موت کی حقیقت

پرسوں بھائی  محمد اقبال صاحب آف ھلوکی  کچھ دنوں کی علالت کے بعد اللہ تعالی کو پیارے ھو گئے  تھے ۔ کل اُن کی تدفین ھو گئی تھی ۔اسی وقت سے  دل بہت ھی آفسردہ ھے ۔ مرحوم دعوت کے ایکٹو ساتھی تھے ۔ اللہ پاک اُن کی محنت کو قبول فرمائے اور اُن کی مغفرت فرمائے  -آمین

برطانیہ پر طویل عرصہ تک حکومت کرنے والی ملکہ الزبتھ بھی گذشتہ دنوں لندن میں انتقال کر گئی تھی انتقال کے وقت اس کی عمر 96 سال تهی- دنیوی اعتبار سے وه ایک کامیاب انسان تهی ۔ شہرت، دولت، پوزیشن، اقتدار ، اعزاز، ہر چیز اسے حاصل تهی- وه ایک بڑے محل میں  میں رہتی تھی  اللہ پاک نے ایک لمبی عمر اُسے دی تھی - لیکن انتقال کے وقت سب کچهہ اس سے چهوٹ گیا- دوسرے انسانوں کی طرح وه بهی اپنی بڑائی کا کوئی حصہ اپنے ساتھ نہیں لے گئی

یہی ہر انسان کی کہانی ہے- موت اس حقیقت کو یاد دلاتی ہے جس کو قرآن پاک نے  ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : 


وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَـرَكْـتُـمْ مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ ۖ وَمَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّـذِيْنَ زَعَمْتُـمْ اَنَّـهُـمْ فِيْكُمْ شُرَكَـآءُ ۚ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُـمْ تَزْعُمُوْنَ (94) 

اور البتہ تم ہمارے پاس ایک ایک ہو کر آ گئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا وہ اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے ہو، اور ہم تمہارے ساتھ ان سفارش کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں، تمہارا آپس میں قطع تعلق ہو گیا ہے اور جو تم خیال کرتے تھے وہ سب جاتا رہا۔

(سورہ الانعام)

یعنی تم ہمارے پاس اکیلے آگئے ھو جیسا کہ هم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تها، اور جو کچهہ هم نے تم کو دیا تها، وه سب کچهہ تم اپنے پیچهے ھی چهوڑ آئے ھو


قدیم مصر کے بادشاه فرعون نے کہا تها : 


فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (24) 

پھر کہا (فرعون نے) کہ میں تمہارا سب سے برتر رب ہوں۔

(سورہ النازعات)


آج اسی فرعون کی لاش تمام دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنی ھوئی ھے تکبر صرف اللہ کی ذات کے لئے ھے انسان کے لئے یہ ھے ھی نہیں لیکن جو انسان اس کو اپناتا ھے آخرکار اس کی سزا اسے مل کر رھتی ھے

یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر انسان اسی احساس میں زندگی گزارتا  ہے- ہر انسان کسی نہ کسی بڑائی کو اپنی بڑائی سمجهتا رھتا ہے مثلاً دولت کی بڑائی ، علم کی بڑائی، طاقت کی بڑائی ، عھدہ اور حکومت کی بڑائی وغیرہ وغیرہ موت اس احساس کی نفی کرتی ہے- موت یہ بتاتی ہے کہ انسان کے پاس جو بڑائی ہے، وه سرے سے اس کے وجود کا حصہ ھے ھی نہیں، انسان کی ہر بڑائی ایک خارجی بڑائی ہے- موت اس حقیقت کی عملی یاد دہانی ہے- سب سے بڑی حقیقت جو انسان کو جاننا چاہئے، وه یہ کہ اللہ کی بڑائی اس کی اپنی ذات  کا حصہ ہے، وه کبهی اس ذات پاک  سے جدا هونے والی نہیں- اس کے برعکس، انسان کی بڑائی اس کے وجود کا حصہ نہیں- موت سے پہلے بظاہر یہ معلوم هوتا ہے کہ انسان کی بڑائی خود اس کے وجود کا حصہ ہے، لیکن موت آتے ہی دونوں ایک دوسرے سے الگ هو جاتے ہیں- اب انسان الگ رہتا ہے اور اس کی بڑائی الگ- انسان دنیا سے آخرت کی طرف اس طرح سفر کرتا ہے کہ اس کا سب کچهہ ہمیشہ کے لیے اسی دنیا میں چهوٹ جاتا ھے یہی موت کی حقیقت ھے جسے بدقسمتی سے ھم فراموش کر بیٹھے ھیں ۔ خدا راہ لوگوں سے متکبرانہ لہجے میں بات کرنے سے گریز کیجیے ایک دن ھر ایک نے اپنی انا، ضد اور بڑائی کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلے جانا ھے 


Share: