بندوں کے تین جہان

  ھمارے حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب   رحمۃ  اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ *اللہ تعالٰی نے بندوں کے لئے تین جہان بنائے ھیں  

ایک کام کا جہان,  دوسرا آرام کا جہان، تیسرا انعام کا جہان 


پہلا کام کا جہان "دنیا"

یہ دین کا کام کرنے اور اپنی زندگی اللہ تعالی کے آحکامات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والی وسلم کے طریقوں پر عمل کرتے ھوئے گزارنے کا جہان ھے جیسا کہ قرآن پاک نے اس کا خلاصہ بیان کیا ھے

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ 

 اور رسول تمہیں جو کچھ بھی دے اسے تھام لو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ شدید سزا دینے والا ہے۔  (سورۃ الحشر :7)

آیت مبارکہ کا مطلب یہ ھے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا ھے اس میں کسی قسم کی سستی نہ کرو اور جن أمور سے روکا ھے ان سے ہوری طرح رک جاؤ 

خلاصئہ کلام یہ کہ اس دنیا میں جیسی کھیتی کاشت کرو گے ویسی ھی اگلے دونوں جہانوں میں جا کر کاٹو گے اس دنیا میں رہ کر دین کا کام کرو گے تو اگلے جہانوں میں راحتیں اور آسائشیں ملیں گی اور اگر اس وقت کو کھیل تماشے میں ھی ضائع کر دو گے اور بس دنیا ھی میں مگن رھو گے ،  اللہ تعالی کے حکموں کو توڑتے رھو گے،  رسول کریم ﷺ کے طریقوں پر عمل نہ کرو گے تو پھر  ظاھر ھے اگلے جہانوں میں نتیجہ بھی ویسا ھی ملے گا


دوسرا  آرام کا جہان " قبر"

 مشہور حدیث مبارکہ میں  ہے جس میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد  فرمایا کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا (سنن ترمذی 2460)۔

جس نے دنیا جس طرح کی  زندگی گزاری ھو گی اس کا نتیجہ قبر ھی سے ملنا شروع ھو جائے گا جو شخص دین کی محنت کرتا ھوا اس دنیا سے جائے گا اس کے لئے قبر جیسا مشکل مقام بھی جنت کا نظارہ پیش کرے گا


تیسرا  انعام کا جہان "جنت"

 جس نے کام کیا اسی نے آرام پایا اور انعام پایا۔* 

قرآن و سنت کے مطابق جنت میں جانے والے لوگ وہ ہیں جو سچے ایمان، اچھے اعمال، تقویٰ اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری کی زندگی گزارتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جنت میں جانے والوں کی کچھ اقسام درج ذیل ہیں:

بغیر حساب و کتاب جنت میں جانے والے 

یہ وہ خوش نصیب لوگ ھیں جو شرک سے پاک، کامل توحید اور توکل علی اللہ کے حامل ہوں گے 


تقوی اور پرہیزگاری اختیار کرنے والے

وہ لوگ جو اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں. حرام و حلال کی تمیز کرتے ھیں ، حقوق العباد کا خیال رکھتے ھیں  اور ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرتے ہیں۔


نیک اور صالح اعمال کرنے والے

وہ مومن جو نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور دیگر فرائض کی پابندی کے ساتھ مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں۔


عادل حکمران اور خدمتِ خلق کرنے والے

 انصاف کرنے والا حاکم، سچ بولنے والا اور رشتہ داروں یا کمزوروں کے حقوق کا خیال رکھنے والا شخص۔


 اپنے گناھوں سے سچی توبہ کرنے والے

وہ گناہ گار جو اپنے کیے پر ندامت محسوس کریں اور زندگی میں  سچی توبہ کر کے سیدھے راستے پر آ جائیں۔


 اللہ کی رضا کے لئے دین کا کام  کرنے والے 

دعوت و تبلیغ ، اشاعتِ قران و اسلام اور تعلیم و تعلم کرنے والے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب اور افضل ترین عمل کے حامل ھیں۔ دین کا کام جو انسان کو دنیا اور آخرت میں بلندی اور عزت عطا کرتا ہے۔دین کا کام دراصل تمام انبیاء کرام اور رسولوں کا مشن ہے۔ اس راستے پر چلنے والا شخص ان کے مبارک طریقے کو اپناتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(33)

“اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو (لوگوں کو) خدا کی طرف بلائے اور خود (بھی) نیک عمل کرے اور کہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں“۔ (سورة حم السجدة : 33)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے ذریعے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (قیمتی مال) سے بھی بہتر ہے (صحیح بخاری)۔

جو لوگ خود عملی طور پر یا کسی بھی طرح دین کے کام میں تعاون کرتے ہیں، وہ نیکی کے اس ثواب میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔جس بندے سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے، اسے اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے۔

یااللہ! تو ھمیں اپنے دین کے لئے زندگی کے آخری سانس تک قبول فرما لے اور ہمیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات کے ساتھ اپنے دیدار کا انعام  نصیب فرما دیجیئے

 *آمین یا رب العالمین

Share: