بہترین انسان اور بدترین انسان


اس دنیا میں حضرت انسان  کو کئی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ھے مثلاً آچھا انسان اور بہت ھی آچھا انسان اسی طرح بُرا انسان اور بہت ھی بُرا انسان وغیرہ وغیرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حدیث مبارکہ میں اسے بہترین انداز میں بیان فرمایا ھے حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں  :-


عَنْ أَبِي بَكْرَة رضي الله عنه أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ ‏”‏ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ فَأَىُّ النَّاسِ شَرٌّ قَالَ ‏”‏ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ ‏”‏ ‏.‏


( سنن الترمذي – سنن الدارمي – مسند أحمد )


ترجمہ : حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون شخص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو، اس نے دوبارہ سوال کیا : اور سب سے برا کون شخص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل برا ہو ۔ { سنن الترمذی ، سنن الدارمی ، مسند احمد } ۔


اس دنیا میں اگر کسی شخص کے پاس کافی زیادہ سرمایہ ہو اور اسے  وہ حکمت سے صحیح تجارت میں بھی لگائے اور پھر اسے وقت بھی کافی ملے تو اسے اسی اعتبار سے زیادہ فائدہ بھی حاصل ہوگا ، لیکن اگر  کسی شخص کے پاس بہت زیادہ سرمایہ تو ھے لیکن وہ اسے صحیح تجارت میں نہیں لگاتا تو اسے فائدہ بھی زیادہ نہیں ھو گا کیوکہ صرف سرمایہ ھی زیادہ ہونا کافی نہیں ہے ، بلکہ اگر سرمایہ کو صحیح جگہ نہ لگایا گیا ، نہ ہی تجارت کے لئے بھرپور موقعہ ملا تو اس سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا ، بعینہ یہی مثال انسان کی عمر  کی ہے جو اس کا اصل سرمایہ ہے ، جو شخص اپنی عمر عزیز کو اُخروی اعتبار سے صحیح تجارت میں لگائے اور اسے اپنے رب کے ساتھ تجارت کا کافی موقعہ بھی ملے یعنی عمر دراز ھو  تو یہ اس کی بڑی خوش نصیبی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے لئے یہ سعادتمندی ہے کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالی انابت کی توفیق بخشے { مسند احمد } ۔

یہی چیز  مذکورہ بالا حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے اور اس شخص کو سب سے بہتر قرار دیا گیا ہے جس کو ایمان کی دولت بھی حاصل رہی ، اسے عمل صالح اور توبہ و انابت کی نعمت  بھی ملی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ پاک نے اس کو عمر بھی لمبی عطا فرمائی ، کیونکہ ایسا شخص جتنے دن زندہ رہے گا وہ نیک اعمال کے ذریعہ اللہ تعالی کا اتنا ہی زیادہ قرب حاصل کرتا رہے گا

اس بات کی سب سے واضح دلیل عہد نبوی کا وہ واقعہ ہے جسے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بلی کے دوشخص خدمت نبوی میں حاضر ہوکر مسلمان ہوئے اور مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہوگئے ، کچھ دنوں کے بعد ان میں کا ایک شخص جو بہت ہی عبادت گزار تھا کسی غزوہ میں نکلا اور شہید ہوگیا اور دوسرا ساتھی مزید ایک سال زندہ رہا اور بستر پر اس کی وفات ہوئی ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے ان دونوں کو خواب میں دیکھا کہ جو شخص اپنے بستر پر مر ا ہے وہ شہید سے پہلے جنت میں داخل ہورہا ہے ، مجھے اس پر بڑا تعجب ہوا اور جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ کیا یہ شخص جو بستر میں مرا ہے شہید کے بعد ایک سال تک مزید زندہ نہیں رہا ، کیا اس شخص نے رمضان کا مہینہ نہیں پایا ، کیا اس نے اتنی رکعتیں [چھ ہزار کے قریب ] فرض اور اتنی رکعتیں نفل کی نہیں پڑھی ؟ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین سے زیادہ فاصلہ ہے { سنن ابن ماجہ ومسند احمد }


یہ واقعہ اس حدیث کی بہترین تشریح ہے کہ نیک عمل کرنے والا شخص جتنی لمبی عمر پائے وہ اس کے لئے بہتر ہے ، اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی دعا اور تمنا سے منع فرمایا ہے کیونکہ اگر وہ شخص ایمان کے ساتھ نیک ہے تو مزید زندگی اس کے لئے قرب الہی ، جنت میں بلند درجات کے لئے وقت فراہم کررہی ہے اور اگر ایمان کے ساتھ ساتھ وہ برے اعمال کا مرتکب ہے تو رحمت الہی سے یہ بعید نہیں ہے کہ اسے موت سے قبل توبہ کی توفیق مل جائے اور اگر موت آگئی تو نہ ہی وہ نیک عمل کرکے بلند درجات حاصل کرسکے گا اور نہ ہی اپنے گناہوں سے تائب ہوکر اپنے لئے رب غفور کے دامن عفو میں جگہ بنا سکا ۔


  ایک دوسرا شخص جو لمبی عمر تو پاتا ہے لیکن زندگی بھر برے اعمال ہی کرتا رہتا ہے  گویا نہ اسے ایمان کی دولت ملی ہے اور اگر ملی بھی ہے تو اسے لہو ولعب میں صرف کررہا ہے تو اس سے بڑا بد نصیب اور کون شخص ہوگا کہ اس کو سرمایہ تو پورا ملا اور سرمایہ کو تجارت میں لگانے کے لئے موقعہ بھی میسر آیا لیکن اس نے سرمایہ کو ضائع کردیا ، چنانچہ فرمانِ باری اللہ تعالی ھے: 

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ O

(آل عمران:178}


” کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں یہ مہلت تو اس لئے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ” ۔


سالِ رواں  (اسلامی سال) اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ھے گویا ھماری زندگی کا ایک اور قیمتی سال ھم سے رخصت ھونے والا ھے جو ھماری زندگی میں کھبی بھی پلٹ کر نہیں آئے گا ہمیں یہ تو خوشی ہے کہ ہم نے یہ سال بخیر وعافیت گزار لیا ، آئندہ سال کے خیر کے بھی امید وار ہیں ، ہم اپنے آپ کو ان لوگوں سے خوش نصیب سمجھ رہے ہیں جو سال رواں اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے ، لیکن کیا ھم نے اس بات کا محاسبہ کیا کہ پچھلے سال کے مقابل اس سال ہمارے نیک عمل میں کتنا اضافہ ہوا ، اور نئے سال کا استقبال کس پروگرام سے کررہے ہیں ؟ کسی بزرگ نے  کیا خوب کہا ھے : “ تمہارا آنے والا کل اگر گزشتہ کل کے ھی برابر رہا تو یہ دن دھوکے کا ہے ، اگر آنے والا کل گزشتہ کل سے بھی برا ہے تو تمہارے لئے وہ دن ملعون ہے ، آنے والے کل میں اگر تم نے کوئی نیا عمل نہیں کیا تو وہ خسارے کا دن ہے اور مؤمن کے لئے جو دن خسارے کا ہو اس دن سے پہلے مر جانا بہتر ہے ” { لطائف المعارف } ۔


فائدہ: 


نیک عمل کے ساتھ لمبی عمر اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل ہے ۔


لمبی عمر کے ساتھ جس کے عمل برے ہوں وہ بڑا بدبخت انسان ہے ۔


ایک مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ موت کی دعا کرے ۔

Share: