*قسط نمبر (12) سیرتِ اِمام الآنبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم*

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا  شام کا پہلا  سفر اور بحیرا  راھب کا آپ کی رسالت کا اقرار 

بعض  مستند روایات کے مطابق جو تحقیق کے رو سے مجموعی طور پر ثابت شدہ  ہیں یہ واقعہ بیان ھوا ھےکہ  جب رسول کریم صلی اللہ علیہ عآلہ وسلم کی عمر مبارک  12 برس دو مہینے دس دن کی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے  چچا ابو طالب  تجارت کے لیے ملک شام کے سفر پر نکلنے لگے تو رسول کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کے لئے اصرار کیا حضرت ابو طالب نے  آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو بھی اپنے ساتھ لے لیا اور  سفر کرکے بصرہ پہنچے۔ بصرہ  شام کا ایک مقام اور حوران کا مرکزی شہر ہے۔ اس وقت یہ جزیرۃالعرب کے رومی مقبوضات کا دار الحکومت تھا۔ اس شہر میں جرجیس نامی ایک راہب رہتا تھا۔  جو بحیرا کے لقب سے معروف تھا، جب قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو یہ راہب خلاف معملول اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اس کی میزبانی کی ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی بھی گرجا سے باھر نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کی بنا پر پہچان لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ قافلے کے لوگوں اور ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا " تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لیے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں "۔ پھر میں انہیں (صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم ) کو مہر نبوت سے بھی پہچانتا ہوں جو کندھے کے نیچے کری (نرم ہڈی) کے پاس سیب کی طرح ہے اور ہم انہیں ( صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم  ) اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں۔ اس کے بعد بحیرا راہب نے ابو طالب سے کہا ان(  صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وآصحابہ وسلم )  کو مکہ مکرمہ واپس بیجھ دو   ملک شام  ھرگز نہ لیجاؤ کیونکہ وھاں پر پہود سے آپ کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ اس پر ابو طالب نے بعض غلاموں کی معیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ واپس بھیج دیا۔

 امام ترمذی رحمہ اللہ  بھی “ سنن ترمذی - کتاب المناقب “ میں اس حوالہ سے ایک حدیث  لائے ھیں جو مندرجہ ذیل ھے

عن ابي بكر بن ابي موسى , عن ابيه، قال: " خرج ابو طالب إلى الشام، وخرج معه النبي صلى الله عليه وسلم في اشياخ من قريش، فلما اشرفوا على الراهب هبطوا، فحلوا رحالهم , فخرج إليهم الراهب وكانوا قبل ذلك يمرون به , فلا يخرج إليهم ولا يلتفت، قال: فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم الراهب حتى جاء فاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: هذا سيد العالمين , هذا رسول رب العالمين يبعثه الله رحمة للعالمين، فقال له اشياخ من قريش: ما علمك؟ فقال: إنكم حين اشرفتم من العقبة لم يبق شجر ولا حجر إلا خر ساجدا، ولا يسجدان إلا لنبي , وإني اعرفه بخاتم النبوة اسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة، ثم رجع فصنع لهم طعاما فلما اتاهم به وكان هو في رعية الإبل , قال: ارسلوا إليه , فاقبل وعليه غمامة تظله، فلما دنا من القوم وجدهم قد سبقوه إلى فيء الشجرة، فلما جلس مال فيء الشجرة عليه، فقال: انظروا إلى فيء الشجرة مال عليه، قال: فبينما هو قائم عليهم وهو يناشدهم ان لا يذهبوا به إلى الروم، فإن الروم إذا راوه عرفوه بالصفة فيقتلونه، فالتفت , فإذا بسبعة قد اقبلوا من الروم فاستقبلهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا إن هذا النبي خارج في هذا الشهر , فلم يبق طريق إلا بعث إليه باناس , وإنا قد اخبرنا خبره بعثنا إلى طريقك هذا، فقال: هل خلفكم احد هو خير منكم؟ قالوا: إنما اخبرنا خبره بطريقك هذا، قال: افرايتم امرا اراد الله ان يقضيه هل يستطيع احد من الناس رده؟ قالوا: لا، قال: فبايعوه واقاموا معه، قال: انشدكم بالله ايكم وليه، قالوا: ابو طالب فلم يزل يناشده حتى رده ابو طالب، وبعث معه ابو بكر بلالا وزوده الراهب من الكعك والزيت ". قال ابو عيسى: هذا حسن غريب، لا نعرفه إلا من هذا الوجه.

ابی بکر بن ابی موسی کہتے ہیں کہ ابوطالب شام کی طرف (تجارت کی غرض سے) نکلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے بوڑھوں میں ان کے ساتھ نکلے، جب یہ لوگ بحیرہ راہب کے پاس پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور اپنی سواریوں کے کجاوے کھول دیے، تو راہب اپنے گرجا گھر سے نکل کر ان کے پاس آیا حالانکہ اس سے پہلے یہ لوگ اس کے پاس سے گزرتے تھے، لیکن وہ کبھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا تھا، اور نہ ان کے پاس آتا تھا، کہتے ہیں: تو یہ لوگ اپنی سواریاں ابھی کھول ہی رہے تھے کہ راہب نے ان کے بیچ سے گھستے ہوئے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا: یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے سردار ہیں، یہ سارے جہان کے رب کے رسول ہیں، اللہ انہیں سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گا، تو اس سے قریش کے بوڑھوں نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا: جب تم لوگ اس ٹیلے سے اترے تو کوئی درخت اور پتھر ایسا نہیں رہا جو سجدہ میں نہ گر پڑا ہو، اور یہ دونوں صرف نبی ہی کو سجدہ کیا کرتے ہیں، اور میں انہیں مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو شانہ کی ہڈی کے سرے کے نیچے سیب کے مانند ہے، پھر وہ واپس گیا اور ان کے لیے کھانا تیار کیا، جب وہ کھانا لے کر ان کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ چرانے گئے تھے تو اس نے کہا: کسی کو بھیج دو کہ ان کو بلا کر لائے، چنانچہ آپ آئے اور ایک بدلی آپ پر سایہ کئے ہوئے تھی، جب آپ لوگوں کے قریب ہوئے تو انہیں درخت کے سایہ میں پہلے ہی سے بیٹھے پایا، پھر جب آپ بیٹھ گئے تو درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا اس پر راہب بول اٹھا: دیکھو! درخت کا سایہ آپ پر جھک گیا ہے، پھر راہب ان کے سامنے کھڑا رہا اور ان سے قسم دے کر کہہ رہا تھا کہ انہیں روم نہ لے جاؤ اس لیے کہ روم کے لوگ دیکھتے ہی انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیں گے اور انہیں قتل کر ڈالیں گے، پھر وہ مڑا تو دیکھا کہ سات آدمی ہیں جو روم سے آئے ہوئے ہیں تو اس نے بڑھ کر ان سب کا استقبال کیا اور پوچھا آپ لوگ کیوں آئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس نبی کے لیے آئے ہیں جو اس مہینہ میں آنے والا ہے، اور کوئی راستہ ایسا باقی نہیں بچا ہے جس کی طرف کچھ نہ کچھ لوگ نہ بھیجے گئے ہوں، اور جب ہمیں تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم تمہاری اس راہ پر بھیجے گئے، تو اس نے پوچھا: کیا تمہارے پیچھے کوئی اور ہے جو تم سے بہتر ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں تو تمہارے اس راستہ پر اس کی خبر لگی تو ہم اس پر ہو لیے اس نے کہا: اچھا یہ بتاؤ کہ اللہ جس امر کا فیصلہ فرما لے کیا لوگوں میں سے اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: پھر تم اس سے بیعت کرو، اور اس کے ساتھ رہو، پھر وہ عربوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا: میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تم میں سے اس کا ولی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوطالب، تو وہ انہیں برابر قسم دلاتا رہا یہاں تک کہ ابوطالب نے انہیں واپس مکہ لوٹا دیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے آپ کے ساتھ بلال رضی الله عنہ کو بھی بھیج دیا اور راہب نے آپ کو کیک اور زیتون کا توشہ دیا۔

( اِمام  ترمذی  رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم   اسے صرف اسی سند سے جانتےھیں )



بحیرا  راھب کی خانقاہ

رومی عہد میں اسقفیہ کبرا کی وجہ سے بصرہ میں ایک باسلیق (مخروطی دار القضاء) قائم تھا۔ اس کے قریب سینٹ سرجیئس کی خانقاہ تھی جس میں ایک بڑا گرجا بھی تھا جس کی دیواریں اور محراب ابھی تک باقی ہیں۔ یہیں بحیرا راہب کی اقامت گاہ تھی جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آئندہ رسالت کی اس وقت گواہی دی تھی جب آپ اپنے چجا ابو طالب کے ہمراہ بصرہ تشریف لائے تھے 


 حربِ فجٌار 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پندرہ برس کی ہوئی تو جنگ فجار پیش آئی ۔  آغاز اسلام سے پہلے عرب میں جو لڑائیاں ان مہینوں میں پیش آتی تھیں جن میں لڑنا ناجائز تھا حرب فجار کہلاتی تھیں یہ چوتھی اور اخری حرب فجار  تھی جس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے بھی شرکت فرمائی تھی۔ 

اس جنگ کا سبب یہ تھا کہ نعمان بن منذر شاہِ حیرہ  ہر سال اپنا تجارتی مال بازار عکاظ میں فروخت کرنے کے لیےاشرافِ عرب میں سے کسی کی پناہ میں بھیجا کرتا تھا اس دفعہ جو اس نے اونٹ لدوا کر تیار کئے اتفاقاً عرب کی ایک جماعت اس کے پاس موجود تھی جن میں بنی کنانہ میں سے براض اور بنی ہوازن میں سے عروہ رحال موجود تھے۔نعمان نے کہا اس قافلہ کو کون پناہ دے گا؟ براض بولا میں بنی کنانہ سے پناہ دیتا ہوں۔ نعمان نے کہا میں ایسا شخص چاہتا ہوں جو اہل نجد تہامہ سے پناہ دے یہ سن کر عروہ نے کہا میں اہل نجد تہامہ سے پناہ دیتا ہوں۔ براض نے کہا کہ کیا تو بنی کنانہ سے پناہ دیتا ہے؟ عروہ نے کہا میں تمام مخلوق سے پناہ دیتا ھوں پس عروہ اس قافلے کے ساتھ نکلا۔براض بھی اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا اور موقع پاکر عروہ  کو  قتل کر ڈالا یہ محرام الحرام کا مہینہ تھا جس میں اسلام سے پہلے بھی قتل و غارت گری سے اجتناب برتا جاتا تھا بنو ہوازن نے قصاص میں براض کو قتل کرنے سے انکار کیا۔ کیونکہ عروہ ہواذان کا سردار تھا۔وہ  بدلے میں قریش کے کسی سردار کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر قریش نے یہ منظور نہ کیا۔ اس لیے قریش و کنانہ اور ہوازن  کی درمیان جنگ چھڑگئی

اس جنگ میں ایک طرف قریش اور انکے ساتھ بنو کنانہ تھے اور دوسری طرف قیس عیلان تھے۔ قریش اور کنانہ کا سپہ سالار اعظم حرب بن امیہ تھا۔ جو ابو سفیانؓ کا باپ اور حضرت امیر معاویہؓ کا دادا تھااور ہوازن کا سپہ سالار اعظم مسعود بن معتب ثقفی تھا۔ لشکرِ کنانہ کے ایک پہلو پر عبداللہ بن جدعان اور دوسرے پر کریز بن ربیعہ اور قلب میں حرب بن امیہ تھا اس جنگ میں کئی لڑائیاں ہوئیں ان میں سے ایک  لڑائی میں رسول کریم کے چچا آپ کو بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 14 سال کی تھی مگر آپ نے خود لڑائی نہیں کی  تھی بلکہ صرف تیر اٹھا اٹھا کر اپنے چچاؤں کو دیتے رہے۔

اس جنگ کے شروع میں  کنانہ اور قریش پر قیس کا پلہ بھاری تھا لیکن بعد میں قیس پر  قریش اور کنانہ کا پلہ بھاری ہو گیا۔ اسے حرب فجار اس لئے کہتے ہیں کے اس میں حرم اور حرام مہینے ( ذوالقعدہ ) دونوں کی حرمت چاک کی گئی تھی جو گناہ کا کام تھا اس جنگ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے تھے لیکن بعد میں دونوں فریقوں نے صلح کر لی اور جس گروہ کے  مقتول  زیادہ تھے، انہیں دوسرے گروہ نے ان مقتولوں کی دیت ادا کی اس  جنگ کے خاتمے کے بعد  “ حلف الفضول “ کا  آمن معائدہ بھی  طے پا گیا تھا 


جاری ھے

Share: