعام پرلائیں گے بلکہ اس حوالے سے قانون سازی بھی کریں گے جولائی، 2016آزاد کشمیر میں ہونے والے جنرل الیکشن سے قبل جب ووٹر لسٹوں کی تیاری کا معاملہ سامنے آیا تو تحریک کے صدر نے مورخہ 29-03-2016کوچیف الیکشن کمیشن کو درخواست دی کہ آزاد کشمیر میں پاکستان کی طرح قادیانیوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے الگ ووٹر لسٹ تشکیل دیں، مگرالیکشن کمیشن نے انکار کرتے ہوئے بحوالہ لیٹر نمبر الیکشن 2016/801/s/مورخہ 29-09-2016اور ایک سادہ فارم جاری کرکے بغیر مذہب یا عقیدہ کے ووٹ درج کئے، اور مکتوب کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کے آئین و قانون میں مذہبی بنیادوں پر ووٹرز کی علیحدگی کا کوئی پرویژن (جواز) نہیں ہے، حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی اور کوئی شنوائی نہ ہو نے پر تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر کے صدر قاری عبدالوحید قاسمی کی مدعیت میں5 اکتوبر 2016 کو حکومت اور تمام محکموں کے خلاف آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کر دی، ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو بذریعہ نوٹس طلب کیا اور ان سے جواب مانگا، تین تاریخوں کے باوجود حکومت کوئی جواب داخل نہ کرا سکی، تاہم صرف محکمہ امور دینیہ نے ہائی کورٹ میں جو جواب داخل کرایا وہ تحریک کے موقف کی حمایت ہے، اور آزادکشمیر کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی وضاحت اور حلف نامے کو شامل کرنے پر محکمہ امور دینیہ نے بھی اتفاق کر لیا، دسمبر 2017 میں ہائیکورٹ نے رٹ کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے باقاعدہ اشتہار جاری کیا۔

ہائی کورٹ میں رٹ دائر ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیرکے صدر نے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کو خط لکھ کر قادیانیوں کو آئین وقانون کے دائرے میں لانے کے لیے توجہ دلائی اور وزیر اعظم نے تحریک کے خط پر محکمہ قانون اور امور دینیہ سے فوری رائے طلب کر کے معاملے کو یکسو کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ جس پر محکمہ امور دینیہ نے آزادکشمیر کے تمام ضلعی مفتیان کرام کو اس خط کی کاپی ارسال کرکے ان سے تجاویز طلب کیں، تمام مفتیان کرام نے تحریک کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کو رائے دی کہ اس خط کے مطابق آزادکشمیر میں قانون ساز ی کی ضرورت ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان وزیر اعظم بننے سے قبل متعدد بار تحریک کے جلسوں اور کانفرنسوں میں ہمارے موقف کو سمجھ چکے تھے اور وہ برملا اس کا اظہار کرتے رہے کہ اگر اﷲ نے مجھے موقع دیا تو میں یہ کام ضرور کروں گا، اور مجھے اس عظیم کام کے بدلے میں جو بھی قربانی دینی پڑی میں وہ قبول کر لوں گا لیکن حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی عزت و ناموس کا قانونی تحفظ کروں گا، چونکہ پہلی قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) میں بھی اس خاندان کے دو افراد کا نام شامل ہے جنہیں یہ سعادت نصیب ہوئی ہے، گزشتہ سال 9 فروری 2017 ءکو اِسلامی نظریاتی کونسل آزادکشمیر کے اجلاس میں ممبر اِسلامی نظریاتی کونسل مولانا عتیق الرحمن دانش کے توجہ دلانے پر اس اجلاس کے مہمان خصوصی وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے قراردادِ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کو آئین کا حصہ بنانے کا اعلان کیا، جس پر تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزاد کشمیر کے راہنماؤں نے اپنے سالانہ اجلاس میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے اعلان پر خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں تحریری طور پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔

اسی اثناء میں ممبر اسمبلی راجہ صدیق خان نے مہتمم جامعہ اسلامیہ چھتر مولانا قاضی محمود الحسن اشرف کی مشاورت سے قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کا ایک نیا ڈرافٹ تیار کر کے اسمبلی میں جمع کرایا، وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی سے اس معاملہ پر پیش رفت جاری رہی 22 مارچ 2017ء کو سیکرٹری قانون نے پاکستان کی قومی اسمبلی کو ایک لیٹر نمبر 1676 جاری کر کے پاکستان کی قومی اسمبلی سے قادیانیت کے متعلق کی گئی قانون سازی کی تفصیلات طلب کیں، اس ساری حوصلہ افزاء پیش رفت کے باوجود وزیر اعظم نے میجر محمد ایوب ؒ کی قرار داد کا تسلسل جاری رکھنے کے لیے نئے عزم اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے ممبران کے زریعے ایک قرارداد سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کے پاس جمع کرائی، چنانچہ 18 اپریل 2017ء کو آزادکشمیرکی اسمبلی کے رکن پیر سیدعلی رضا بخاری، اور راجہ صدیق خان نے’’ قراردادِختم نبوت(صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)  ‘‘پر قانون سازی کی قرارداد اسمبلی میں سپیکر شاہ غلام قادر کو پیش کردی۔جسے اپریل کو وزیراعظم آزادکشمیر، سپیکر، سینئر وزیر اور کابینہ کے جملہ اراکین سمیت ممبران اسمبلی نے ہاتھ اٹھا کرمنظور کرتے ہوئے خاتم النبیین جنابِ رسول کریم  (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) سے والہانہ محبت وعقیدت اور ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) سے ایمانی وابستگی کا والہانہ ظہار کیا، قرارداد کے پاس ہونے کے دس دن بعد اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے اسمبلی فورم اور باغ میں 29 اپریل 2017 کو ہونے والی سالانہ ’’یوم قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کانفرنس‘‘ میں دو ٹوک اور واضح اعلان کیا کہ آزادکشمیر میں قادیانیوں کے حوالے سے آئین میں اسی طرح قانون سازی کی جائے گی جس طرح پاکستان کے آئین میں کی گئی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہائیکورٹ میں دائر رٹ پر بھی تاریخ پر پیشی ہوتی رہی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تاریخ پر حاضر ہوتے رہے۔ چنانچہ 12 دسمبر 2017ء کو حکومت کی جانب سے ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل پر قانون سازی کے لیے پانچ رکنی کمیٹی وزیر قانون راجہ نثار خان کی سربراہی میں قائم کی گئی جس میں راجہ صدیق خان، پیر علی رضا بخاری، سیکرٹری قانون، اور ایڈووکیٹ جنرل کو شامل کیا گیا۔ ایک ماہ تک حکومتی کمیٹی نے کوئی اجلاس تک نہ کیا۔ جس پر 14 جنوری 2018 ء کو اسلام آباد میں تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی مدظلہ کی سرپرستی میں ہوا اور آزادکشمیر بھر سے علمائے کرام نے شرکت کی اس موقع پر ہائیکورٹ کی رٹ اور حکومتی کمیٹی کے قیام پر تفصیلی گفتگو کے بعد تحریک کی جانب سے پیر ظاہر بکوٹی کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی کا وفد حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے تشکیل دیاگیا تاکہ مسودہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے حوالے سے پیش رفت اور حکومتی کمیٹی کا موقف سامنے آسکے اس کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے، 17 جنوری 2018ء کو تحریک کے چھ رکنی وفد پیر ظاہر بکوٹی، کرنل (ر) عبد القیوم خان، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا شبیر احمد کاشمیری، راجہ آصف خان، قاری عبد القیوم نے حکومتی کمیٹی کے چیئرمین وزیر قانون راجہ نثار خان سے ملاقات کی اور مسودہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) پر قانون سازی اور آزادکشمیر کے آئین میں پائے جانے والے سقم پر تفصیلی گفتگو کی ۔ تحریک کی جانب سے حکومتی کمیٹی کو مسودہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کا تحریری مسودہ بھی پیش کیا گیا، جس پر 24 جنوری 2018ء کو حکومتی کمیٹی نے مسودہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم)کو اپنی کابینہ میں پیش کیا جہاں حکومتی کابینہ کی منظور کے بعد 2 فروری 2018 کووزیر قانون راجہ نثار خان نے مسودہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کو ایک بل کی صورت میں اسمبلی کے فورم پر پیش کیا جسے تمام اراکین نے منظور کرتے ہوئے مزید قانونی کاروائی کے لیے جوائنٹ سیکشن اجلاس تک موخر کر دیا، 3 فروری 2018 ء کو وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس بل پر تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے طویل نشست کی جس میں تحریک کی طرف سے صدر قاری عبد الوحید قاسمی، نائب صدر علامہ قاضی شبیر احمد، راجہ آصف خان اور نومسلم بھائی محمد آصف شیدائی شریک ہوئے، 06 فروری 2018 ء کوقانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں اس بل پر تمام ممبران نے اظہار خیال کرتے ہوئے 3 بجکر 52 منٹ اور 57 سیکنڈ پر اسے منظور کر کے عقیدہ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کو قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کر دیا، وزیراعظم آزادکشمیر،سپیکر،سینئر وزیر اور کابینہ کے جملہ اراکین سمیت ممبران اسمبلی نے ہاتھ اٹھا کرمنظورکیااور خاتم النبیین جنابِ رسول  کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) سے والہانہ محبت وعقیدت اور ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) سے ایمانی وابستگی کا والہانہ اظہار کیااس طرح ایک طویل جدو جہد اور 45 سال کے بعد آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں ’’قرارداد ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) “پر قانون سازی کے لیے بل منظوری کے مراحل سے گزرا، اس ساری جدوجہد میں جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا سعید یوسف خان، اور دیگر علمائے کرام سیاسی و سماجی حضرات بھی کسی نہ کسی طرح اس تحریک میں شامل رہے، تاہم تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر اس سارے عمل میں مسلسل جدوجہد کے ساتھ شامل رہی اس کے ساتھ اس بل کی منظوری میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی ذاتی دلچسپی اور کاوش کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا راجہ فاروق حیدر خان نے اپنی والدہ مرحومہ سعیدہ خانم کے دودھ کی لاج رکھتے ہوئے اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی حرمت پر کوئی سودے بازی نہیں کی، یقینی طور پر یہ ایک مشکل مرحلہ تھا 45 سال میں کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں کسی کو اس حساس نوعیت پر قانون سازی کی توفیق نہیں ملی، 6 فروری کا دن  آزادکشمیر کی تاریخ میں عظیم تاریخی اہمیت کا حامل ہے


اسمبلی سے ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل کی منظوری پر تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزادکشمیر سمیت دیگر دینی جماعتوں نے ۹ فروری جمعہ کو ملک بھر  میں یوم تشکر منانے کی اپیل کر دی جب کہ تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کی مرکزی مجلس شوری نے ۸ فروری کو اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس منعقد کر کے حکومت آزادکشمیر اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے اعزاز میں انٹر نیشنل’’ یوم تشکر ‘‘ بھی 26 اپریل کو سرپرست تحریک مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی دامت فیوضہم کی زیر سرپرستی مظفرآباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کر دیا اور  11 فروری کو تحریک کے 10 رکنی وفد نے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعظم آزادکشمیر سے خصوصی ملاقات کر کے انہیں ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) بل کی منظوری پر مبارکباد دی، اور ’’یوم تشکر ‘‘ کے سلسلے میں منعقدہ اجتماع پر خصوصی مشاورت کی۔ جب کہ تحریک کی جانب سے قادیانیوں کو راہ حق کی طرف بلانے کے لیے 25 مارچ کو کوٹلی میں ’’ دعوت اسلام ‘‘ کانفرنس میں بھی وزیر اعظم نے شرکت کی دعوت قبول کر لی، تحریک تحفظ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) آزاد کشمیر اس کامیابی پر رب کے حضور سر بسجود ہے، اﷲ پاک کی خصوصی توفیق سے یہ عظیم کام پایہ تکمیل تک پہنچا، اس قانون سازی کے بعد بھی تحریک کی جانب سے آزادکشمیر میں دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کو دعوت اسلام دینے کی کوشش  ان شاء اللہ جاری رہے گی ۔

Share: