حرمین انتظامیہ کی جانب سے مطاف کے صحن میں صرف احرام پوش افراد (حجاج و معتمرین) کو داخلے کی اجازت ھے ۔ انتظامیہ کی جانب سے اس کا مقصد رش کو کنٹرول کرنا اور زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ انتظامی پابندی توڑنے کے لیے محض دکھاوے کے لیے احرام کی چادریں پہن کر عملہ کو دھوکہ دے کر مطاف میں داخل ہونا، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ سنگین گناہ ہے۔ جہاں تک طواف کا تعلق ھے وہ ایسا کرنے کے باوجود بھی ادا ھو جائے گا لیکن جھوٹ بولنے اور حرم میں حرم کے اھلکاروں کو دھوکہ دینے کا جو گناہ سر پر آئے گا وہ کہیں زیادہ ھو گا ۔ سوچنے کی بات ھے کہ ایسا طواف کرنے کا کیا فائدہ ھو گا جس کے لئےجھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گھناونے جرائم کا سہارہ لیا گیا ھو ۔ برائی بہرحال برائی ھے کہیں بھی کی جائے لیکن حرم میں برائی کی شدت اور گرفت بھی باھر سے بہت زیادہ ھوتی ھے ۔ تمام تر فضائل کے باوجود طواف بہرحال ایک نفلی عبادت ھے جس کے بارے میں قیامت والے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے یہ کیوں نہیں کیا جبکہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کبائر گناہوں میں سے ھیں ۔ ان گناھوں کے متعلق قیامت والے دن لازمی باز پرس ھو گی پھر اس کا تعلق حقوق العباد سے بھی بنتا ھے اس کی جواب دھی بھی ھو گی ۔ ایک نفلی عبادت کے لئے چاھے اس کے کتنے ھی فضائل کیوں نہ ھوں ، کبائر کا مرتکب ھونا کوئی دانشمندی نہیں
نماز کے مستحبات
فقۂ اسلامی میں نماز کے مستحبات (آداب) کی کوئی متعین یا مخصوص گنتی نہیں ھے اس لئے ان کی تعداد مختلف کتابوں میں مختلف ملتی ھے مجموعی طور پر یہ وہ آعمال ھیں جن کے کرنے پر ثواب ملتا ھے اور نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
نماز کے مستحبات سے مراد وہ چیزیں ھیں جو نماز میں حضور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت تو ہوئی ہیں لیکن ان کی اھمیت سنتوں کے برابر نہیں ھے ۔ اگر نماز میں کوئی مستحب جان بوجھ کر یا بھولے سے چھوٹ جائے تو نہ نماز ٹوٹتی ہے، نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ ھی نمازی کو کوئی گناہ ہوتا ہے ، نہ ھی مستحب چھوڑنے والا قابل ملامت ھوتا ھے البتہ نمازی کو نماز پڑھتے وقت ان مستحبات کا بھی اھتمام کر لینا چاھیے اس سے ایک فائدہ تو یہی ھے کہ مفت میں بہت سی نیکیاں مل جائیں گی جو قیامت والے دن اس وقت کام آئیں گی جب ھمیں ایک ایک نیکی کی اشد ضرورت پڑے گی ۔ دوسرا فائدہ یہ ھو گا کہ نماز میں خشوع و خضوع پیدا ھو جائے گا جو نماز میں عین مطلوب ھے
نماز کے مستحبات
1) دونوں قدموں کے درمیان چار انگلی کی مقدار یا اس کے قریب قریب فاصلہ چھوڑنا۔
2) ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اگر سورت شروع سے پڑھنی ہو تو اس سے پہلے "بسم الله الرحمن الرحیم" پڑھنا۔
3) تکبیرِ تحریمہ کے وقت جب کوئی عذر نہ ہو تو دونوں ہاتھ چادر وغیرہ سے باہر نکال کر اٹھانا۔
4) منفرد کو رکوع وسجود میں تین تین مرتبہ سے زیادہ لیکن طاق عدد میں تسبیح پڑھنا۔
5) جمائی آئے تو منہ خوب بند کرلینا اور اگر کسی طرح نہ رُکے تو ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت کی طرف سے روکنا۔
6) دونوں سجدوں کے درمیان جلسے میں یہ دعا پڑھنا "اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلَیْ وَارْحَمْنِیْ وَاهْدِنِیْ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِیْ" یا صرف "رَبِّ اغْفِرْلَیْ" ایک مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھنا۔
7) قنوت میں خاص اس دعا کا پڑھنا "اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُكَ" الخ۔
8) جب کھڑا ہو تو اپنی نگاہ سجدے کی جگہ رکھے۔ اور جب رکوع میں جائے تو پاؤں پر اور جب سجدہ کرے تو ناک پر رکھے جلسے اور قعدہ میں نگاہ گود میں رہے اور سلام پھیرتے وقت کندھوں پر ڈالے۔
9) جس قدر ممکن ھو سکے کھانسی نہ آنے دینا اسی طرح جس قدر ممکن ھو جمائی کو روکنا اگر روکنے کے باوجود جمائی آ جائے تق قیام کی حالت میں دائیں ھاتھ اور باقی حالتوں میں بائیں ھاتھ کی پشت سے منہ ڈھانپنا
10) جب مؤذن تکبیر کہہ چکے تو امام کا تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کرنا
اللہ کریم عمل کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین
نماز کی سنتیں
نماز میں کل اکیس (21) سنتیں ہیں۔ کتاب “تعلیم الاسلام “ میں مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ نے ان کو تفصیل سے تحریر فرمایا ہے
نماز کی سُنّتوں سے مراد وہ چیزیں ھیں جو نماز میں حضور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہوئی ہیں لیکن ان کی تاکید فرض اور واجب کے برابر ثابت نہیں ہوئی ۔ انہیں سنت کہتے ہیں ۔ اگر نماز میں کوئی سنت بھولے سے چھوٹ جائے تو نہ نماز ٹوٹتی ہے، نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور نہ ھی کوئی گناہ ہوتا ہے ، قصداً ( جان بوجھ کر ) سنت چھوڑ دینے سے نماز تو نہیں ٹوٹتی اور نہ ھی سجدہ سہو واجب ہوتا ہے لیکن ترکِ سنت کی وجہ سے یہ فعل قابل ملامت ھے یعنی سنت جان بوجھ کر چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے ۔ نمازی کو نماز پڑھتے وقت سنتوں کا بھی اھتمام ضرور کرنا چاھیے
نماز کی اکیس (21) سنتیں
(۱) تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔
(۲) دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی اور قبلہ رخ رکھنا۔
(۳) تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا۔
(۴) امام کو تکبیر تحریمہ اور ایک رُکن سے دوسرے میں جانے کی تمام تکبیریں بقدر حاجت بلند آواز سے کہنا۔
(۵) سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا۔
(۶) ثنا پڑھنا۔
(۷) تعوّذ یعنی اَعُوْذُ بِا للّٰہ الخ پڑھنا۔
(۸) بِسْمِ اللّٰہ الخ پڑھنا۔
(۹) فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہٴ فاتحہ پڑھنا۔
(۱۰)آمین کہنا۔
(۱۱) ثنا اور تعوّذ اور بسم اللہ اور آمین سب کو آہستہ پڑھنا۔
(۱۲) سنت کے موافق کوئی قرأت کرنا یعنی جس جس نماز میں جس قدر قرآن مجید پڑھنا سنت ہے اس کے موافق پڑھنا۔
(۱۳) رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا ۔
(۱۴)رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ لینا۔
(۱۵) قومہ میں امام کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور مقتدی کو رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا ۔ اور منفرد کو تسمیع اور تحمید دونوں کہنا۔
(۱۶) سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ پھر پیشانی رکھنا۔
(۱۷) جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلے کی طرف رہیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا۔
(۱۸) تشہّد میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ پر انگلی سے اشارہ کرنا۔
(۱۹) قعدہ اخیرہ میں تشہّد کے بعد درود شریف پڑھنا۔
(۲۰) درود کے بعد دعا پڑھنا۔
(۲۱) پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا۔
اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین
نماز کے واجبات
نماز کے چودہ واجبات ھیں جیسا کہ مفتئ اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "تعلیم الاسلام" میں ان کا ذکر کیا ھے ۔ نمازی کا ان واجبات کو جاننا بہت ضروری ھے۔ نماز کے واجبات کا حکم یہ ھے کہ ان میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدۂ سہو کر لینے سے نماز درست ہوجاتی ہے اور اگر قصداً ( جان بوجھ کر ) کوئی واجب چھوڑ دیا جائے تو سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز فاسد ھو جاتی ھے اور اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوتا ہے کیونکہ سجدۂ سہو سے بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ بھولے سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب چھوٹنے کی صورت میں اگر نمازی سجدۂ سہو کرنا بھی بھول جائے تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا پڑے گا اور اس نماز کے وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا۔
واجباتِ نماز
- فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں کو قراءت کے لیے مقرر کرنا۔
- فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھنا۔
- فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب اور سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں پڑھنا۔
- سورۂ فاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا۔
- قراءت اور رکوع میں اور سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔
- قومہ کرنا یعنی رکوع سے اُٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔
- جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان میں سیدھا بیٹھ جانا۔
- تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔
- قعدۂ اولیٰ یعنی تین اور چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا۔
- دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
- امام کو نمازِ فجر، مغرب، عشاء جمعہ، عیدین، تراویح اور رمضان شریف کے وتروں میں آواز سے قراءت کرنا، اور ظہر، عصر وغیرہ نمازوں میں آہستہ پڑھنا۔
- لفظِ سلام کے ساتھ نماز سے علیحدہ ہونا۔
- نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔
- دونوں عیدوں کی نماز میں چھ زائد تکبیریں کہنا۔
اللہ پاک ھمیں خشوع و خضوع کے ساتھ نمازیں ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین
نماز کے فرائض
نماز میں چند چیزیں ایسی ھیں جنہیں فرائضِ نماز کہا جاتا ھے ان میں اگر ایک فرض بھی رہ گیا تو نماز فاسد ھو جاتی ھے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ھوتی ۔ ان فرائض کی تعداد تیرہ ھے ان میں سات فرائض ایسے ھیں جن کا نماز سے پہلے موجود ہونا ضروری ہے ،اور ان کو نماز کے خارجی فرائض ، یا شرائط نماز کہا جاتا ہے جودرج ذیل ہیں :
شرائطِ نماز
بدن کا پاک ہونا
کپڑوں کا پاک ہونا
ستر کا چھپانا
نماز کی جگہ کا پاک ہونا
نماز کا وقت ہونا
قبلہ کی طرف رخ کرنا
نماز کی نیت کرنا
چھ فرائض ایسے ہیں جو نماز کے اندر فرض ہیں ۔ انہیں ارکانِ نماز کہتے ھیں
ارکانِ نماز
(1)تکبیر تحریمہ
(2)قیام یعنی کھڑا ہونا،اگر آدمی کھڑے ہونے پر قادر ہو تو بغیر کھڑے ہوئے نماز صحیح نہیں ہوتی ، فرض اور واجب نمازوں میں قیام فرض ہے۔
(3) قراءۃ (تلاوت کرنا)
(4)رکوع
(5)سجود ،یعنی سجدہ کرنا ،ہر رکعت میں دومرتبہ فرض ہے۔
(6) قعدہ اخیرہ مقدار ِ تشہد، یعنی تشہد پڑھنے کے بقدر قعدۂ اخیرہ میں بیٹھنا۔
نماز اوابین کی فضیلت ، وقت اور رکعات
اوّابین عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی "اللہ کی طرف بار بار رجوع کرنے والے" یا "بہت توبہ کرنے والے" ہیں。یہ لفظ "اوّاب" کی جمع ہے。
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات (نفل) ادا کرے اور ان کے درمیان کوئی بری (دنیاوی) بات نہ کرے تو یہ بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گی.
(جامع ترمذی:435)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت نماز ادا کی اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
(جامع ترمذی:435)
مغرب کے فرض اور سنتوں کے بعد جو نوافل پڑھے جاتے ہیں، انہیں ’’صلاۃ الاوابین‘‘ کہتے ہیں، ان کی کم از کم تعداد چھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ہے.
مفتی بہ قول کے مطابق یہ چھ رکعات مغرب کے بعد کی دو رکعات سنتِ مؤکدہ کے علاوہ ہیں.
البتہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ سنتِ مؤکدہ کو ملا کر چھ رکعات ادا کرنے سے بھی یہ فضیلت حاصل ہوجائے گی.
بعض صحیح احادیث میں چاشت کی نماز کو جو سورج چڑھنے کے بعد یعنی جب سورج میں تمازت آجائے اس وقت، پڑھنے کو بھی "اوابین کی نماز" کہا گیا ہے، اور احادیث میں چاشت کے بہت فضائل وارد ہوئے ہیں، مثلًا ایک حدیث میں ہے جو چاشت کے وقت بارہ رکعت ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے سونے کا محل عطا فرمائیں گے،
سجدۂ سہو کے مسائل (حنفی مسلک کی تشریحات کی روشنی میں )
سجدۂ سہو
“ سہو “ کا معنی ھے بھولنا ، نماز میں بھول کی وجہ سے جو کمی پیدا ہو جاتی ہے،اس کمی کو دور کرنے کے لئے شریعتِ مطہرہ نے سجدۂ سہو کرنے کی آجازت دی ھے اس مقصد کے لئے آخری قعدہ میں دو سجدے کئے جاتے ہیں،اس کو"سجدہ سہو" کہا جاتا ہے۔ سجدۂ سہو کر لینے سے نماز مکمل ھو جاتی ھے
نماز میں سجدہ سہو واجب ہونے کے اسباب
نماز میں سجدہ سہو واجب ہونے کے کیا اسباب ھوتے ہیں؟ یہ ھر نمازی کے لئے جاننا بہت ضروری ھے کیونکہ ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جاتا ھے تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ھے اور سجدۂ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز نہیں ھوتی بلکہ نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ھو جاتا ھے
نماز میں سجدہ سہو واجب ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں، ان میں سے جب بھی کوئی سبب پایا جائے تو سجدۂ سہو واجب ہوجائے گا۔ یعنی نماز میں بھول کر درج ذیل غلطیاں کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔
[۱] ترک واجب ۔[۲] تقدیم واجب ۔[۳]تاخیر واجب ۔[۴]تبدیل واجب ۔[۵]تکرار واجب [۶] تقدیم فرض۔ [۷] تاخیر فرض۔[۸] تکرار فرض۔
:[۱] ترکِ واجب :
اس کا مطلب یہ ہےکہ نماز کے واجبات میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ واجب کسی شخص سے بھول کر رہ جائیں . مثلا فرض کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورت فاتحہ رہ گئی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۲] تقدیمِ واجب:
اس کا مطلب ہےکہ کسی واجب کو اس کے اصلی وقت سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ مثلا فرض نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے کوئی سورت پڑھ لی ، تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۳]تاخیرِ واجب:
اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو اس کےاصلی مقام کے بعد ادا کرنا۔ مثلا کسی شخص نے سورۃ فاتحہ کو رکوع میں پڑھ لیا حالانکہ اس کا مقامِ اصلی قیام تھا،تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۴]تبدیلِ واجب:
اس کا مطلب ہےکہ کسی ایک واجب کو دوسرے واجب سے تبدیل کرنا۔ مثلا امام نے جہری نماز میں سری قرآت کر دی یا سری نماز میں جہرا قرآت کر دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۵] تکرارِ واجب؛
اس کا مطلب ہے کہ کسی واجب کو ایک سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا پہلے قعدہ میں ایک مرتبہ کی بجائے دو مرتبہ "التحیات" پڑھ لی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۶] تقدیمِ فرض:
اس کا مطلب ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے پہلے اداکرنا۔ مثلارکوع چھوڑ کر سجدہ کیا پھر سجدہ سے واپس آکر رکوع کردیا اور دوبارہ سجدہ کیا تو آخر میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۷]تاخیر فرض:
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرض کو اس کے اصلی مقام سے موخر کرنا۔مثلا ایک ہی سجدہ کیا پھر سلام سے پہلے یاد آیا تو دوسرا سجدہ کر دیا تو اب سجدہ سہو واجب ہوگا۔
[۸]تکرار فرض:
اس کا مطلب یہ ہےکہ کسی فرض کو اس کی مقررہ حد سے زیادہ مرتبہ ادا کرنا۔ مثلا بھول کر دو رکوع کر دیے یا بھول کر تین سجدے کر دیے تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔
سجدہ سہو کرنے کا مکمل طریقہ
سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد (درود شریف اور دعا پڑھے بغیر) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ سجدہ سھو کرنے کے اس کے علاوہ اور بھی طریقے ھیں۔ تاھم نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔
سجدۂ سہو کے بعض مسائل
اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔
سجدہ سہو واجب ہونے کے بعد ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کو ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائے اور اس کو نہیں کیا تو ایسی نماز کا وقت کے اندر اعادہ واجب ہوتا ہے
اگر کسی شخص کو یہ گمان تھا کہ اس پر سجدہ سہو واجب ھو گیا ہے اور اس نے سجدہ سہو کرلیا بعد میں اُسے پتہ چلا کہ اس پر سجدہ سہو نہیں تھا تو اس کی نماز بلاکراہت صحیح ہوگئی ھے، اعادہ کی ضرورت نہیں
فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے ۔ سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی لہٰذا نماز دوبارہ پڑھے اور سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ ، آمین، تکبیرات انتقال اور تسبیحات رکوع و سجود کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں ھے بلکہ نماز ہو گئی مگر اعادہ مستحب ہے ۔سہوا ً ترک کیا ہو یا قصداً۔
کسی واجب کو جان بوجھ کر ترک کر دیا تو سجدہ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوگی بلکہ اُس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔اسی طرح اگر بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دیا اور سجدہ سہو نہیں کیا تب بھی نماز کا دو بارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ ایک نماز میں کئی واجب بھول سے چھوٹ جائیں تو اس صورت میں بھی سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں۔
چار رکعت والی فرض یا وتر میں قعدۂ اولیٰ بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو رہا تھا کہ یاد آگیا تو حکم یہ ہے کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو۔لوٹ آئے اور سجدۂ سہو نہیں اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں سجدۂ سہو کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو پھر سجدۂ سہو کرے ، نماز ہو جائے گی۔ مگر گناہگار ہوگا۔ لہٰذا حکم ہے کہ اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو واپس نہیں آئے۔
اگر سنت اور نفل کا قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو کیونکہ سنت اور نفل کا ہر قعدہ ،قعدۂ اخیرہ ہے یعنی فرض ہے،اس لئے اگر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرلے۔
اگر قعدۂ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد بھول کر کھڑا ہو گیا تو جب تک اُس رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہو تو واپس لوٹ آئے اور دوبارہ التحیات پڑھے بغیر سجدہ سہو کرے، پھر التحیات درود شریف وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے۔
قعدۂ اولیٰ میں بھول کر درود شریف بھی پڑھ دیا تو اگر "اللھم صل علی محمد" یا اللھم صل علی سیدنا" تک یا اس سے زیادہ پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر اس سے کم پڑھا تو سجدہ سہو نہیں ھے مگر یہ حکم صرف فرض، وتر اور ظہر وجمعہ کی پہلی چار رکعت والی سنتوں کے لئے ہے،باقی دوسرے سنتوں اور نفل نمازوں کے ہر قعدہ میں درود شریف بھی پڑھنے کا حکم ہے۔
جس پر سجدہ سہو واجب تھا لیکن بھول کر سجدہ سہو نہیں کیا اور نماز ختم کرنے کی نیت سے سلام پھیر دیا تو سلام پھیرنے کے فورا بعد یا د آگیااور ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جو نماز کے منافی ہو تو سجدہ سہو کرے اور تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دے نماز ہو جائے گی،لیکن اگر سلام پھیر نے کے بعد کوئی بات کر لی یا کھڑا ہوگیا پھر یاد آیا تو اب پھر سے نماز پڑھے۔
سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور کر لیا تو تنہا نماز پڑھنے کی صورت میں ایسا کیا تو نماز ہو گئی اور اگر امام نے ایسا کیا تو امام اور وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک امام کے ساتھ پڑھ رھے تھے ان سب کی نماز ہوگئی،البتہ مسبوق کی نماز میں اختلاف ہے ، فساد اورعدم فساد دونوں قول منقول ہیں ۔ ایسی صورت میں مسبوق کا احتیاطا نماز کا اعادہ کرنا بہتر ہے تاھم اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔ امام کے ساتھ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں مسبوق کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سجدہ سہو کا سلام نہ پھیرے، البتہ سجدے اور تشہد میں امام کی متابعت کرے۔
نماز میں شک ہونے کی صورت میں کہ سجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟ تو واضح رھے کہ شک کی سب صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہے لیکن غلبۂ ظن میں نہیں مگر جبکہ سوچنے میں ایک رکن کا وقفہ ہوگیا تو سجدۂ سہو واجب ہو گیا۔
اگر مفرد یا امام چوتھی رکعت کے قعدہ میں بیٹھا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے غلطی سے کھڑا ہوگیا تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ جب تک وہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرلے قعدہ کی طرف واپس لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا ہو تو اب اس کے ساتھ چھٹی رکعت بھی ملادے اور آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے نماز ہوجائے گی، چار رکعت فرض اور دو نفل ہوجائے گی۔
اور اگر مفرد یا امام نے چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا تھا اور اس کے بعد پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے واپس قعدہ میں آجائے، اور سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرلے، اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا ہو تو اب فرض نماز باطل ہوگئی، اب اس نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے۔
اللہ پاک ھمیں عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے
آمین یا رب العالمین