رجب کا مہینہ اور واقعۂ معراج النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ


اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّـٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِىْ كِتَابِ اللّـٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ مِنْـهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الـدِّيْنُ الْقَيِّـمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْـهِنَّ اَنْفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ (36) 

بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

ان چار مہینوں کی تحدید قرآن کریم میں نہیں ہے، بلکہ نبی اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ان کو بیان فرمایا ہے اوروہ یہ ہیں : ذو القعدہ، ذوالحجہ، محرم  اور رجب ۔ معلوم ہوا کہ حدیثِ نبوی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے بغیر قرآن کریم نہیں سمجھا جاسکتا ۔ ان چار مہینوں کو اشہرِ حرم (حرمت والے مہینے) اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام جو فتنہ وفساد، قتل و غارت گری اور امن و سکون کی خرابی کا باعث ہو‘ سے منع فرمایا گیا ہے، اگرچہ لڑائی جھگڑا سال کے دیگر مہینوں میں بھی حرام ہے ، مگر اِن چار مہینوں میں لڑائی جھگڑا کرنے سے خاص طور پر منع کیا گیا ہے۔ ان چار مہینوں کی حرمت وعظمت پہلی شریعتوں میں بھی مسلَّم رہی ہے، حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا۔

اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قمری اسلامی سال کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، جس سے قمری اسلامی سال اور اس کے مہینوں کی قدر وقیمت اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوا کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت، عظمت اور احترام والے ہیں، ان کو ’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘، ’’حرمت والے مہینے‘‘  کہا جاتا ہے۔ یہ مضمون متعدد احادیث میں آیا ہے جس سے ان چار مہینوں کی تعیین بھی واضح ہوجاتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوبکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے کہ حضور اقدس  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ:

’’عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ کَہَیْئَتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللہُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ، السَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا، مِنْہَا: اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ: ذُو الْقَعْدَۃِ وَذُو الْحِجَّۃِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِیْ بَیْنَ جُمَادٰی وَشَعْبَانَ۔‘‘

’’زمانہ اب اپنی اُسی ہیئت اور شکل میں واپس آگیا ہے جو اُس وقت تھی جب اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا (اس ارشاد سے مشرکین کے ایک غلط نظریے اور طرزِ عمل کی تردید مقصود ہے، جس کا ذکر اسی سورة   میں موجود ہے) سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حُرمت (عظمت اور احترام) والے ہیں، تین تو مسلسل ہیں یعنی: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم، اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے جو کہ جُمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے۔

رجب کا مہینہ شروع ہونے پر حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کا  اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء مانگنا منقول ھے ۔ 

 ’’اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔‘‘      (مسند احمد، بزار، طبرانی، بیہقی) 

’’اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور ماہِ رمضان تک ہمیں پہنچا۔‘‘

 لہٰذا ماہِ رجب کے شروع ہونے پر ہم یہ دعا  یا اس مفہوم پر مشتمل کوئی بھی دعا مانگ سکتے ہیں۔ اس دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کے نزدیک رمضان المبارک کی کتنی اہمیت تھی کہ ماہ ِ رمضان المبارک کی عبادت کو حاصل کرنے کے لیے رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   رمضان المبارک سے دو ماہ قبل دعاؤں کا سلسلہ شروع فرمادیتے تھے۔ ماہِ رجب کو بھی  رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی دعائے برکت حاصل ہوئی، جس سے ماہ ِ رجب کا مبارک ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔

ماہ ِرجب میں کسی خاص نماز پڑھنے کا یا کسی معین دن کے روزے رکھنے کی خاص فضیلت کا کوئی ثبوت احادیثِ صحیحہ سے نہیں ملتا۔ نماز وروزہ کے اعتبار سے یہ مہینہ دیگر مہینوں کی طرح ہی ہے۔ البتہ رمضان المبارک کے پورے ماہ کے روزے رکھنا ہر بالغ مسلمان مرد وعورت پر فرض ہیں اور ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنے کی ترغیب احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ ماہِ رجب میں نبی اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے کوئی عمرہ ادا کیا یا نہیں؟ اس بارے میں علماء ومؤرخین کی آراء مختلف ہیں۔ البتہ دیگر مہینوں کی طرح ماہِ رجب میں بھی عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ اسلاف سے بھی اس ماہ میں عمرہ ادا کرنے کے ثبوت ملتے ہیں، البتہ رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور ماہ میں عمرہ ادا کرنے کی کوئی خاص فضیلت احادیث مبارکہ میں موجود نہیں ہے۔ 


واقعۂ معراج النبی  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   


بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (1) 

پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔


رسول اللہ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو طائف کے دعوتی سفر سے واپسی پر جسم اور روح کے ساتھ بیداری کی حالت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے ساتوں آسمان ، سدرۃ المنتہی، جنت و جہنم اور جہاں تک اللہ نے چاہا ان مقامات  کی سیر کرائی گئی،  اس سفر کو  "اسراء و معراج " کہتے  ہیں۔ معراج  کی  تاریخ میں علماء کا اختلاف ہے اور کئی اقوال کتب میں مذکور ہیں۔معراج کے واقعہ کا اجمالی خلاصہ یہ ہے کہ: نبی کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   حضرت ام ہانی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے مکان میں استراحت فرمارہے تھے کہ یکایک  چھت پھٹی اور جبریل امین اترے، ان کے ہمراہ دیگر  فرشتے بھی تھے، نبی کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو جگاکر مسجد حرام لے جایا گیا، وہاں آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے سینہ مبارک کو چاک کرکے قلب اطہر کو آب زمزم سے دھویاگیا، بعد ازاں آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی سواری کے لیے ایک بہشتی جانور لایا گیا، اور پھر مسجد اقصیٰ کی جانب روانگی  ھوئی ۔

واقعۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین اور اہل سیر کی آراء مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال ۲۷ رجب کو ۵۱ سال ۵ مہینہ کی عمر میں نبی اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو معراج ہوئی، جیساکہ علّامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری  رَحمة اللہ علیہ  نے اپنی کتاب ’’مہرِ نبوت‘‘ میں تحریر فرمایا ہے۔ اِسراء کے معنی رات کو لے جانے کے ہیں۔ مسجدِ حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجدِ اقصیٰ کا سفر جس کا تذکرہ سورۂ بنی اسرائیل  کی آیت مذکورہ بالا میں کیا گیا ہے، اس کو اِسراء کہتے ہیں۔ اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے۔ اس لئے اس مقدس واقعہ کو اِسراء اور معراج دونوں ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر سورۂ نجم کی درج زیل آیات مبارکہ میں  ہے اور یہ  وضاحت بھی ہے کہ حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں:

وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى (7) 

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے پر تھا۔

ثُـمَّ دَنَا فَتَدَلّـٰى (8) 

پھر نزدیک ہوا پھر اور بھی قریب ہوا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) 

پھر فاصلہ دو کمان کے برابر تھا یا اس سے بھی کم۔

فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى (10) 

پھر اس نے اللہ کے بندے کے دل میں القا کیا جو کچھ القا کیا دل نے۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى (11) 

جھوٹ نہیں کہا تھا جو دیکھا تھا۔

اَفَتُمَارُوْنَهٝ عَلٰى مَا يَرٰى (12) 

پھر جو کچھ اس نے دیکھا تم اس میں جھگڑتے ہو۔

وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَـةً اُخْرٰى (13) 

اور اس نے اس کو ایک بار اور بھی دیکھا ہے۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْـتَهٰى (14) 

سدرۃ المنتہٰی کے پاس۔

عِنْدَهَا جَنَّـةُ الْمَاْوٰى (15) 

جس کے پاس جنت الماوٰی ھے

اور یہ واقعہ احادیثِ متواترہ سے بھی ثابت ہے، یعنی صحابہؓ، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کی ایک بڑی تعداد سے معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے واقعہ سے متعلق احادیث مروی ہیں۔ 


واقۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   ایک عظیم و مبارک معجزہ

قرآن کریم اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ اسراء ومعراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں، بلکہ جسمانی تھا، یعنی نبی اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا یہ سفر کوئی خواب نہیں تھا، بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ مختلف مراحل سے گزرکر اتنا بڑا سفر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے صرف رات کے ایک حصہ میں مکمل کردیا۔ اللہ تعالیٰ جو اس پوری کائنات کا پیدا کرنے والاہے، اس کے لیے کوئی بھی کام مشکل نہیں ھے کیونکہ وہ تو قادرِ مطلق ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کے تو ارادہ کرنے پر چیز کا وجود ہوجاتا ہے۔ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کا واقعہ پوری انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم، مبارک اور بے نظیر معجزہ ہے جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنے محبوب صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو دعوت دے کر اپنا مہمان بنانے کا وہ شرفِ عظیم عطا فرمایا، جو نہ کسی  نبی یا رسول کو کبھی حاصل ہوا ہے اور نہ کسی مقرَّب ترین فرشتے کو۔


واقعۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے مقاصد

واقعۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے مقاصد میں جو سب سے مختصر اور عظیم بات قرآن کریم کی سورۂ بنی اسرائیل میں ذکر کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم (اللہ تعالیٰ) نے رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں۔ اس کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اپنے حبیب صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کو وہ عظیم الشان مقام ومرتبہ دینا تھا جو کسی بھی بشر حتیٰ کہ کسی مقرب ترین فرشتہ کو بھی نہیں ملا ہے اور نہ ملے گا۔ نیز اس کے مقاصد میں اُمتِ مسلمہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ نماز ایسا مہتم بالشان عمل اور عظیم عبادت ہے کہ اس کی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں، بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی رات میں ہوا۔ نیز اس کا حکم حضرت جبرئیل  علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   تک نہیں پہنچا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت ِصلوة   کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیب  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو عطا فرمایا۔ نماز اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے اور اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کو مانگنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 


واقعۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی مختصر تفصیل


اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے پُر تھا، آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا سینہ مبارک چاک کیا گیا، پھر اُسے زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر اُسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا اور پھر بجلی کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والی ایک سواری یعنی براق لایا گیا جو لمبا سفید رنگ کا چوپایا تھا، اس کا قد  گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک  اس کی نظر پڑتی تھی۔ اس پر سوار کرکے حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں تمام انبیاء کرام  علیہم السلام نے حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کی اقتداء میں نماز پڑھی، پھر آسمانوں کی طرف لے جایا گیا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم  علیہ السلام ، دوسرے آسمان پر حضرت عیسیٰ  علیہ السلام اور حضرت یحییٰ  علیہ السلام ، تیسرے آسمان پر حضرت یوسف  علیہ السلام ، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس  علیہ السلام ، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون  علیہ السلام ، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ  علیہ السلام اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم  علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد ’’البیت المعمور‘‘ حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے سامنے کردیا گیا، جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے اللہ کی عبادت کے لیے داخل ہوتے ہیں، جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے۔ پھر رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے دیکھا کہ اس کے پتے اتنے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان ہوں اور اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے  مٹکے ہوں۔ جب سدرۃ المنتہیٰ کو اللہ کے حکم سے ڈھانکنے والی چیزوں نے ڈھانک لیا تو اس کا حال بدل گیا، اللہ تعالی کی کسی بھی مخلوق میں اتنی  طاقت نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کرسکے۔ سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ میں چار نہریں نظر آئیں: دو باطنی نہریں اور دو ظاہری نہریں۔ رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے دریافت کرنے پر حضرت جبرئیل  علیہ السلام نے بتایا کہ باطنی دو نہریں جنت کی نہریں ہیں اور ظاہری دو نہریں فرات اور نیل ہیں (فرات عراق میں اور نیل مصر میں ہے)۔


نماز کی فرضیت

اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی وحی فرمائی جن کی وحی اس وقت فرمانا تھا اور پچاس نمازیں فرض کیں۔ واپسی پر حضرت موسیٰ  علیہ السلام سے رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ  علیہ السلام کے کہنے پر رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   چند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوئے اور نماز کی تخفیف کی درخواست کی۔ ہر مرتبہ پانچ نمازیں معاف کردی گئیں، یہاں تک کہ صرف پانچ نمازیں رہ گئیں۔ حضرت موسیٰ  علیہ السلام نے اس پر بھی مزید تخفیف کی بات کہی، لیکن اس کے بعد رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ تخفیف کا سوال کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور میں اللہ کے اس حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ندا دی گئی : میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی ہے، یعنی میں نے اپنے فریضہ کا حکم باقی رکھا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس بناکر دیتا ہوں۔ غرضیکہ ادا کرنے میں پانچ ہیں اورثواب میں پچاس ہی ہیں۔ 


 رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو تین انعام


اس موقع پر حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو تین انعام دیئے گئے:

۱:-حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو اللہ تعالیٰ سے انسان کا رشتہ جوڑنے کا سب سے اہم ذریعہ یعنی نماز کی فرضیت کا تحفہ ملا اور حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا اپنی اُمت کی فکر اور اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے پانچ نمازوں کی ادائیگی پر پچاس نمازوں کا ثواب دیا جائے گا۔ 

۲:- سورۃ البقرہ کی آخری آیت ’’آمَنَ الرَّسُولُ‘‘سے لے کر آخر تک عنایت فرمائی گئی۔ 

۳:- اس قانون کا اعلان کیا گیا کہ حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی اُمت کے شرک کے علاوہ تمام گناہوں کی معافی ممکن ہے، یعنی کبیرہ گناہوں کی وجہ سے ہمیشہ عذاب میں نہیں رہیں گے، بلکہ توبہ سے معاف ہوجائیں گے یا عذاب بھگت کر چھٹکارا مل جائے گا، البتہ کافر اور مشرک ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ 


معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  میں دیدارِ الٰہی


زمانہ ٔ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے کہ حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   شبِ معراج میں دیدارِ خداوندی سے مشرف ہوئے یا نہیں؟اور اگر رؤیت ہوئی تو وہ رؤیت بصری تھی یا رؤیت قلبی تھی؟ البتہ ہمارے لیے اتنا مان لینا ان شاء اللہ! کافی ہے کہ یہ واقعہ برحق ہے، یہ واقعہ رات کے صرف ایک حصہ میں ہوا، نیز بیداری کی حالت میں ہوا ہے اور حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا یہ ایک بڑا معجزہ ہے۔


مشرکینِ قریش کی تکذیب اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق

رات کے صرف ایک حصہ میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس جانا، انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت میں وہاں نماز پڑھنا،پھر وہاں سے آسمانوں تک تشریف لے جانا، انبیاء کرام علیہم السلام سے ملاقات اور پھر اللہ جل شانہٗ کی دربار میں حاضری، جنت ودوزخ کو دیکھنا، مکہ مکرمہ تک واپس آنا اور واپسی پر قریش کے ایک تجارتی قافلہ سے ملاقات ہونا جو ملک شام سے واپس آرہا تھا، جب حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے صبح کو معراج کا واقعہ بیان فرمایا تو قریش تعجب کرنے لگے اور جھٹلانے لگے اور فوراً حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس گئے۔ حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ: اگر حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ بات کہی ہے تو سچ فرمایا ہے۔ اس پر قریش کے لوگ کہنے لگے کہ: کیا تم اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ: میں تو اس سے بھی زیادہ عجیب باتوں کی تصدیق کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آسمانوں سے حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے پاس خبر آتی ہے۔ اسی وجہ سے ان کا لقب صدیق پڑ گیا۔ اس کے بعد جب قریشِ مکہ کی جانب سے حضور اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   سے بیت المقدس کے احوال دریافت کیے گئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بیت المقدس کو حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کے لیے روشن فرمادیا، اُس وقت آپ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  حطیم میں تشریف فرما تھے۔ قریشِ مکہ سوال کرتے جارہے تھے اور آپ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  جواب دیتے جارہے تھے۔


سفرِ معراج کے بعض آحوال و مشاہدات

اس اہم و مبارک سفر میں رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    کو جنت ودوزخ کا مشاہدہ کروایا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو مختلف گناہگاروں کے احوال بھی دکھائے گئے جن میں سے بعض گناہگاروں کے احوال  زیل میں تحریر کیے جاتے  ھیں ، ان آحوال کو تحریر کرنے کا مقصد یہ ھے  کہ ان گناہوں سے ہم خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی ترغیب دیں۔ 


غیبت کرنے والے لوگوں کو عذاب 

حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا کہ: جس رات مجھے معراج کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو چھیل رہے تھے۔ میں نے جبرئیل  علیہ السلام سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں (یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں) اور ان کی بے آبروئی کرنے میں پڑے رہتے ہیں۔ (ابوداود)


سود خوروں کا آنجام 

حضرت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا کہ: جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں ایسے لوگوں پر بھی گزرا جن کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے (انسانوں کے رہنے کے) گھر ہوتے ہیں، ان میں سانپ تھے جو باہر سے ان کے پیٹوں میں نظر آرہے تھے۔ میں نے کہا کہ: اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح)


نماز میں سستی کرنے والے لوگ

واقۂ معراج کے موقعہ پر رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچل جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہوجاتے تھے جیسے پہلے تھے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جاری تھا، ختم نہیں ہورہا تھا۔ آپ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل  علیہ السلام نے کہا کہ: یہ لوگ نماز میں کاہلی کرنے والے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، شیخ مفتی عاشق الہٰی ؒ)


زکوة  نہ دینے والوں کی سزا 

واقۂ معراج کے موقعہ پر رسول کریم صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کی شرمگاہوں پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں اور اونٹ وبیل کی طرح چرتے ہیں اور کانٹے دار و خبیث درخت اور جہنم کے پتھر کھارہے ہیں، آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل  علیہ السلام نے کہا کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، شیخ مفتی عاشق الہٰی ؒ)


زنا کرنے والوں کو عذاب

واقۂ معراج کے موقعہ پر رسول کریم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے بھی ہوا جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے اور ایک ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے، یہ لوگ سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں اور پکا ہوا گوشت نہیں کھارہے ہیں، آپ  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ    نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل  علیہ السلام نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے، مگر وہ زانیہ اور فاحشہ عورت کے ساتھ شب باشی کرتے ہیں اور صبح تک اسی کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ عورتیں ہیں جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑکر کسی زانی اور بدکار شخص کے ساتھ رات گزارتی ہیں۔ (انوار السراج فی ذکر الاسراء والمعراج ، شیخ مفتی عاشق الہٰیؒ)


سدرۃ المنتہیٰ  

سدرۃ المنتہیٰ  کا ذکر قرآن پاک اور آحادیث مبارکہ میں آیا ھے قرآن پاک میں یہ ذکر سورہ النجم میں آیا ھے جو اوپر بیان ھوا ھے اور احادیث مبارکہ میں ’’سدرۃ المنتہٰی‘‘ اور ’’السدرۃ المنتہٰی‘‘ دونوں طرح استعمال ہوا ہے چنانچہ صحیح مسلم میں  حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو ”اسراء“ کروایا گیا تو آپ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، وہ چھٹے آسمان پر ہے، جبکہ اس کی شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں وہ سب چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے، اس تک پہنچتی ہیں اوروہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے اور وہ چیزیں جنہیں اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے، وہاں پہنچتی ہیں اور وہیں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” جب ڈھانپ لیا، سدرہ (بیری کے درخت) کو جس چیز نے ڈھانپا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے کےپتنگوں نے۔ اور کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں: پانچ نمازیں عطا کی گئیں، سورۃ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں اور آپ کی امت کے (ایسے) لوگوں کے (جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا) جہنم میں پہنچانے والے (بڑے بڑے) گناہ معاف کر دیے گئے۔


 واقۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   کو جاننے کا مقصد

واقعۂ معراج النبی صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   بلا شبہہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد اور بے مثال واقعہ ھے لیکن واقعۂ معراج النبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی خاص عبادت ہر سال ہمارے لیے مسنون یا ضروری نہیں ہے۔ تاریخ کے اس بے مثال واقعہ کو بیان کرنے کا اہم مقصد یہ ہے کہ ہم اس عظیم الشان واقعہ کی کسی حد تک تفصیلات سے واقف ہوں اور ہم اُن گناہوں سے بچنے کی ھر ممکن کوشش کریں  جن کے ارتکاب کرنے والوں کا برا انجام نبی اکرم  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے اس سفر میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر اپنی اُمت کو بیان فرمایا۔ 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو گناھوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ھمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین 


Share: