عقیدۂ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم* ( قسط: 102 )


*  قادیانیت اور ملعون مرزا قادیانی*


* ملعون مرزا غلام قادیانی کی پیشگوئیاں*


گذشتہ سے پیوستہ


* پادری عبداللہ آتھم کی موت کی پیش گوئی*



مرزا غلام قادیانی اور پادری عبداللہ آتھم کا تحریری مناظرہ امرتسر میں ۲۲ مئی 1893ء سے شروع ہو کر ۵جون 1893ء تک پندرہ دن رہا ۔اس میں حکیم نورالدین اور مولوی سید احسن ،مرزا غلام قادیانی کے معاون تھے اس مناظرے کی روئداد جنگ مقدس کے نام سے شیخ نوراحمد ۔ مالک ریاض ہند پریس امرتسر نے شائع کی ۔ چناچہ مرزا غلام قادیانی نے لکھا :

آج رات جو مجھ (ملعون مرزا ) پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں (ملعون مرزا ) نے بہت تضر ع ا ور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم (ملعون مرزا ) عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے (ملعون مرزا ) یہ نشان بشارت کے طور پر دیا کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمدا جھو ٹ کو اختیار کر رہاہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی پندرہ دن  سے لے کر ایک ماہ تک کی مدت میں ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کوسخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے ۔۔۔ میں (ملعون مرزا ) اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹ نکلی  تو میں (ملعون مرزا )ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں ۔

:۱ :مجھ (ملعون مرزا ) کو ذلیل کیا جائے 

:۲ : روسیاہ کیا جائے 

: ۳ : میرے (ملعون مرزا ) گلے میں رسہ ڈال دیا جائے اور 

: ۴ : مجھ (ملعون مرزا ) کو پھانسی دی جاوے ۔


میں (ملعون مرزا ) ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں (ملعون مرزا ) اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ

 :۱: وہ ضرور ایسا ہی کرے گا 

:۲: ضرور ایسا ہی کرے گا 

:۳: ضرور ایسا ہی کرے گا، 

:۴ :زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ۔ ( جنگ مقدس ص211 ۔ روحانی خزائن ج ۶ ص ۲۹۲ )

اس پیشگوئی کے مطابق آتھم کی زندگی کا  آخری دن ۵ستمبر1894ء قرار پایا مگر دنیا گواہ ہے کہ وہ ۵ستمبر کے بعد بھی مدت تک صحیح سلامت اور زندہ موجود تھا ۔

اب ذیل میں عبداللہ آتھم کاخط بھی پڑھیں جو اس وقت کے اخبارِ  “وفادار “ لاہور میں شائع ہوا 

“میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ مرزا کی کتاب نزول مسیح کی طرف دلاتا ہوں جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی پیشگوئی ہے ۔ اب مرزا  قادیانی کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کر لیا تھا اس لیے نہیں مرا ۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں کون کسی کو روک سکتا ہے میں دل سے اور ظاہرا پہلے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں ۔یہ دل سے توبہ کرنے کا تصور بھی مرزا  کی نئی اختراع  اور نئی شریعت ہے ۔ پھر اگر آتھم واقعی تائب ہو چکا تھا تو اللہ تعالی نے مرزا غلام قادیانی کو پانچ  ستمبر سے پہلے اطلاع کیوں نہ دے دی۔شیخ یعقوب علی فانی اپنی جماعت کا حال ان لفظوں میں ذکر کرتا ہے ۔


آتھم کی پیشگوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے مرجھائے ھوئے تھے  اور دل سخت منقبض تھے  بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے موت کی شرطیں لگا چکے تھے  ہر طرف سے اداسی اور مایوسی کے آثار ظاہر تھے لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے تھے  کہ اے خدا ہمیں رسوا مت کریو غرض ایسا کہرام مچا ھوا تھا کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے تھے ۔ ( سیرت مسیح موعود ص ۷ )

خود مرزا  کا حال اس دن کیاتھا اسے مرزا غلام قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر  کے بیان میں دیکھیں ۔ آپ یعنی مرزا غلام قادیانی اس دن عملیات میں گھرے ہوئے تھے اور دانے پڑھوا رہے تھے ۔ وہ لکھتا ہے وظیفہ ختم کرنے کے بعد ہم وہ دانے حضرت (ملعون مرزا ) کے پاس لے گئے کہ آپ (ملعون مرزا ) نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر دانے میرے پاس لے آنا ۔اس کے بعد حضرت  (ملعون مرزا ) ہم دونوں کو قادیان سے باہر لے گئے اور فرمایا کہ یہ دانے کسی غیر آباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب میں (ملعون مرزا ) دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہ دیکھنا چاہیے ( سیرت المہدی ج۱ ص159 )


یہ عملیات تو صاف بتا رھے ہیں کہ مرزاغلام قادیانی آتھم کو اندر سے مسلمان  نہ سمجھتا تھا پھر معلوم نہیں مرزا کے خدا نے اسے مسلمان ہوا کیسے سمجھ لیا اور اس سے موت ٹال دی ۔

مرزا بشیر کا بیان بھی لائق دید ہے جو “الفضل “ 20 جولائی 1940ء میں چھپا ہے وہ کہتا ہے اس دن کتنے کرب و اضطراب سے دعائیں کی گئیں چیخیں سو سو گز تک سنی جاتی تھی اور ان سے ہر ایک زبان پر یہ دعا جاری تھی کہ یا اللہ آتھم مر جائے یا اللہ آتھم مرجائے ۔ مگر افسوس کہ اس کہرام اور آہ زاری کے نتیجے میں بھی آتھم نہ مرا ۔۔

اب فیصلہ آپ خود کریں کہ مرزا غلام قادیانی خود اپنے اس فرمان کے مطابق  کہ اگر ثابت ہو کہ میری سو پیشگوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں 

( روحانی خزائن ج ۷ ) 

تو اب خود ھی حساب لگا لیں کہ مرزا ملعون جھوٹا اور کذاب ثابت ہوتا ہے یا کہ نہیں ۔

اس کے علاوہ مرزا غلام قادیانی کے مذھبی مخالفین میں ھر مذھب کے پیشوا  مثلاً پادری ڈوئی اور  پنڈت لیکھ رام وغیرہ خاص طور پر مرزا غلام قادیانی کی جھوٹی پیشگوئیوں  کا موضوع بنے

Share: