قیامت تک ھر سال سعادتِ حج


حج  کی سعادت ایک  مسلمان کے لئے عظیم الشان عبادت کا درجہ رکھتی ھے جس کے بے شمار فضائل حدیث کی کتابوں میں موجود ھیں یہی وجہ ھے جس مسلمان کو اللہ پاک نے  زندگی میں ایک مرتبہ بھی اس سعادت سے نواز دیا وہ بھی اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتا ھے ناز کیوں نہ ھو حج مبرور کے سعادت حاصل کرنے والے کے لئے  رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زبان سے نکلی ھوئی یہ خوش خبری ھے کہ وہ گناھوں سے اس طرح پاک ھو جاتا ھے جیسے ماں کے پیٹ سے آج ھی نکلا ھو  غور کا مقام ھے کہ اُس شخص کی خوش قسمتی کا کیا  اندازہ ھو سکتا ھے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی (خواب میں)  یہ خوش خبری مل جائے کہ اللہ پاک کی طرف سے اس کا  ایک ھم شکل فرشتہ قیامت تک اس کی طرف سے ھر سال حج  ادا کرنے کے لئے مقرر ھو گیا ھے

 ربیع بن سلیمان  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ میں حج کے لیے جا رہا تھا، میرے ساتھ میرے بھائی تھے اور ایک جماعت تھی، جب کوفہ پہونچے تو وہاں ضروریات سفر خرید نے کے لیے بازاروں میں گھوم رہا تھا کہ ایک ویران سی جگہ میں ایک خچر مرا ہوا دیکھا اور ایک عورت جس کے کپڑے بہت پرانے بوسیدہ تھے، چاقو لیے ہوئے اس کے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کاٹ کر ایک زنبیل میں رکھ رہی تھی، مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ مردارگوشت لے جا رہی ہے، اس پر ہرگز سکوت نہ کرنا چاہیے۔ عجب نہیں کہ یہ کوئی بھٹیاری عورت ہو، یہ پکا کر لوگوں کو کھلادے گی، میں چپکے سے اس کے پیچھے ہولیا، اس طرح کہ وہ مجھے نہ دیکھے، وہ عورت ایک بڑے مکان میں پہونچی جس کا دروازہ بھی اونچا تھا، اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، ا ندر سے آواز آئی کون ہے؟ اس نے کہا کھولو، میں ہی بدحال ہوں، دروازہ کھولا گیا اوراس میں سے چار لڑکیاں آئیں، جن کے چہروں سے بدحالی اور مصیبت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے، وہ عورت اندر گئی اور زنبیل ان لڑکیوں کے سامنے رکھ دی، میں کواڑوں کی درازوں سے جھانک رہا تھا، میں نے دیکھا اندر سے گھر بالکل برباد خالی تھا، اس عورت نے روتے ہوئے لڑکیوں آواز دی کہ لو اس کو پکالو، اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر اختیار ہے، اسی کے قبضہ میں لوگوں کے قلوب ہیں ، وہ لڑکیاں اس کو کاٹ کاٹ کر آگ پر بھوننے لگی، مجھے بہت تنگی ہوئی، میں نے باہر سے آواز دی۔

اے اللہ کی بندی! اللہ کے واسطے اس کو نہ کھا، وہ کہنے لگی کہ تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں ایک پردیسی آدمی ہوں، کہنے لگی: اے پردیسی ! تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟ میں نے کہا مجوسیوں کے ایک فرقے کے سوا مردار کا کھانا کسی مذہب میں جائز نہیں، وہ کہنے لگی ہم خاندان نبوت  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریف (سید) ہیں ، ان لڑکیوں کا باپ بڑا شریف تھا، وہ اپنے ہی جیسوں سے ان کا نکاح کرنا چاہتاتھا، اس کی نوبت نہ آئی، اس کا انتقال ہوگیا، جو تر کہ اس نے چھوڑا تھا وہ ختم ہوگیا، ہمیں معلوم ہے کہ مردار کھانا جائز نہیں، لیکن اضطرار میں جائز ہو جاتاہے، ہمارا چار دن کا فاقہ ہے۔

ربیع  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ ان کے حالات سن کر مجھے رونا آگیا اور میں روتا ہوا دل لے کر بے چین واپس ہوا اور میں نے ا پنے بھائی سے آکرکہا: میرا ارادہ حج کا نہیں رہا، اس نے مجھے بہت سمجھایا، حج کے فضائل بتائے کہ حاجی ایسی حالت میں واپس لوٹتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا وغیرہ وغیرہ ، میں نے کہا بس لمبی چوڑی باتیں نہ کرو، یہ کہہ کر میں نے اپنے کپڑے اوراحرام کی چادریں اور جو سامان میرے ساتھ تھا وہ سب لیامیرے پاس نقد چھ سو درہم تھے، وہ لیے اور ان میں سے سو درہم کا آٹا خریدا اور سودرہم کا کپڑا خریدا اور باقی درہم جو بچے وہ آٹے میں چھپا کر اس بڑھیا کے گھر پہونچا اور یہ سب سامان اور آٹا وغیرہ اس کو دے دیا اس عورت نے اللہ کا شکر ادا کیا، اور کہنے لگی اے ابن سلیمان! جا اللہ جل شانہ  تیرے اگلے پچھے سب گناہ معاف کردے،اورتجھے حج کا ثواب عطا کرے اور اپنی جنت میں تجھے جگہ عطا فرمائے، اور اس کا ایسا بدلہ عطا فرمائے جو تجھے بھی ظاہر ہوجائے، سب سے بڑی لڑکی نے کہا: اللہ جل شانہ تیرا اجر دو چند کردے اور تیرے گناہ معاف کردے، دوسری نے کہا: اللہ جل شانہ تجھے اس سے بہت زیادہ عطا فرمائے جتنا تو نے ہمیں دیا، تیسری نے کہا حق تعالیٰ جل شانہ ہمارے دادا کے ساتھ تیرا حشر بھی کرے، چوتھی نے کہا: جو سب سے چھوٹی تھی، اے اللہ! جس نے ہم پر احسان کیا ہے ا س کا نعم البدل اس کو جلدی عطا کر اور اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر۔

 ربیع کہتے ہیں کہ حجاج کا قافلہ روانہ ہوگیا، میں کوفہ میں ہی مجبور پڑا تھا کہ سب لوگ حج سے فارغ ہوکر لوٹ بھی آئے، مجھے خیال ہوا کہ ان حجاج کا استقبال کروں، ان سے اپنے لیے دعا کراؤں، کسی کی مقبول دعا مجھے لگ جائے، جب حجاج کا ایک قافلہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا، تو مجھے اپنے حج سے محرومی پر بہت افسوس ہوا اور رنج کی وجہ سے آنسو نکل آئے، جب میں ا ن سے ملا تو میں نے کہا: اللہ جل شانہ تمہارا حج قبول کرے، ا ن میں سے ایک نے کہا: یہ کیسی دعا ہے؟ میں نے کہا: ایک ایسے شخص کی دعا ھے جو دروازہ تک کی حاضری سے محروم رہا ہو، وہ کہنے لگے بڑے تعجب کی بات ہے، اب تووہاں جانے سے انکار کرتاہے تو ہمارے ساتھ عرفات کے میدان میں نہیں تھا؟تو نے ہمارے ساتھ رمی جمرات نہیں کی؟ تو نے ہمارے ساتھ بیت اللہ کا طواف نہیں کیا؟۔

میں اپنے دل میں سوچنے لگا کہ یہ اللہ کا لطف ہے، اتنے میں خود میرے شہر کا حاجیوں کا قافلہ آگیا ، میں نے کہا؛ حق تعالیٰ تمہاری سعی قبول فرمائے، تمہارا حج قبول فرمائے، وہ بھی یہی کہنے لگے تو ہمارے ساتھ عرفات میں تھا؟رمی جمرات نہیں کی؟ اب انکار کرتا ہے؟ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ بھائی! اب انکار کیوں کرتے ہو، کیا بات ہے؟ آخر تم ہمارے ساتھ مکہ میں پہونچے تھے یا مدینہ میں نہیں تھے، جب ہم قبر اطہر کی زیارت کرکے باب جبریل  علیہ السلام  سے باہر کو آرہے تھے

اس وقت اژدہام میں کثرت کی وجہ سے تم نے میرے پاس امانت رکھوائی تھی، جس کی مہر پر لکھا ہوا ہے  مَنْ عَامَلَنَا رِبْح ( جوہم سے معاملہ کرتا ہے نفع کرتا ہے) یہ تمہاری تھیلی واپس ہے۔

ربیع کہتے ہیں کہ واللہ! میں نے اس تھیلی کو اس سے پہلے دیکھا بھی نہ تھا اس کو لے کر گھر آیا، عشاء کی نماز پڑھی، اپناوظیفہ پورا کیا، اس کے بعد اس سوچ میں جاگتا رہا کہ آخر یہ قصہ کیا ہے، اسی سوچ بچار میں میری آنکھ لگ گئی، تو میں نے حضور اقدس  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خواب میں زیارت کی میں نے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو سلام کیا اور ہاتھ چومے، حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تبسم فرماتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور ارشاد فرمایا:

ربیع! آخر ہم کتنے گواہ اس پر قائم کریں کہ تو نے حج کیا ھے ، تو مانتا ہی نہیں، سن ، تو نے اس عورت پر جو میری اولاد میں سے تھی ، صدقہ کیا اور اپنا زادراہ ایثار کرکے اپنا حج ملتوی کردیا  تو میں نے اللہ جل شانہ سے دعا کی کہ وہ اس کا نعم البدل تجھے عطافرمائے ۔ حق تعالیٰ جل شانہ نے ا یک فرشتہ تیری صورت کا بناکر اس کو حکم فرما دیا کہ وہ قیامت تک ہر سال تیری طرف سے حج کیاکرے اور دنیا میں تجھے یہ عوض دیا کہ چھ سو درہم کے بدلے چھ سودینار (اشرفیاں) عطا کیں، تو اپنی آنکھ کو ٹھنڈی رکھ، پھر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی یہی الفاظ ارشاد فرمائے  من عاملنا ربح ربیع کہتے ہیں کہ جب میں سو کر اٹھا تو اس تھیلی کو کھولا تو اس میں چھ سو اشرفیاں تھیں۔


بہرحال یہی سچی پکی بات ھے کہ جو  شخص بھی اللہ کے راستہ میں  صرف اللہ ھی کی رضا کے لئے کوشش کرتا ھے اللہ پاک اس کے لئے آسان راستے کھول دیتے ھیں چنانچہ فرمانِ باری تعالی ھے:-


وَالَّـذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَا ۚ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ O

(العنکبوت)

اور جنہوں نے ہمارے لیے کوشش کی ہم انہیں ضرور اپنی راہیں سمجھا دیں گے، اور بے شک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔

Share: